اہم خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

سالِ نوپہ غم نہ خوشی بلکہ احتساب……!✍️محمدافضل حسین پورنوی

سالِ نوپہ غم نہ خوشی بلکہ احتساب……!
✍️محمدافضل حسین پورنوی


سالِ نومقتضی تھااس بات کاکہ سالِ گزستہ پرغم منایاجاتا،ماتم ونوحہ کیاجاتااورحزن وملال کی کیفیت کےساتھ سالِ ماضی کوالوداعی سلام کیاجاتاکیوں کہ نئےسال کےدستک دیتےہی ہماری زندگی کاایک سال کم ہوگیا،گردشِ ایّام میں بظاہریہ فقط ایک سال کاکم ہونا ہےورنہ حقیقتاً ایک کامیاب انسان خصوصاًصاحبِ ایمان کےلئےدینی ودنیوی ترقّیات وترجیحات کےڈھیرسارےمواقع کااختتام ہے،اپنی عمرکےمختلف مراحل میں جی رہےلوگوں کوذراتعجّب ہوگاکہ ایک ہی سال کےکم ہونےسےڈھیرسارےمواقع کیسےختم ہوگئےابھی توپوری زندگی پڑی ہے؟نفسانی وابلیسی امیدوں کےدلدل میں پھنسےلوگوں کوجواب یہ ہے👇:۔۔۔
وہ اس طرح کہ وقوع پذیر”آنےوالی شۓ”خواہ اس کازمانہ کتناہی طوالت آمیزکیوں نہ ہو،پروہ قریب ہی ہے،اورعدم پذیر”جانےوالی شۓ”چاہےاس کےگزرےہوےکوایک دقیقہ اورایک لمحہ ہی کیوں نہ ہواہو،پروہ بعیدازبعیدہے،یہ تونفسانی وشیطانی خوش فہمیاں ہیں جواس کی خوامخواہ امیدیں دلاتارہتاہےکہ میاں!ایک سال ہی توگیاہے،کیاہوا؟باقی،ابھی توپوری زندگی پڑی ہے،بھلا!کیاکوئی بتاسکتاہےکہ اس کی زندگی کےایک سال کم ہونےکےبعداب وہ کتناجئےگا؟نہیں نا،اسی سےسمجھ آتاہےکہ گیاہواسال صاحبِ سال کےلئےکتناقیمتی اوربیش قیمت تھا،لیکن اس سب کےباوجوداسلامی شریعت میں حزن وغم کی قطعاًاجازت نہیں، توپھرسالِ نوپہ خوشی ومسرّت کاجوازکہاں سے…؟

29/دسمبر؁2021ء
یوم الاربعاء
حالتِ سفر

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button