قربانی کرو، سنت ابراہیمی ادا کرو! فائدہ ہی فائدہ!!

مخصوص جانور کو مخصوص ایام میں اللہ تبارک و تعالیٰ کاقُرب حاصل کرنے کے لئے ذَبح کرنے کو قربانی کہتے ہیں۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کی سنّت ہےجو اس اُمّت کے لئے بھی باقی رکھی گئی ہے۔ قراٰنِ کریم میں اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو قربانی کرنے کا حکم دیا ہے۔ حکمِ شریعت پر عمل کرتے ہوئے خوش دِلی کے ساتھ قربانی کرنے کے جہاں اُخروی فوائد ہیں وہیں دنیامیں بھی اس کے بہت سے فائدے ہیں۔

روزگار کے مواقع: مویشی منڈیوں میں بیچنے کے لئے بہت سے لوگ اپنے گھروں ، باڑوں یاکیٹل فارمز میں جانور پالتے ہیں۔ جانوروں کی دیکھ بھال کے لئے کثیر افراد کو ملازم رکھا جاتا ہے جن کا روزگار قربانی کی سنّت کی برکت سے چلتا ہے۔ ان جانوروں کو مویشی منڈیوں تک پہنچانے کے لئے مختلف گاڑیاں اور کنٹینر کرائے پر لئے جاتے ہیں جن سے ہزاروں افراد روزی کماتے ہیں۔ جانور لے جانے والی گاڑیاں مختلف مقامات پر ٹول ٹیکس ادا کرتی ہیں اور پھر مویشی منڈی میں بھی جگہ کے حساب سے کرایہ دیا جاتا ہے جس سے ملکی خزانے کو فائدہ ہوتا ہے۔ ملک بھر میں موجود مویشی منڈیوں سے بھی مجموعی طور پر لاکھوں افراد کے گھر کا چولہا جلتا ہے۔ منڈیوں میں موجود کھانے پینے کے اسٹال اور ہوٹل ، چائے ، پانی ، چارہ ، جھول وغیرہ بیچنے والے قربانی کی سنّت کی بدولت اپنی روزی کماتے ہیں۔ منڈیوں سے جانور خرید کر گھر لانے کے لئے جس گاڑی کو استعمال کیا جاتا ہے اس کے مالک کا روزگار بھی اس سے چلتا ہے۔ ان گاڑیوں میں جن پیٹرول پمپ سے پیٹرول ڈلوایا جاتا ہے ان کا کام بھی اس سے وابستہ ہوتا ہے۔ قربانی کے ایام میں شہروں میں جگہ جگہ چارہ بیچنے کے اسٹال لگائے جاتے ہیں جن سے ہزاروں افراد کا روزگار چلتا ہے۔ کئی مقامات پر جانوروں کی حفاظت کے لئے چوکیدار بھی رکھے جاتے ہیں۔ جانور بیمار ہوجائے تو ویٹرنری ڈاکٹر کو بلوایا جاتا ہے۔ قربانی کے دن آنے پر ہزاروں قصاب جانور ذبح کرنے اور گوشت قیمہ وغیرہ بنانے کا کام کرتے ہیں۔ قربانی کے گوشت سے مختلف ڈشیں بنانے کے لئے ہوٹلوں وغیرہ میں خاص اہتمام ہوتا ہے۔ قربانی کی کھالوں سے مختلف چیزیں بنائی جاتی ہیں اور انہیں دوسرے ملکوں میں برآمد (ایکسپورٹ)بھی کیا جاتا ہے جس سے ملک کو قیمتی زَرِمُبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ الغرض جانور کے پیدا ہونے سے لے کر قربان ہونے تک قربانی کی سنّت کی برکت سے لاکھوں لاکھ افراد کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور ملکی معیشت کو بھی بے پناہ فائدہ ہوتا ہے۔

غریبوں کا فائدہ:قربانی کرنے کے بعد کئی خوش نصیب لوگ اپنے رشتہ داروں ، دوستوں اور غریبوں مسکینوں کوبھی گوشت پہنچاتے ہیں جس کی بدولت ان کے گھر میں بھی گوشت پکتا ہے۔  

دینی مدارس کا فائدہ:خوش نصیب مسلمان اپنی قربانی کی کھالیں دینی مدارس و جامعات کو دیتے ہیں جنہیں بیچ کر کئی مہینےکے اخراجات جمع ہوجاتے ہیں۔ یوں قربانی کی سنّت پر عمل کرنا علمِ دین کی اِشاعت میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

اے عاشقانِ رسول!آپ نے قربانی کی سنّت پر عمل کے چند دنیوی فوائد پڑھے۔ اگر ہمیں یہ دُنیوی فوائد معلوم نہ بھی ہوں تو اللہ پاک اور اس کے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ہمیں قربانی کرنا چاہئے۔ قربانی کی اہمیت سے متعلق فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ملاحظہ فرمائیے : جس شخص میں قُربانی کرنے کی وُسعَت ہو پھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہرگز ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔ (ابن ماجہ) سرکار دوعالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کیا گیا : یارسولَ اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ ارشادفرمایا : تمہارے باپ ابراہیم کی سنّت ہے۔
جس نے خوش دِلی سے طالبِ ثواب ہو کر قربانی کی ، تو وہ قربانی اس کے لئے جہنّم کی آگ سے حِجاب یعنی روک ہو جائے گی قربانی ایک ایسی عبادت ہے کہ جس کا بدل نہیں ہے آج بہت سے جدید روشن خیال لوگ کہتے ہیں کہ قربانی کے جانوروں کی قیمت کسی غریب کو دیا جائے تو کیا حرج ہے انہیں خود اپنے چہرے پر تھپڑ مارکر اپنے آپ سے پوچھنا چاہئیے کہ ہم اپنے بچوں اور بچیوں کی شادی میں جتنی آتش بازیاں کرڈالتے ہیں اور جتنی سجاوٹیں کراتے ہیں جتنے مہنگے مہنگے ٹینٹ اور شامیانے لگواتے ہیں آخر آتش بازی نہ کریں، سجاوٹ نہ کرائیں، بہت مہنگے شامیانے نہ لگوائیں تو بھی بچوں اور بچیوں کی شادی ہوسکتی ہے باقی پیسوں سے غریبوں کی مدد کردو تو کیا حرج ہے صحیح بات یہ ہے کہ قربانی کے دنوں میں وسعت ہوتے ہوئے قربانی نہ کرکے اس کے بدلے میں دین کا بڑا سے بڑا کام کردینا بھی اللہ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوگا قربانی کا مقام یہ ہے کہ حج کے ارکان میں شامل کردیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں