اہم خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

رسول کریم ﷺ کی زندگی میں انسانی جذبات کی عکاسی… قسط (1)



نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی پوری دنیائے انسانیت کے لیے سو فیصد اسوہ ، آئیڈل اور نمونہ ہے ، آپکی زندگی، آپ کے شب و روز ،آپ کے اعمال و اخلاق، کرادر و اوصاف، حرکات و سکنات اور آپ کے اسوئہ حسنہ کو بھی دنیاے انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ نے مشعل راہ بنا دیا، جن میں انسانی احساسات و جذبات کی بھی بھر پور عکاسیاں موجود ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیک وقت دو دو ذمہ داریاں سنبھالی، اور دو عظیم الشان اور جلیل القدر منصب پر فائز رہ کر دونوں ذمہ داریوں کے تمام تر تقاضوں کو بحسن خوبی تکمیل تک پہنچایا۔ اس ذمہ داری کو کوئی عام آدمی اور ہمہ شمہ شخص انجام نہیں دے سکتا تھا بلکہ اسے تو وہی انجام دے سکتا تھا، جس کی تربیت ربانی و الہی تربیت ہوئی ہو اور جس نے انسانیت اور انسانی کردار کی بذات خود اپنے اسوئہ حسنہ سے اس کی تعمیر کی ہو اور پھر اس کی صحیح رہنمائی کے لیے انسانی احساسات و جذبات کو بھی اس میں شامل کردیا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں جہاں انسانی زندگی کے مختلف اور ہمہ جہت و ہمہ گیر پہلوؤں کا عکس ملتا ہے، وہیں آپ کی زندگی میں انسانی جذبات و احاسات کی رعایت، یہ پہلو بھی حد درجہ نمایاں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں نبی اور رسول تھے، ساری دنیا کے رہبر اور امام تھے وہیں آپ ایک شریف انسان کے بیٹے اور پوتے بھی تھے، جہاں آپ شفیق باپ تھے وہیں کسی کے بھتیجے، داماد اور کسی کے خسر، خالو اور ہم زلف تھے، آپ کے مبارک سینہ میں ایک انسانی دل دھڑکتا تھا جو زندگی کے مختلف موڑ اور موقعوں پرفطرت انسانی اور اس کے جذبات و احساسات کی عکاسی بھی کیا کرتا تھا، جس کی جھلک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی میں مختلف مقامات پر ملتی ہے۔ ذیل کی تحریر میں ہم حیات نبویﷺ میں انسانی جذبات کی عکاسی، اس پہلو پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا یہ پہلو بھی ہمارے لیے ایک بہترین اسوہ اور نمونہ ہے، ہمیں یہاں بھی آپ کی پیروی اور تقلید کرنی چاہیے۔۔ اسلام میں فتح مکہ کے بعد فوج در فوج داخلے کا دور جب شروع ہوا تو اسی زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب اور شفیق چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا قاتل وحشی رضی اللہ عنہ بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوا اور ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی بابرکت اور مقدس جماعت میں شامل ہوگیا ، جن کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ اصحابی کالنجوم اللہ اللہ لا تتخذوا ھم عرضا من بعدی الخ بخاری شریف دوم مناقب الصحابة ۔۔


یعنی میری نظر میں میرے صحابہ مثل ستاروں کے ہیں، میرے بعد ان کو کوئی نشانہ نہ بنائے،ان پر کسی طرح کا کیچڑ نہ اچھالے کیونکہ جس نے ان سے محبت کا ناطہ رکھا گویا اس نے مجھ سے محبت کا رشتہ جوڑ لیا اور جس نے ان سے عداوت، بیراور دشمنی رکھی اس نے مجھ سے عداوت کی، میرے صحابہ کو اذیت پہنچائی اور جب ایسا ہو تو پھر قریب ہے کہ اللہ اس کی شدید گرفت کرے۔۔
ایک طرف یہ حد درجہ عقیدت مندانہ اعلان اور دوسری جانب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ۔۔۔۔ الاسلام یھدم ماکان قبلہ۔ حدیث۔ یعنی اسلام کی خوبی اور کمال یہ ہے کہ وہ اپنے سے پہلے کی ہوئی بد اعمالیوں کو ختم کردیتا ہے۔


لیکن یہ سوال یہاں پیدا ہوتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد اور حلقئہ نجوم میں شامل ہوکر مذکورہ بالا اعلانات کے تحت حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کو بھی ایک صحابی ہونے کے ناطے افق رسالت ﷺ پر دیگر صحابہ کرام کی طرح چمکنے کا حق حاصل تھا، لیکن نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں شدید احساس کا کوئی جھٹکا تھا جس نے آپ کو وحشی سے یہ کہنے پر مجبور کردیا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ھل تستطیع ان تغیب وجھک عنی۔ بخاری شریف جلد دوم۔
کیا تم یہ کرسکتے ہو کہ میرے سامنے آنے سے گریز کرو؟
معرکہ احد میں پیارے چچا کے بے دردانہ قتل اور کلیجہ تک چبا ڈالنے کے وحشیانہ عمل کے شدید احساسات نے جذبات کی شکل میں حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کو اپنی نگاہ رحمت سے اوجھل رہنے کا حکم دیا تھا۔۔


بات کوئی معمولی نہیں تھی، کیونکہ چچا کی لاش کی تلاش میں آپ بذات خود نکل پڑے تھے اور جب بطن وادی میں انتہائی کٹے پھٹے اور مثلہ شدہ حالت میں چچا کی لاش نظر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم شدت غم سے نڈھال ہوگئے اور پھوٹ پھوٹ کر روئے۔( زاد المعاد جلد دوم۔۔) اس حدیث کے مطابق اس درد ناک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے جو جذباتی کلمات صادر ہوئے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ میری پھوپھی صفیہ رضی اللہ عنھا بہت روئیں گی اور میرے بعد یہ چیز سنت بن جائے گی تو میں حد درجہ مسخ شدہ لاش کو یونہی میدان میں چھوڑ کر چلا جاتا تاکہ باقی ماندہ جسم کو درند و پرند اپنی خوراک بنا لیتے اور اگر اللہ نے مجھے قریش پر کبھی غلبہ عطا کیا تو چچا کے بدلے ان کے تیس آدمیوں کا مثلہ کروں گا۔


یہ کلمات شدت غم فرط حزن اور فرط جذبات میں آپ کی زبان مبارک سے نکل پڑے تھے، لیکن اس کے بعد ہی زبان وحی سے نکلے کلمات نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے جذباتی کلمات پر قابو پالیا اور آپ کو ایسے کرنے سے منع فرمادیا گیا۔۔ ( سہ ماہی کاروان ادب جولائی تا ستمبر ۱۹۹۴ء)
یہ حقیقت ہے کہ کسی اتار چڑھاو، حادثات یا دکھ درد اور مصیبت و پریشانی کے نتیجہ میں عام انسانوں پر احساس کے شدید جھٹکے پڑتے ہیں ایسے ہی جھٹکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبع نازک پر بھی پڑتے رہے۔


معرکہ بدر میں جو مشرکین قیدی بنا کر لائے گئے تو ان سبھی کی مشکیں بندھی ہوئی تھیں، انہیں اسیران بدر میں نبی کریم ﷺ کے چچا حضرت عباس بھی شامل تھے۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی ایک کمرے میں پڑے قیدیوں کو شدت درد سے کراہنے کی بار بار جو آوازیں آرہی تھیں ان میں چچا عباس کی بھی آواز شامل تھی جو رہ رہ کر نبی کریم ﷺ کے جذبات و احساسات کو جھٹکے دیتی رہی اور اس کے سبب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند اچاٹ ہوگئی۔ اسی عالم میں بار بار کروٹیں بدلنے اور بیچینی کے اظہار نے صحابہ کرام کے احساس کو بھی جھنجھوڑا تو دریافت کیا گیا،، اے اللہ کے رسول! آخر اس بے چینی کا سبب کیا ہے؟ ۔۔۔۔۔ فرمایا مجھے چچا عباس کا کرب سونے نہیں دے رہا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا کیا ان کے بند ڈھیلے کر دیئے جائیں۔؟ فرمایا اگر کرنا ہی ہے تو پھر سبھی قیدیوں کے بند ڈھیلے کئے جائیں۔ یہ خالص ایک جذبئہ انسانی اور فطری احساس تھا جو چچا اور بھتیجے کے رشتے سے مربوط تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے چینی کا سبب بن گیا۔( پیغمبر عالم صلی اللہ علیہ وسلم ۲۲۴/ ۲۲۵ بحوالہ سہ کاروان ادب شمارہ جولائی تا ستمبر ۱۹۹۴ء)
نوٹ قارئین کرام سے درخواست ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اس مضمون کو پہنچائیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button