اہم خبریںبین ریاستی خبریںسائنس / کلائمیٹعالمی خبریں

سی او پی 26 میں لیا گیا یہ فیصلہ کوئلہ کو بنائے گا تاریخ کا حصہ

رپورٹ: ڈاکٹر سیما جاوید
ترجمہ: محمد علی نعیم

برطانیہ کی قیادت میں دنیا بھر کے تقریباً دو درجن ممالک اور دیگر اداروں نے گلوبل کول ٹو کلین پاور ٹرانزیشن سٹیٹمنٹ پر دستخط کرکے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر نئی کوئلہ بجلی پیدا کرنے میں تمام سرمایہ کاری کو ختم کرنے کا عہد کیا ہے

اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس سال کے موسمیاتی سربراہی اجلاس سی او پی کے صدر آلوک شرما نے کہا کہ آج مجھے لگتا ہے کہ اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئلے کا خاتمہ قریب ہے
مزید ای 3 جی کے فوسل فیول ریسرچ مینیجر لیو رابرٹس کہتے ہیں "گلاسکو میں گزشتہ چند دنوں سے کوئلے سے نفرت میں تیزی آ رہی ہے

کوئلے کو تاریخ کا حصہ بنانے کے لیے نئی شراکتیں اور فنڈز اکٹھے ہو رہے ہیں، سنجیدہ عطیہ دہندگان کی مالی معاونت سے ممالک کے ارادوں کو مضبوطی ملی ہے جو نئے میکانزم اور ٹولز سے لیس ہے تاکہ دنیا کے کوئلہ جلانے والے ممالک کو سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والے فوسل فیول سے منہ موڑنے اور صاف توانائی میں منتقلی کو نافذ کرنے میں مدد ملے۔

انہوں نے مزید کہا، "جمعرات کو کیے گئے اعلانات اور اقدامات کی وسعت اور گہرائی کو دیکھتے ہوئے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ کوئلے سے چھٹکارا پانے کا عمل کتنی تیزی سے رفتار پکڑ رہا ہے، بہت سے ممالک کوئلے سے چلنے والے نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری روکنے کا فیصلہ کن انتخاب کر رہے ہیں۔ کئی ممالک نے اپنے متعلقہ کول پاور سٹیشنز کو لازمی طور پر بند کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے، مشترکہ طور پر یہ اعلانات بتاتے ہیں کہ کوئلے کے دور کا خاتمہ قریب آ رہا ہے،کوئلے کو تاریخ کے کوڑے دان تک لے جانے والی کنویئر بیلٹ آگے بڑھ رہی ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود کرنے کے ہدف کے مطابق اسے مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

موسمیاتی کانفرنس میں کوئلے سے متعلق پیشرفت ظاہر کرتی ہے کہ عالمی سطح پر کوئلے سے باہر آنے کے حالات تیار ہیں،اب ہمیں بڑے پیمانے پر تمام ممالک کو تیزی سے صاف توانائی کا خزانہ فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تمام ممالک اعتماد کے ساتھ 2030 تک OECD ممالک کو کوئلے سے پاک اور باقی دنیا کو 2040 تک کوئلے سے پاک بنانے کے لیے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں امبر کے گلوبل لیڈ ڈیوی جونز نے کہا، "آج کئے گئے عزائم تمام براعظموں کے کوئلے کو مرحلہ وار ختم کرنے کے سفر میں مدد کریں گے۔یہ ایک بڑا لمحہ ہے کیونکہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو ڈیڑھ ڈگری سیلسیس تک محدود کرنے کے عزائم میں اب تک کا سب سے بڑا فرق کوئلے کی پیداوار میں تیزی سے گراوٹ ہے۔یعنی بڑی معیشتوں کے لیے 2030 تک اور باقی دنیا کے لیے 2040 تک کوئلے کی بجلی کا مرحلہ وار خاتمہ

"یورپ میں، پولینڈ کوئلے کا آخری بڑا گڑھ ہے، اور یہ یورپ کے زیادہ تر سفر کو کوئلے سے پاک کرنے میں محرک بنے گا، افریقہ میں جنوبی افریقہ اور مراکش افریقی کوئلے کی پچانوے فیصد پیداوار کا ذمہ دار ہے، لہذا اس سے افریقہ کوئلے سے پاک ہو جائے گا۔ایشیا میں، ویتنام جیسے ترقی پذیر ممالک پہلی بار کوئلے کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔دنیا کے تین بڑے کوئلے والے ممالک – چین، انڈیا اور امریکہ – پہلے ہی ایسے وعدے کر چکے ہیں جو اپنے پاور سسٹم کو کوئلے سے دور کرنے لگے ہیں۔یہ رفتار اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ کوئلے سے صاف بجلی کی طرف فوری منتقلی معیشت اور صحت کے لئے کتنا زیادہ ضروری ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button