اہم خبریںبین ریاستی خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

قربانی چھوڑ کر,غریبوں کی مدد کا مشورہ گمراہ کن ہے

تحریر :محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

………………………………



قربانی کے ایام میں اللہ تعالی کو سب سے زیادہ جو عمل محبوب ہے ,وہ قربانی ہے ۔ اگر کوئی شخص صاحب نصاب ہوکر ,ان ایام میں قربانی نہ کرے اور اس کے بدلہ میں صدقہ اور خیرات کرے ,تو اس کا یہ عمل کار ثواب نہیں سمجھا جائے گا, بلکہ اگر وہ یہ سوچ کر ایسا کرتا کہ جانور کو ذبح کرنا فضول ہے, اس کے بدلہ میں بہتر یہ ہے کہ ان پیسوں سے براہ راست غریبوں کی اور ضرورت مندوں کی مدد کر دی جائے, تو اس کا یہ عمل,فکر اور سوچ گمراہ کن اور خلاف شریعت ہے، دین مروت کے خلاف ایک سازش ہے، نیز سنت خلیلی اور اسوئہ براہیمی کی توہین و استہزاء ہے ۔
ہجرت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک حیات سے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ قربانی کی اور صاحب نصاب صحابئہ کرام کو اس کا مکلف اور پابند بنایا اور استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والوں کے لئے یہ وعید اور وارنگ بھی دی کہ صاحب حیثیت ہونے کے باوجود جو قربانی نہ کرے وہ ہرگز ہرگز میرے مصلی یعنی عید گاہ کے قریب نہ پھٹکے ۔

( میرے خیال میں یہ وارنگ اصلا آنے والے ان نام نہاد مسلمانوں اور اس زمانہ کے منافقین کے لئے تھی ورنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے لئے یہ بعید تھا کہ وہ صاحب نصاب ہو کر قربانی نہ کرتے ہوں)
ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں اچانک آبادی دوگنی ہوگئی، انصار کے برابر وہاں مہاجرین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آباد ہوئے ،مسلمانوں کی معیشت اور مالی پوزیشن بہت خراب تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین کے درمیان اس مسئلہ کے حل کے لئے مواخات کا رشتہ قائم فرمایا ، دس سالہ مدنی دور میں مدینہ میں سخت مالی بحران اور مشکلات کا بھی آپ کو سامنا کرنا پڑا ،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی صحابہ کرام کو یہ مشورہ نہیں دیا کہ چلو اس سال قربانی کا عمل ترک کردو اور اس کے بدلہ میں اس پیسہ سے نادار،ضرورت مند اور محتاج مسلمانوں کی مدد کردو یا مجاہدین پر خرچ کردو ۔


آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ قربانی کے دنوں میں ایک ہی قربانی کی، اس وقت تک وسعت و گنجائش اتنی ہی تھی، لیکن حجة الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹوں کو راہ خدا میں قربان کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی کہ میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی میری طرف سے قربانی کرتے رہنا ،سو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس وصیت اور عہد کو نبھایا ۔ ان تمام تفصیلات سے یہ بات عیاں اور بیاں ہو گئی، کہ لاکھ آسمانی افات بھی آجائے لیکن قربانی کا عمل اور شعار ترک کرکے اس کی قطعا گنجائش نہیں ہے کہ اس کے بدلے ان پیسوں سے ضرورت مندوں کی مدد کر دی جائے ۔ بلکہ ضرورت مندوں ( اور سیلاب زدگان) کی مدد دوسری رقم سے کرنا ایسے موقع پر ضروی اور واجب ہے ۔ مسلمان اپنا یہ مزاج بنائے کہ ہم آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں جب بھی امت پر اور انسانیت پر مشکل گھڑی آئے گی، ہم دامے درمے قدمے اور سخنے ان کی ضرور مدد کریں ۔


امت میں ایک طبقہ ترقی پسند ،روشن خیال اور نام نہاد لوگوں کا ہے ، یہ وہ لوگ ہیں ، جو شریعت پر عقل کو مقدم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ،جو اپنی رائے کو شریعت پر فوقیت دینا چاہتے ہیں اور روح شریعت اور اسرار شریعت کو سمجھے بغیر عقل و قیاس کو حاکم بنانا چاہتے ہیں ،خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ نااہل اور جاہل لوگ فتوی دینا شروع کر دیں گے خود بھی ڈوبیں کے اور دوسروں کو بھی لے ڈوبیں گے ۔
کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ کیرلا میں بھاینک سیلاب آیا تو بعض حلقوں سے یہ آواز آنے لگی کہ مسلمان اس سال قربانی نہ کرکے اس پیسے سے ان سیلاب زدگان کی مدد کریں ۔ یہ انتہائی گمراہ کن اعلان تھا اور ہے کہ ایک شعار کو چھوڑنے کا مشورہ دیا جانے لگا ۔ کل حج کے بارے میں بھی یہ آواز اٹھنے لگے گی، کہ اس سال ملک میں سخت سیلاب ہے یا آسمانی آفات آئی ہیں اس لئے مسلمان اس سال حج نہ کرکے ان رقوم سے مصیبت زدگان کی مدد کریں ۔
ایسے وقت میں یقینا ان پریشان حال لوگوں کی مدد مسلمانوں پر بلکہ سارے ہی لوگوں پر ضروری ہے، لیکن کسی رکن اور شعار کو ترک کرکے نہیں ۔ بلکہ اس سے ہٹ کر مدد کرنا ضروری ہے الحمد للہ لوگ مدد کرتے ہیں ۔ حکومتیں مدد کرتی ہیں ۔ بہت سی تنظیمیں اور جمعیتں اسی لئے قائم ہوئی ہیں ۔ جمعیت علمائے ہند ،امارت شرعیہ اور جماعت اسلامی کے ایسے موقع پر جو کارنامے ہوتے ہیں وہ آب زر سے لکھنے کے لائق ہے ۔ ہم مسلمانوں کی خاص طور پر یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ان تنظیموں اور ان کے افراد پر بھروسہ کریں اور ان کے توسط سے ان ضرورت مندوں کی مدد کریں ۔ ہاں یہ کرسکتے ہیں کہ اس سال ہم نئے جوڑے نہیں سلائیں گے ۔ فرنیچر نہیں بدلیں گے ۔ سال میں عمرہ پر عمرہ نہ کرکے ان پیسوں سے سیلاب زدگان کی مدد کر دیں گے ۔


ایک اور بات کی جانب اشارہ کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا اور گوشت کھانا ہی نہیں ہے اس سے خدا کی مرضی اور خوشنودی حاصل ہوتی ہے وہیں اس سے لاکھوں لوگوں کی معیشت اور روز گار بھی جڑا ہوا ہے ۔ لاکھوں غریبوں کے گھر میں سال بھر بقرعید کے جانور کو فرخت کرکے چولھا جلتا ہے ۔ اربوں لوگوں کا مفاد اس سے وابستہ ہے ۔ حکومت کو بھی اس سے کڑرووں کا فائدہ ہوتا ہے ۔ فیکٹریاں اس سے آباد رہتی ہیں ۔ قربانی کا معاشی فائدہ کتنا ہے اس کا اندازہ اس رپوٹ سے لگایا جاسکتا ہے ۔
دو سال پہلے کی رپورٹ ہے کہ عید الاضحیٰ پر ایک اندازے کے مطابق 4 کھرب روپے سے زیاده کا مویشیوں کا کاروبار ہوا۔



تقریبأ 23 ارب روپے قسائیوں نے مزدوری کے طور پر کماۓ,

3 ارب روپے سے زیاده چارے کے کاروبار نے کماۓ.

نتیجه:
غریبوں کو مزدوری ملی کسانوں کا چاره فروخت ہوا.

دیهاتیوں کو مویشیوں کی اچھی قیمت ملی
گاڑیوں میں جانور لانے لے جانے والوں نے اربوں روپے کا کام کیا

بعد ازاں غریبوں کو کھانے کے لیۓ مهنگا گوشت مفت میں ملا,

کھالیں کئی سو ارب روپے میں فروخت هوئی هیں,

چمڑے کی فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کو مزید کام ملا,

یه سب پیسه جس جس نے کمایا هے وه اپنی ضروریات پر جب خرچ کرے گا تو نه جانے کتنے کھرب کا کاروبار دوباره هو گا………..
یه قربانی غریب کو صرف گوشت نهیں کھلاتی, بلکه آئنده سارا سال غریبوں کے روزگار اور مزدوری کا بھی بندوبست هوتا هے,
دنیا کا کوئی ملک کروڑوں اربوں روپے امیروں پر ٹیکس لگا کر پیسه غریوں میں بانٹنا شروع کر دے، تب بھی غریبوں اور ملک کو اتنا فائده نهیں هونا جتنا الله کے اس ایک حکم کو ماننے سے ایک مسلمان ملک کو فائده هوتا هے,
اکنامکس کی زبان میں سرکولیشن آف ویلتھ کا ایک ایسا چکر شروع هوتا هے که جس کا حساب لگانے پر عقل دنگ ره جاتی هے..
کیا آسمانی آفات اور سخت مشکل معاشی حالات یا کوئی دینی اور شرعی ضرورت کی بنا پر وقتی طور پر قربانی جیسی عبادت کو چھوڑ کر اس رقم اور پیسے سے کیا ان انتہائی سخت ضرورت مندوں کو جو آسمانی یا زمینی آفات میں پھنس گئے ہیں ان پر خرچ کیا جاسکتا ہے ؟ یا کسی دینی تقاضے پر مصلحتا اس کو خرچ کیا جاسکتا ہے ؟ جمہور علماء تو اس کی اجازت نہیں دیتے کہ قربانی جیسی عبادت کو چھوڑ کر کسی اور مد میں اس کی رقم کو اگر چہ سخت ضرورت ہی کیوں نہ ہو اس کو خرچ کیا جائے ۔ البتہ بعض علماء نے وقتی طور پر مصلحتا اس کی اجازت دی ہے لیکن ان فتاویٰ کو قبولیت حاصل نہیں ہوئی ۔


۱۹۱۲ء میں جب ترکی میں خلافت عثمانیہ کو بچانے کے لئے سخت مالی امداد کی ضرورت تھی ، دواؤں کی عدم دستیابی کی بنا پر بھی لوگوں کی جانیں جارہی تھیں، تو اس وقت ہندوستانی مسلمانوں نے بھی ترکی کی ہر اعتبار سے مدد کی، ڈاکٹر مختار انصاری طبی وفد کے ساتھ ترکی کی محاذ پر بھیجے گئے تھے ۔ اتفاق سے وہ موقع بھی عید قرباں کے قریب کا تھا ،علامہ شبلی نعمانی رح نے اس موقع پر عید الاضحی میں قربانی کی رقم کو ترکوں کی مدد کے لئے ارسال کرنے کے جواز کا فتوی دیا تھا اور اس کے لئے باقاعدہ فتویٰ مرتب کرایا تھا، انہوں بے اس سلسلہ میں فقہ حنفی کی کتاب ہدایہ سے مدد لی ۔( مولانا نے اپنی تائید میں ہدایہ کی یہ عبارت پیش کی تھی ۔ *والتضحیة فیھا افضل من التصدق بثمن الاضحیة* یعنی عید الاضحی کی قربانی کے دنوں میں قربانی کی قیمت صدقہ کرنے سے قربانی بہتر ہے اس عبارت کا مقصود یہ ہے کہ اگر قربانی کے جانور کی قیمت نقد خیرات کردی جائیں تو وہ اس صدقہ کا بھی ثواب ہوگا ،مگر قربانی کی سنت کے ثواب سے محرومی رہے گی ۔ جیسا کہ اس کے آگے کی عبارت میں یہ تفصیل موجود ہے *لانھا تقع واجبة او سنة و التصدق تطوع محض فتفضل علیہ)
اس فتوی پر مولانا عبد اللہ ٹونکی اور مولانا عبد الباری فرنگی محلی نے تائید کی اور پھر اس کو شائع کیا ۔ اور ہزاروں روپئے بھی جمع ہوئے ۔ لیکن جمہور علماء نے خلافت کی بقا کے لئے علامہ شبلی نعمانی رح کی دردمندی، اشک سوئی،ملی غیرت اسلامی حمیت اور ان کی فکر مندی نیز ان کے مذھبی جوش کا تو اعتراف کیا اور اس سے متاثر ہوئے لیکن ان کے اس فتوی کو قبول نہیں کیا اور اس پر اعتراض جتایا ۔ مولانا کے اس فتویٰ پر اعتراض کرنے والوں میں مولانا ظفر علی خان مرحوم پیش پیش تھے ۔ علامہ شبلی نعمانی رح اور مولانا ظفر علی خان صاحب مرحوم کے درمیان مراسلت ( خط و کتابت ) بھی ہوئی ۔ علامہ شبلی نعمانی رح نے مولانا ظفر علی خاں کو اپنے موقف کی تائید میں یہ خط بھی لکھا تھا ۔
۰۰ عزیزی مولوی ظفر علی خاں صاحب دام قدرہ السلام علیکم میں نے جو فتوی لکھا ،اس سے علمائے فرنگی محل بھی متفق ہیں اور مولوی عبد الباری صاحب کا خط بھی شائع ہو چکا ہے ۔ ہدایہ میں اس کا جزئیہ موجود ہے، البتہ ہدایہ میں صرف جواز ہے اور میں نے افضلیت کا فتوی دیا ہے ،اس قدر میرا اجتھاد ہے ۔ بھائی ! ترکوں کی اعانت اس وقت فرض عین ہے اور قربانی کا درجہ واجب سے زیادہ نہیں، آپ کہتے کہ سنت ابراہیمی موقوف نہ ہو،ہاں وہی سنت مقصود ہے ۔ فرق یہ ہے کہ آپ اس سنت کو لیتے ہیں جس کا مینڈھے پر عمل ہوا اور میں وہ پیش نظر رکھتا ہوں جو اسمعیل (علیہ السلام) پر مقصود تھی ۔ کیا ترکوں کی جان مینڈھے سے بھی کم ہے ؟


(حیات شبلی ص ۴۵۴ بحوالہ ندوہ العلماء کا فکری و ملی شعور)
اس تحریر سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ مولانا کا موقف بظاہر کتنا مضبوط اور مستحکم تھا لیکن علامہ شبلی نعمانی رح کی اس قدر درد مندی ۔ فکر سوزی اور دینی حمیت کے باوجود جمہور علماء نے ان کے اس موقف کو نہیں سراہا اور کھل کر ان کی تائید نہیں کی ۔ کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ اگر ہدایہ کی اس عبارت کی روشنی میں علامہ کی تائید ہوئی تو آگے بہت سے فتنے کے دروازے کھل سکتے ہیں اور اسلام کے بہت سے شعار اور ارکان کے بارے میں وقتی طور پر اس سے رکنے کا جواز فراہم کرنا ہوگا ۔
جب خلافت عثمانیہ جیسے حساس اور ملی مسئلے میں اس کے جواز کی اجازت نہیں دی گئی، تو کسی علاقہ اور صوبہ میں آئے طوفان سیلاب اور آسمانی افت کی بنیاد پر بھلا اس کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے کہ قربانی کے عمل کو ترک کرکے اس کی قیمت سے سیلاب زدگان یا ضرورت مندوں کی مدد کی جائے ؟ اس کے لئے مسلمانوں کے پاس بہت سے مدات ہیں جن سے وہ ان مصیبت زدگان کی مدد کر سکتے ہیں ۔



قربانی کے ایام میں اللہ تعالی کو سب سے زیادہ جو عمل محبوب ہے ,وہ قربانی ہے ۔ اگر کوئی شخص صاحب نصاب ہوکر ,ان ایام میں قربانی نہ کرے اور اس کے بدلہ میں صدقہ اور خیرات کرے ,تو اس کا یہ عمل کار ثواب نہیں سمجھا جائے گا, بلکہ اگر وہ یہ سوچ کر ایسا کرتا کہ جانور کو ذبح کرنا فضول ہے, اس کے بدلہ میں بہتر یہ ہے کہ ان پیسوں سے براہ راست غریبوں کی اور ضرورت مندوں کی مدد کر دی جائے, تو اس کا یہ عمل,فکر اور سوچ گمراہ کن اور خلاف شریعت ہے، دین مروت کے خلاف ایک سازش ہے، نیز سنت خلیلی اور اسوئہ براہیمی کی توہین و استہزاء ہے ۔
ہجرت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک حیات سے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ قربانی کی اور صاحب نصاب صحابئہ کرام کو اس کا مکلف اور پابند بنایا اور استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والوں کے لئے یہ وعید اور وارنگ بھی دی کہ صاحب حیثیت ہونے کے باوجود جو قربانی نہ کرے وہ ہرگز ہرگز میرے مصلی یعنی عید گاہ کے قریب نہ پھٹکے ۔ ( میرے خیال میں یہ وارنگ اصلا آنے والے ان نام نہاد مسلمانوں اور اس زمانہ کے منافقین کے لئے تھی ورنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے لئے یہ بعید تھا کہ وہ صاحب نصاب ہو کر قربانی نہ کرتے ہوں)
ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں اچانک آبادی دوگنی ہوگئی، انصار کے برابر وہاں مہاجرین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آباد ہوئے ،مسلمانوں کی معیشت اور مالی پوزیشن بہت خراب تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین کے درمیان اس مسئلہ کے حل کے لئے مواخات کا رشتہ قائم فرمایا ، دس سالہ مدنی دور میں مدینہ میں سخت مالی بحران اور مشکلات کا بھی آپ کو سامنا کرنا پڑا ،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی صحابہ کرام کو یہ مشورہ نہیں دیا کہ چلو اس سال قربانی کا عمل ترک کردو اور اس کے بدلہ میں اس پیسہ سے نادار،ضرورت مند اور محتاج مسلمانوں کی مدد کردو یا مجاہدین پر خرچ کردو ۔


آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ قربانی کے دنوں میں ایک ہی قربانی کی، اس وقت تک وسعت و گنجائش اتنی ہی تھی، لیکن حجة الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹوں کو راہ خدا میں قربان کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی کہ میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی میری طرف سے قربانی کرتے رہنا ،سو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس وصیت اور عہد کو نبھایا ۔ ان تمام تفصیلات سے یہ بات عیاں اور بیاں ہو گئی، کہ لاکھ آسمانی افات بھی آجائے لیکن قربانی کا عمل اور شعار ترک کرکے اس کی قطعا گنجائش نہیں ہے کہ اس کے بدلے ان پیسوں سے ضرورت مندوں کی مدد کر دی جائے ۔ بلکہ ضرورت مندوں ( اور سیلاب زدگان) کی مدد دوسری رقم سے کرنا ایسے موقع پر ضروی اور واجب ہے ۔ مسلمان اپنا یہ مزاج بنائے کہ ہم آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں جب بھی امت پر اور انسانیت پر مشکل گھڑی آئے گی، ہم دامے درمے قدمے اور سخنے ان کی ضرور مدد کریں ۔


امت میں ایک طبقہ ترقی پسند ،روشن خیال اور نام نہاد لوگوں کا ہے ، یہ وہ لوگ ہیں ، جو شریعت پر عقل کو مقدم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ،جو اپنی رائے کو شریعت پر فوقیت دینا چاہتے ہیں اور روح شریعت اور اسرار شریعت کو سمجھے بغیر عقل و قیاس کو حاکم بنانا چاہتے ہیں ،خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ نااہل اور جاہل لوگ فتوی دینا شروع کر دیں گے خود بھی ڈوبیں کے اور دوسروں کو بھی لے ڈوبیں گے ۔
کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ کیرلا میں بھاینک سیلاب آیا تو بعض حلقوں سے یہ آواز آنے لگی کہ مسلمان اس سال قربانی نہ کرکے اس پیسے سے ان سیلاب زدگان کی مدد کریں ۔ یہ انتہائی گمراہ کن اعلان تھا اور ہے کہ ایک شعار کو چھوڑنے کا مشورہ دیا جانے لگا ۔ کل حج کے بارے میں بھی یہ آواز اٹھنے لگے گی، کہ اس سال ملک میں سخت سیلاب ہے یا آسمانی آفات آئی ہیں اس لئے مسلمان اس سال حج نہ کرکے ان رقوم سے مصیبت زدگان کی مدد کریں ۔
ایسے وقت میں یقینا ان پریشان حال لوگوں کی مدد مسلمانوں پر بلکہ سارے ہی لوگوں پر ضروری ہے، لیکن کسی رکن اور شعار کو ترک کرکے نہیں ۔ بلکہ اس سے ہٹ کر مدد کرنا ضروری ہے الحمد للہ لوگ مدد کرتے ہیں ۔ حکومتیں مدد کرتی ہیں ۔ بہت سی تنظیمیں اور جمعیتں اسی لئے قائم ہوئی ہیں ۔ جمعیت علمائے ہند ،امارت شرعیہ اور جماعت اسلامی کے ایسے موقع پر جو کارنامے ہوتے ہیں وہ آب زر سے لکھنے کے لائق ہے ۔ ہم مسلمانوں کی خاص طور پر یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ان تنظیموں اور ان کے افراد پر بھروسہ کریں اور ان کے توسط سے ان ضرورت مندوں کی مدد کریں ۔ ہاں یہ کرسکتے ہیں کہ اس سال ہم نئے جوڑے نہیں سلائیں گے ۔ فرنیچر نہیں بدلیں گے ۔ سال میں عمرہ پر عمرہ نہ کرکے ان پیسوں سے سیلاب زدگان کی مدد کر دیں گے ۔
ایک اور بات کی جانب اشارہ کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا اور گوشت کھانا ہی نہیں ہے اس سے خدا کی مرضی اور خوشنودی حاصل ہوتی ہے وہیں اس سے لاکھوں لوگوں کی معیشت اور روز گار بھی جڑا ہوا ہے ۔ لاکھوں غریبوں کے گھر میں سال بھر بقرعید کے جانور کو فرخت کرکے چولھا جلتا ہے ۔ اربوں لوگوں کا مفاد اس سے وابستہ ہے ۔ حکومت کو بھی اس سے کڑرووں کا فائدہ ہوتا ہے ۔ فیکٹریاں اس سے آباد رہتی ہیں ۔ قربانی کا معاشی فائدہ کتنا ہے اس کا اندازہ اس رپوٹ سے لگایا جاسکتا ہے ۔
دو سال پہلے کی رپورٹ ہے کہ عید الاضحیٰ پر ایک اندازے کے مطابق 4 کھرب روپے سے زیاده کا مویشیوں کا کاروبار ہوا۔

تقریبأ 23 ارب روپے قسائیوں نے مزدوری کے طور پر کماۓ,

3 ارب روپے سے زیاده چارے کے کاروبار نے کماۓ.

نتیجه:
غریبوں کو مزدوری ملی کسانوں کا چاره فروخت ہوا.

دیهاتیوں کو مویشیوں کی اچھی قیمت ملی
گاڑیوں میں جانور لانے لے جانے والوں نے اربوں روپے کا کام کیا

بعد ازاں غریبوں کو کھانے کے لیۓ مهنگا گوشت مفت میں ملا,

کھالیں کئی سو ارب روپے میں فروخت هوئی هیں,

چمڑے کی فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کو مزید کام ملا,

یه سب پیسه جس جس نے کمایا هے وه اپنی ضروریات پر جب خرچ کرے گا تو نه جانے کتنے کھرب کا کاروبار دوباره هو گا………..
یه قربانی غریب کو صرف گوشت نهیں کھلاتی, بلکه آئنده سارا سال غریبوں کے روزگار اور مزدوری کا بھی بندوبست هوتا هے,
دنیا کا کوئی ملک کروڑوں اربوں روپے امیروں پر ٹیکس لگا کر پیسه غریوں میں بانٹنا شروع کر دے، تب بھی غریبوں اور ملک کو اتنا فائده نهیں هونا جتنا الله کے اس ایک حکم کو ماننے سے ایک مسلمان ملک کو فائده هوتا هے,
اکنامکس کی زبان میں سرکولیشن آف ویلتھ کا ایک ایسا چکر شروع هوتا هے که جس کا حساب لگانے پر عقل دنگ ره جاتی هے..
کیا آسمانی آفات اور سخت مشکل معاشی حالات یا کوئی دینی اور شرعی ضرورت کی بنا پر وقتی طور پر قربانی جیسی عبادت کو چھوڑ کر اس رقم اور پیسے سے کیا ان انتہائی سخت ضرورت مندوں کو جو آسمانی یا زمینی آفات میں پھنس گئے ہیں ان پر خرچ کیا جاسکتا ہے ؟ یا کسی دینی تقاضے پر مصلحتا اس کو خرچ کیا جاسکتا ہے ؟ جمہور علماء تو اس کی اجازت نہیں دیتے کہ قربانی جیسی عبادت کو چھوڑ کر کسی اور مد میں اس کی رقم کو اگر چہ سخت ضرورت ہی کیوں نہ ہو اس کو خرچ کیا جائے ۔ البتہ بعض علماء نے وقتی طور پر مصلحتا اس کی اجازت دی ہے لیکن ان فتاویٰ کو قبولیت حاصل نہیں ہوئی ۔
۱۹۱۲ء میں جب ترکی میں خلافت عثمانیہ کو بچانے کے لئے سخت مالی امداد کی ضرورت تھی ، دواؤں کی عدم دستیابی کی بنا پر بھی لوگوں کی جانیں جارہی تھیں، تو اس وقت ہندوستانی مسلمانوں نے بھی ترکی کی ہر اعتبار سے مدد کی، ڈاکٹر مختار انصاری طبی وفد کے ساتھ ترکی کی محاذ پر بھیجے گئے تھے ۔ اتفاق سے وہ موقع بھی عید قرباں کے قریب کا تھا ،علامہ شبلی نعمانی رح نے اس موقع پر عید الاضحی میں قربانی کی رقم کو ترکوں کی مدد کے لئے ارسال کرنے کے جواز کا فتوی دیا تھا اور اس کے لئے باقاعدہ فتویٰ مرتب کرایا تھا، انہوں بے اس سلسلہ میں فقہ حنفی کی کتاب ہدایہ سے مدد لی ۔( مولانا نے اپنی تائید میں ہدایہ کی یہ عبارت پیش کی تھی ۔ *والتضحیة فیھا افضل من التصدق بثمن الاضحیة* یعنی عید الاضحی کی قربانی کے دنوں میں قربانی کی قیمت صدقہ کرنے سے قربانی بہتر ہے اس عبارت کا مقصود یہ ہے کہ اگر قربانی کے جانور کی قیمت نقد خیرات کردی جائیں تو وہ اس صدقہ کا بھی ثواب ہوگا ،مگر قربانی کی سنت کے ثواب سے محرومی رہے گی ۔ جیسا کہ اس کے آگے کی عبارت میں یہ تفصیل موجود ہے *لانھا تقع واجبة او سنة و التصدق تطوع محض فتفضل علیہ)
اس فتوی پر مولانا عبد اللہ ٹونکی اور مولانا عبد الباری فرنگی محلی نے تائید کی اور پھر اس کو شائع کیا ۔ اور ہزاروں روپئے بھی جمع ہوئے ۔ لیکن جمہور علماء نے خلافت کی بقا کے لئے علامہ شبلی نعمانی رح کی دردمندی، اشک سوئی،ملی غیرت اسلامی حمیت اور ان کی فکر مندی نیز ان کے مذھبی جوش کا تو اعتراف کیا اور اس سے متاثر ہوئے لیکن ان کے اس فتوی کو قبول نہیں کیا اور اس پر اعتراض جتایا ۔ مولانا کے اس فتویٰ پر اعتراض کرنے والوں میں مولانا ظفر علی خان مرحوم پیش پیش تھے ۔ علامہ شبلی نعمانی رح اور مولانا ظفر علی خان صاحب مرحوم کے درمیان مراسلت ( خط و کتابت ) بھی ہوئی ۔ علامہ شبلی نعمانی رح نے مولانا ظفر علی خاں کو اپنے موقف کی تائید میں یہ خط بھی لکھا تھا ۔
۰۰ عزیزی مولوی ظفر علی خاں صاحب دام قدرہ السلام علیکم میں نے جو فتوی لکھا ،اس سے علمائے فرنگی محل بھی متفق ہیں اور مولوی عبد الباری صاحب کا خط بھی شائع ہو چکا ہے ۔ ہدایہ میں اس کا جزئیہ موجود ہے، البتہ ہدایہ میں صرف جواز ہے اور میں نے افضلیت کا فتوی دیا ہے ،اس قدر میرا اجتھاد ہے ۔ بھائی ! ترکوں کی اعانت اس وقت فرض عین ہے اور قربانی کا درجہ واجب سے زیادہ نہیں، آپ کہتے کہ سنت ابراہیمی موقوف نہ ہو،ہاں وہی سنت مقصود ہے ۔ فرق یہ ہے کہ آپ اس سنت کو لیتے ہیں جس کا مینڈھے پر عمل ہوا اور میں وہ پیش نظر رکھتا ہوں جو اسمعیل (علیہ السلام) پر مقصود تھی ۔ کیا ترکوں کی جان مینڈھے سے بھی کم ہے ؟۰۰
(حیات شبلی ص ۴۵۴ بحوالہ ندوہ العلماء کا فکری و ملی شعور)
اس تحریر سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ مولانا کا موقف بظاہر کتنا مضبوط اور مستحکم تھا لیکن علامہ شبلی نعمانی رح کی اس قدر درد مندی ۔ فکر سوزی اور دینی حمیت کے باوجود جمہور علماء نے ان کے اس موقف کو نہیں سراہا اور کھل کر ان کی تائید نہیں کی ۔ کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ اگر ہدایہ کی اس عبارت کی روشنی میں علامہ کی تائید ہوئی تو آگے بہت سے فتنے کے دروازے کھل سکتے ہیں اور اسلام کے بہت سے شعار اور ارکان کے بارے میں وقتی طور پر اس سے رکنے کا جواز فراہم کرنا ہوگا ۔
جب خلافت عثمانیہ جیسے حساس اور ملی مسئلے میں اس کے جواز کی اجازت نہیں دی گئی، تو کسی علاقہ اور صوبہ میں آئے طوفان سیلاب اور آسمانی افت کی بنیاد پر بھلا اس کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے کہ قربانی کے عمل کو ترک کرکے اس کی قیمت سے سیلاب زدگان یا ضرورت مندوں کی مدد کی جائے ؟ اس کے لئے مسلمانوں کے پاس بہت سے مدات ہیں جن سے وہ ان مصیبت زدگان کی مدد کر سکتے ہیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button