اہم خبریںسائنس / کلائمیٹعالمی خبریں

سورج ہماری تباہی کا سبب بن سکتا ہے : سائنسدان

سورج سے خوفناک شعلے نکلیں گے، سیٹلائٹ تباہ ہو جائیں گے، زمین اندھیرے میں ڈوب جائے گی: سائنسدان

دنیا بھر کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے زمین سے 100 نوری سال کے فاصلے پر تباہ کن طوفان دیکھا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس صدی کے آخر تک زمین پر بھی ایسا ہی شمسی طوفان آ سکتا ہے جو ایک طرح کی تباہی لائے گا۔

• سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ سورج ہماری تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سورج سے نکلنے والا تباہ کن طوفان تاریک دور میں واپس بھیج سکتا ہے۔

• سائنسدانوں نے زمین سے 100 نوری سال کے فاصلے پر ایسا حیرت انگیز واقعہ دیکھا ہے

• پہلی بار چلتے سورج کے قریب سے لی گئی ویڈیو، جس میں شمسی دھماکے کو دکھایا گیا ہے۔

بین الاقوامی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ سورج جہاں زمین کی زندگی کے لیے توانائی کا ذریعہ ہے وہیں یہ ہمارے لیے تباہی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں نے کہا ہے کہ سورج سے نکلنے والا تباہ کن طوفان انسانیت کو تاریک دور کی طرف واپس بھیج سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے کئی ہزار سالوں میں ہونے والی انسانی ترقی ختم ہو جائے گی۔ سائنسدانوں نے زمین سے 100 نوری سال کے فاصلے پر ایسا حیرت انگیز واقعہ دیکھا ہے۔

یہ شمسی طوفان ایک شاندار آتشبازی کی طرح لگتا ہے اور سائنسدانوں نے اسے تشویشناک قرار دیا ہے۔ سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں کہا کہ ایسے تباہ کن شمسی شعلے زمین کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیٹلائٹ کو جلا کر راکھ کر دے گا اور پورے شہر کا پاور گرڈ تباہ ہو جائے گا۔ جس کی وجہ سے دنیا میں ہر طرف اندھیرا چھا جائے گا اور فون نیٹ ورک کام کرنا چھوڑ دیں گے۔

اس ستارے کا نام EK Draconis رکھا گیا ہے جس کا مطلب ڈریگن ہے۔ یہ ڈریگن کی طرح آگ اگل رہا ہے۔ یہ شمالی آسمان میں برج Draco میں واقع ہے۔ Coronal mass ejection (CME) سورج کی بیرونی فضا میں دھماکے سے پیدا ہونے والے پلازما کے ذرات کا اخراج ہے۔ ایسا اکثر ہوتا ہے اور خلا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ بہت تیزی سے سفر کرتا ہے۔

یہ شمسی طوفان زمین کے لیے بہت بری خبر ہیں کیونکہ ہر 100 سال بعد یہ طوفان زمین کی طرف آتے ہیں۔ یہ تحقیق کرنے والی یونیورسٹی آف کولوراڈو کے محقق Uta Natsu نے کہا کہ CME کے زمین اور انسانی معاشرے پر بہت سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ تحقیق کرنے والی بین الاقوامی ٹیم نے پایا کہ EK Draconis ستارے کی خوفناک توانائی کی طرف جا رہا ہے۔ نیز، یہ اب تک دیکھے گئے شمسی شعلوں کی تعداد سے زیادہ طاقتور ہے۔

زمین کا مقناطیسی میدان شمسی طوفانوں سے بچاتا ہے۔

ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ تباہ کن شعلے اس صدی کے آخر تک ہماری زمین سے ٹکرائیں گے۔ جاپانی محقق کوسوکے نامیکاتا نے کہا کہ زمین سے ٹکرانے والے شعلے اتنے ہی طاقتور ہوسکتے ہیں۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ زمین کا مقناطیسی میدان ہمیں ان شمسی طوفانوں سے ہونے والے کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچاتا ہے۔ امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق بڑے سی ایم ای میں اربوں ٹن مادے لاکھوں میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں۔ سورج میں ہونے والے دھماکے سے نکلنے والے یہ ذرات عموماً جب زمین کے ماحول سے ٹکراتے ہیں تو ان کا اثر ارورہ کی شکل میں نظر آتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button