اہم خبریںبین ریاستی خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

فرقہ وارانہ فسادات : تاریخ اسباب اور حل

طاہر ندوی
مشرقی سنگھ بھوم جھارکھنڈ

ہندوستان میں فسادات کی تاریخ بڑی قدیم رہی ہے ، تجزیہ نگاروں اور تاریخ نویسوں کے ہاں ہمیشہ یہ مسئلہ رہا ہے کہ ملک ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کی ابتدا کب اور کیوں ہوئی یہ بتانا کافی مشکل رہا ہے البتہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک میں منصوبہ بند طریقے سے ہندو مسلم فرقہ وارانہ فسادات کی شروعات 1946 سے تقسیم ہند کو لے کر ہوئی جس کی خبر سب سے پہلے مرشد آباد ( بنگال ) اور پھر بہار کے متصل علاقوں میں آگ کی طرح پھیل گئی جس میں دس ہزار سے زائد لوگ مارے گئے ہزاروں کی تعداد میں مکانوں اور دکانوں کو نذرِ آتش کردیا گیا مگر جب تک ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو زندہ رہے فرقہ پرست عناصر کو پنپنے اور فروغ پانے کے مواقع کم ہی نصیب ہوئے لیکن وفات کے بعد جب لال بہادر شاستری وزیر اعظم بنے تو انھوں نے آر ایس ایس کے صدر گرو گولوالکر کو یوم آزادی کی تقریب میں باضابط مدعو کیا اور کانگریس کے اسٹیج سے یہ پیغام دیا کہ” کانگریس کو آر ایس ایس کے تئیں نرم گوشہ رکھنا چاہئے ” اس پالیسی کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ ملک بھر میں ہزاروں فسادات کی صورت میں ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے ۔

فرقہ وارانہ فسادات تاریخ کے آئینے میں :

1946 میں جس فساد کا سلسلہ بہار بنگال میں شروع ہوا تھا وہ 1964 میں کلکتہ سمیت مغربی بنگال کا ایک بڑا حصہ اس کی زد میں آ چکا تھا ، 19 مارچ 1964 میں مسلمانان جمشیدپور کے ساتھ آگ و خون کی وہ ہولی کھیلی گئی کہ صرف جمشید پور ، راور کیلا ، چائے باسہ و اطراف کے تقریباً 1432 بے گناہوں کو شہید کیا گیا ، اس فساد کے بارے میں مولانا اسرار الحق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ” چھٹی دہائی میں خوفناک فرقہ وارانہ فسادات ہوئے راور کیلا ، کلکتہ ، رانچی اور جمشید پور میں ہونے والے فسادات کی تباہی کے واقعات کا تصور کرکے آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ” اسی سال بھیونڈی ، جلگاؤں ( مہاراشٹر ) پورنیہ اور نیلی ( آسام ) میں بھی فسادات ہوئے جس میں ہزاروں کی تعداد میں بے گناہوں کا قتل عام کیا گیا تھا ۔

1967 میں رانچی اور بنارس کے فسادات کو کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے جس کی سر زمین مسلمانوں کے خون سے رنگین ہو گئی تھی ، 1969 میں مئو اعظم گڑھ کا فساد جہاں دو نوجوانوں کے جھگڑے کو بہانہ بنا کر پولیس کی سرپرستی میں خون خرابا کیا گیا اسی سال احمدآباد میں خونی کھیل کھیلا گیا ، 1970 کی دہائی میں جلگاؤں ، بھیمڑی اور ہزاری باغ میں ایک مردہ گائے کو بہانہ بنا کر قتل و غارتگری کا ایسا ننگا ناچ ناچا گیا کہ آسمان بھی تڑپ اٹھا ، 1972 میں علی گڑھ ، بنارس اور فیروز آباد کو نشانہ بنایا گیا ، مکانات جلا دئے گئے ، دکانوں کو لوٹ لیا گیا ، کارخانوں کو تباہ کر دیا گیا ، اسی سال عثمان آباد ، دادری ، اعظم گڑھ ، گجرات ، بہار اور کرناٹک میں بڑے بڑے فسادات واقع ہوئے ،
1974 میں میرٹھ الٰہ آباد میں ایک منظم سازش کے تحت قیامت برپا کی گئی اور یہ آگ پھیلتے پھیلتے 75 کے عشرے میں پورے ملک کو اپنے لپیٹ میں لے لیا اور قانون بازیچہ اطفال بن کر رہ گیا ۔

1977 بنارس فسادات ، 1978 بہار شریف فسادات ، مارچ 1978 سنبھل مرادآباد کی تاریخ میں وہ دن آیا جس کی پیشانی تباہیوں اور بربادیوں سے آلودہ ہوئی ، 1979 میں فولاد کا شہر ، شہر جمشیدپور کو دوبارہ جلا دیا گیا ، اسی سال جولائی میں پورنیہ کے گاؤں دیہاتوں کو زیر و زبر کر کے رکھ دیا گیا ، 1980 میں ” جلیاں والا باغ ” کی تاریخ مرادآباد میں دہرائی گئی ، 1989 میں بھاگلپور میں سفاکیت کا ایسا ننگا ناچ دکھایا گیا کہ جنگل کے جنگلی درندے بھی شرما گئے ، اسی سال سورسنڈ ( سیتا مڑھی ) سہسرام اور مونگیر میں فسادات واقع ہوئے ، 1990 میں پٹنہ سیٹی ، رانچی ، مالدہ اور کٹک ( اڈیشہ ) میں فسادات ہوئے پھر 92 کے عشرے میں بابری مسجد کی شہادت سے پہلے اور شہادت کے بعد کے فسادات ، اسی طرح فروری 2002 میں گجرات فساد ، 2005 میں مئو فساد ، 2013 میں مظفر نگر فساد اور مغربی بنگال کے نعمت گاؤں کا فساد اب فساد کا یہ سلسلہ چلتے چلتے تری پورہ تک جا پہنچا ہے جہاں گزشتہ دنوں مسلمانوں کو ٹارگیٹ کیا گیا ، ان کے املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور مساجد کو نذرِ آتش کر دیا گیا ۔

اسباب و وجوہات :

اگر ان فسادات کے اسباب و وجوہات پر غور کیا جائے تو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ یہ سارے فسادات ایک منصوبہ بند طریقے سے کئے اور کروائے گئے تھے ، مسلم کمیونٹی کو علمی ، سیاسی اور اقتصادی میدان میں آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے کروائے گئے تھے کیوں کہ اکثر فسادات ان علاقوں اور شہروں میں کروائے گئے جہاں مسلم کمیونٹی کے لوگ مضبوط تھے جیسے میرٹھ ، مرادآباد ، بنارس احمدآباد جہاں مسلمانوں کی اقتصادی حالت بہتر تھی ، اسی طرح سے علی گڑھ ، حیدرآباد میں فسادات کروائے گئے جہاں مسلمانوں کی تعلیمی صورت حال بہتر تھی اسی طرح جمشید پور ، رانچی بہار و بنگال میں فسادات کروائے گئے جہاں معاشی اعتبار سے مسلمانوں کی حالت بہتر تھی تو سب سے پہلی وجہ تو یہی تھی کہ مسلمانوں کو تعلیمی ، سیاسی اور اقتصادی طور پر پسماندہ کر دیا جائے تاکہ یہ سیاست و اقتدار کی جانب قدم نہ بڑھا سکیں ۔

اس سلسلے میں مشہور دانشور ڈاکٹر تسلیم رحمانی جو سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے جنرل سکریٹری ہیں وہ کہتے ہیں کہ منو واد کی بالا تری ان فسادات کی اصل وجہ ہے کیوں کہ اس ملک میں جتنے بھی فسادات ہوئے چاہے وہ بودھوں کے خلاف ہو ، سکھوں کے خلاف ہو ، عیسائیوں کے خلاف ہو یا مسلمانوں کے خلاف ہو ہر جگہ منو واد کی تھیوری پر عمل کرنے والے فرقہ پرست عناصر آپ کو نظر آئیں گے اور دوسری وجہ یہ کہ جو لوگ ان فسادات میں ملوث تھے انھیں سزا نہ دے کر انعام دینا ، اس کی حوصلہ افزائی کرنا ، اس کو کرسی اقتدار پر براجمان کرنا ، اس کو پھولوں کا ہار پہنانا جیسے کاموں نے فرقہ وارانہ فسادات کو بہت زیادہ بڑھاوا دیا ہے ۔

حل کیا ہے ؟

امیر شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ فسادات کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانانِ ہند شریعت اور سنت کے مطابق زندگی گزاریں ، کتاب و سنت پر عمل کریں ، اخلاق و کردار اسلام کے نظام تعلیم کے ساتھ ہم آہنگ کریں ، مسلکی اور علاقائی حد بندیوں سے اوپر اٹھ کر وحدت و اجتماعیت کی زندگی بسر کریں ، دینی ، ملی و قومی تعلیم کے میدان میں آگے آئیں ، اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کریں ، معاشی و اقتصادی حالت کو بہتر بنائیں اور تجارت و کاروبار ، صنعت و حرفت کے میدان میں آگے بڑھیں اگر یہ کام کر لئے تو بہت حد تک فسادات کو روکا جا سکتا ہے ۔

روزنامہ انقلاب پٹنہ کے ایڈیٹر جناب احمد جاوید صاحب فسادات کو روکنے کے سلسلے میں کہتے ہیں کہ اگر صحیح معنوں میں ہمارا نظام ، ہماری حکومت اور سیاست ملک کی آئین اور قانون کی وفادار ہو اور وہ ملک کے فسادات کو روکنے اور بچانے میں وفادار ہو تو بہت حد تک فسادات کو روکا جا سکتا ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ جہاں جہاں فسادات ہوتے ہیں ان مقامات پر اس کا مقابلہ کرنے کے لئے خود کمیونٹی مضبوط ہو ، وہ طبقہ ، وہ محلہ ، وہ بستی کے لوگ مضبوط ہوں ، ان کے اندر مقابلہ کرنے کے لئے طاقت کا توازن پیدا ہو جائے تو ظاہر ہے اس پر آسانی سے حملہ نہیں کیا جا سکتا ہے ۔

ان فسادات کی روک تھام کے لئے ڈاکٹر تسلیم رحمانی صاحب کہتے ہیں کہ سماج کے ہر مظلوم طبقے سے اشتراکِ عمل پیدا کریں ، ان کے ساتھ مل کے سیاست کی سوچ کو بدلنے کی کوشش کریں ، اقتدار کے Will Power کو بدلنے کی سعی کریں اور دوسری طرف کمیونٹی کے اندر ایسے حالات کا مقابلہ کرنا سکھائیں ، سیاسی اور سماجی دونوں سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے اس کے ساتھ ہی اپنے اخلاق و کردار کو بہتر بنانے کی کوشش کریں کیوں کہ جو قوم اخلاقی طور پر کمزور ہو وہ کسی قسم کی کوئی جد و جہد کامیابی کے ساتھ نہیں کر سکتی ہمیں یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ ہمارا مسلم سماج اخلاقی طور پر انتہائی پسماندہ ہو چکا ہے تو سب سے پہلے اپنے اخلاق و کردار کو بہتر بنائیں پھر سماج کے ہر مظلوم طبقے سے اشتراکِ عمل پیدا کریں تو ان شاءاللہ حالات بدل سکتے ہیں اور فرقہ وارانہ فسادات کو روکا جا سکتا ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button