اہم خبریں

فکر امروز

اعتراف حقیقت یا جذبہ عقیدت کا اظہار

✍🏻: عین الحق امینی قاسمی*

عقیدت اور حقیقت دوالگ الگ چیزیں ہیں اور دونوں کی اپنی بنیاد یں ہیں، بہت سی دفعہ غیر حقیقت سے بھی ایسی عقیدت ہوجاتی ہے کہ انسان حقیقت کو بھی نظر انداز کرجاتا ہے ،ظاہر ہے کہ ایسی عقیدت کسی واضح کامیابی کے حوالے سے بنیاد نہیں بن سکتی ،اسی طرح بعض دفعہ ظاہری حقیقت تک ہی لوگ اس طرح محصور ہوجاتے ہیں کہ ممدوح کے سوا کہیں انہیں نہ حقیقت دکھائی دیتی ہے اور نہ عقیدت۔بالیقین ایسی حقیقت پسندی جو انہیں گول گنبد میں مقید کردے اور وہ اوروں سے کٹ جائے اور اسی خول کے اندر حقیقت کا گنج گراں مایہ ،عقیدے کی حدتک یا غلو کی حدتک تصور کربیٹھے تو ظاہر ہے کہ ایسی کوتاہ نظری اور تنگ دامانی بھی اسے اصل حقائق تک نہیں پہنچا سکتی۔اس لئے حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے اور ذہنی طور پرہم آہنگ افراد سے عقیدت بھی بڑی چیز ہے۔مگربے وجہ عقیدت جس طرح بری بلا ہے، اسی طرح دوسروں میں حقیقت کا نظر نہ آنا اور اسے تسلیم نہ کرنا بھی خطرناک ذہنیت کو راہ دینا ہے ،ایسے لوگ اندیکھی اور خام خیالی میں گم ہوجاتے ہیں اورخیر کی جہتوں سے افادہ واستفادہ سے بھی محروم ہوجایا کرتے ہیں۔
آپ دیکھ لیجئے کہ ماضی سے حال تک اس پورے سوسال کے عرصے میں امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کی تعمیر وترقی میں تمام اکا برین ؒنے اپنے حصے کی جو خدمات انجام دی ہیں، وہ قابل ستائش ہی نہیں، سرمایہ افتخار بھی ہیں ،یہی حقیقت بھی ہے اور یہی عقیدت واحترام کا تقاضہ بھی ،بلا امتیازکم وکاست سبھوں کی مشترکہ کوششوں سے امارت شرعیہ وہاں تک پہنچی کہ عالم اسلام تک میں آج اس کا قابل قدر و قابل رشک شہرہ ہے ،امارت شرعیہ سے وابستہ تمام خداموں میں ایک چیز تو قدرے مشترک رہی ہے کہ سبھوں نے رضاکارانہ طور پر مخلص بن کر اپنے حصے کی قربانی دی ہے تب ہم آج اس کی سلور جبلی منارہے ہیں یا امارت شرعیہ ہماری نیک نامی کا ذریعہ بنی ہوئی ہے ،البتہ یہ ہمیشہ ہوتا رہا ہے کہ دشمنوں سے لوہا لینے کا کام فوج کے افراد کرتے ہیں اور سہرا چیف کمانڈر کے سربندھتا ہے چوں کہ اس کامیابی کے پیچھے بہر حال ان کی بہت بڑی قربانی ہوتی ہے ، جب کہ کپتان کا بڑا پن یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی اپنے رضاکاروں کی رہین منت مانتا ہے۔
امارت شرعیہ کی بنیاد رکھنے سے لے کراُسے اوپر اٹھانے تک میں ابوالمحاسن حضرت مولانا سید محمد سجاد صاحبؒ کی خدمات کی کوئی ہمسری نہیں ہے ، امیر شریعت اول حضرت مولانا شاہ بدرالدین صاحب قادری ؒ،امیر شریعت ثانی مولانا شاہ محی الدین صاحب قادریؒ ،امیر شریعت ثالث مولانا شاہ قمر الدین صاحب قادریؒ ،حضرت مولانا عثمان غنی صاحبؒ قاضی احمد حسین صاحبؒ حضرت مولانا شاہ نورالحسن پھلواروی صاحبؒ وغیرہ اور بعد کے دنوں میں امارت کو عالی مقام بخشنے اور اس کی نشاة ثانیہ میں امیر شریعت رابع مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی صاحبؒ، امیر شریعت خامس حضرت مولانا عبد الرحمٰن صاحب، ؒقاضی القضاةحضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمی صاحبؒ اور امیر شریعت سادس مولانا سید نظام الدین قاسمی صاحبؒ ، ؒحضرت مولانا عبد الصمد رحمانی صاحبؒ ،حضرت مولانا شاہ عون احمد قادری صاحبؒ ،مولانا شفیع صاحبؒ جناب سراج صاحبؒ ،مولانا نسیم احمدؒ صاحب،قاضی جسیم الدین صاحبؒ ،قاضی عبدالجلیل صاحب اورامیرشریعت سابع حضرت مولانا سید محمد ولی صاحب رحمانیؒ وغیرہ جیسی شخصیات کا نام بھی جلی حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے ،بلاشبہ اِن حضرات نے بھی جو قابل قدر اور مثالی خدمات انجام دی ہیں ، وہ روشن نقوش اور تابناک تاریخ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح مولانا انیس الرحمان قاسمی صاحب مدظلہ ،مفتی جنید عالم صاحب ندوی قاسمی مدظلہ بھی اس حوالے سے ہمارے لئے دلیل راہ ہیں،ان سب کے علاوہ مختلف شعبوں سے وابستہ ایک بڑی تعداد وہاں کے کارکنان کی ایسی رہی ہے، جنہوں نے خاموش محنت کرکے امارت شرعیہ کے لئے وہ ترقی کا زینہ اور میل کا پتھر ثابت ہوئے ہیں،بہت سے گم نام مخلص کارکنان ایسے بھی ہیں جن پر نہ کوئی لکھنے والا ہے اور نہ اس سنہری کڑی میں اُن کا نام اگر چھوٹ جائے تو ان پر کوئی رونے والا ہے اور بہت ممکن ہے زیر نظر تحریر میں بھی کچھ عظیم نام لکھنے سے رہ گئے ہوں،جہاں تک اس عاجز کی نظر نہیں جا سکی ہے۔
خلاصہ کے طور پر یوں سمجھئے کہ امارت کے تعلق سے تقریبا ہر دور میں معاملہ ڈانواں ڈول رہا ہے ، مگر ہر دور میں اس کو ایک ایسی ٹیم ملتی رہی ہے کہ جس نے نہ صرف امارت کے وجود کو مستحکم کرنے کی پوری کوشش کی ،بلکہ افرادی قوت ،مالی طاقت ،فکری اکثریت اورفتنوں کے تعاقب میں بھی پیش پیش رہ کر اس کو ہر جہت سے تناور بنائے رکھنے کی جد وجہداُن سبھوں نے مل کر جاری رکھی۔اس طرح سے کہا جاسکتا ہے کہ ماضی سے حال تک کے مخلصین نے اپنی رضاکارانہ خدمات کے ذریعے امارت کے سوسال پورے کرنے میں بے مثال کردار اداکیا ہے،اس پر کسی ایک کا شکریہ نہیں ،کسی ایک کا کمال نہیں ،بل مشترکہ کوششوں کو سلام پیش کیا جا ناچاہئے۔ آخر امارت کے ناظم اول مولانا عثمان غنیؒ کی خدمات کو کیوں کر بھلا یا جاسکتا ہے ،جنہوں نے پیٹ پر پتھر باندھ کر امارت کی خدمت کی ایک وقت وہ بھی آیا جب مالی بحران کی وجہ کر ایک مدت تک کے لئے امارت کی طرف سے ان کی تنخواہ سوخت کردی گئی ،مگر انہوں نے حسب سابق خدمت میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔یقینا امارت کے اندر ماضی میں بھی عسرت رہی ہے، ا ُسی حالت میں وہ حضرات امارت کو بچانے اور بڑھانے کا کام کرتے رہے،پھر جب 1957 میں امیر شریعت رابعؒ بحیثیت امیر شریعت تشریف لائے ،انہوں نے قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحبؒ کو پھر انہوں نے مولانا سید نظام الدین صاحب قاسمی کو بحال کیا تو یہ ٹیم بھی عسرت کے باوجود اپنی مشترکہ کوشش اور فکری توانائی کے ساتھ امارت کو وسعت دیتی رہی ،بل کہ بلندی اور مقام وپہچان بخشنے میں وہ کردار پیش کیا ہے،جسے دنیا آج عظمتوں کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے ۔اسی طرح دارالافتا وقضاءکے حوالے سے ،مولانا نورالحسن پھلوارویؒ ،مولانا شاہ عون احمد قادریؒ ،مولانا عبد الصمد رحمانی ؒ،مفتی عباس صاحبؒ مفتی یحیٰی قاسمی صاحبؒ ، اور مفتی صدرعالم صاحب ؒوغیرہ جیسے اولین مفتیان امارت شرعیہ کو بھی کیسے بھلا یا جاسکتا ہے۔
غرض یہ کہ کم وبیش اپنی اپنی تدبیر وتقدیر کے اعتبار سے ماضی کے اکابرین بھی اور امارت سے جڑے موجودہ علماءامت بھی سبھوں نے امارت شرعیہ کے لئے مخلصانہ جد وجہد کی ہے اور کررہے ہیں۔ اس پر بہار واڑیسہ اور جھارکھنڈ کی مسلم عوام کو سبھوں کے لئے شکریہ اداکرنا چاہئے اور سبھوں کو دل میں جگہ دی جانی چاہئے ،بجائے یہ کہ ہم اپنی اپنی الگ الگ پسند کی شخصیت چن کر اُن کے سر پوری امارت شرعیہ کی کامیابی کا سہرا باندھ جائیں اور دوسرا جانے انجانے میں اگر ہماری پسند کی شخصیت کا نام چھوڑدے تو خائن ،بدخلق ،تاریخ کا مجرم ،لابنگ ساز اور نہ جانے کیا کیا ہفوات ہم بکنے شروع کردیتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ایسا جذبہ عقیدت بھی غلط ہے اور ایسی حقیقت پسندی بھی مذموم ہے ،جس کے لئے ہمارے دل میں کوئی جگہ نہ ہو۔
ان سب باتوں کے علاوہ آخری بات یہ ہے کہ امارت شرعیہ پر تقریبا ہر دور میں فتنوں نے پر پھیلانے کی کوشش کی ہے ،مگر امارت کی مجلس شوریٰ اور ارباب حل وعقد نے بروقت اپنی دانش مندی سے کام لے کر امارت کی روح کو بچانے کا کا م کیا ہے۔امارت شرعیہ ایک دستوری ادارہ ہے وہ دستور سے ہی چلے گی۔امارت کی تاریخ بہت ہی تابناک رہی ہے ،امارت شرعیہ وہ ادارہ ہے جس نے مسلم پرسنل لا بورڈ جیسا ادارہ ملت کو دیا ،امارت شرعیہ نے اسلامک فقہ اکیڈمی اورملی کونسل دیا ،افتا ءو قضاءکی تعلیم وتربیت کے لئے المعہد العالی جیسا ادارہ دیا ،یہی وہ امارت ہے جس نے دارالعلوم الاسلامیہ ،مولانا سجاد میموریل ہسپتال ،مولانا منت اللہ رحمانی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ(آئی ٹی آئی )،مولانا منت اللہ رحمانی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ (پارا میڈیکل )امارت انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر ،ڈاکٹر عثمان غنی کمپیوٹر ایجو کیشن سینٹر ،امارت مجیبیہ ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ ،امارت عمر ٹیکنیکل ا نسٹی ٹیوٹ ،ریاض آئی ٹی آئی وغیرہ جیسے کئی ایک ادارے ملت کو دینے کا کام کیا ہے ،حالات کے پیش نظراس میں مزید وسعت لانے اور زمانے سے ہم آہنگ اعلی عصری اداروں کو قائم کرنے کی سخت ضرورت ہے ،یہ سب تب ہوگا جب اس کے دستور پر سختی سے عمل ہوگااور امارت شرعیہ کسی کے دست نگر بننے سے محفوظ رہے گی۔
آج بھی ہمیں ان ارباب حل وعقد اور اس کے دستور پر پورا بھروسہ ہے کہ امارت کے مفاد میں فیصلہ لے کر امیر شریعت کے انتخابی معاملے میں درست فیصلہ لیا جائے گا ۔امارت کے تحفظ کے نام پر جو لوگ بھی "بے گانے کی شادی میں عبد اللہ دیوانہ” والا کام کررہے ہیں اس کی قطعا ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی اس سے امارت کی حفاظت ہونے والی ہے ،بل کہ اس سے ماحول مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے اس لئے انتظامیہ اور ا س سے جڑے لوگوں کی بخیہ ادھیڑنے کے بجائے امارت سے محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ اس مسئلے کو سیدھے سے ارباب حل وعقد پر چھوڑ دیا جائے وہ ان شاءاللہ حسب سابق بہتر فیصلہ لیں گے ،البتہ ہم لوگ دعاضرور کریں تاکہ خیر تک بہ آسانی رسائی ہو اور خوش اسلوبی سے ایک ایسے امیر شریعت کا انتخاب عمل میں آسکے،جو تہجد ووظیفہ کے ساتھ عالمی سطح کے شعور اور فکر وفن کا ماہر بھی ہو۔

*نائب صدر جمعیۃ علماء بیگوسرائے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button