رابعہ سیفی کا قتل

رابعہ سیفی کا قتل
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف ، پٹنہ
’’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ‘‘ والی حکومت میں بیٹیوں کا قتل رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے ، ۲۷؍ اگست ۲۰۲۱ء کو اس کی تازہ شکار رابعہ سیفی ہوئی ہے، رابعہ سیفی دہلی پولیس میں انسپکٹر تھی، سنگم وہار دہلی کی رہن والی تھی ،اکیس سال کی اس دوشیزہ نے صرف چار ماہ قبل پولس کی ڈیوٹی جوائن کی تھی ، غریب گھرانے میں پلی بڑھی اس لڑکی میں کچھ کر دکھانے کا جذبہ تھا، لیکن مبینہ طور پر پولیس کے اہل کاروں نے ہی بعض بد عنوانیوں کے افشاء کے خوف سے اس لڑکی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کی اور پھر اس کے جسم کو چاقوؤں سے گودھ کر رکھ دیا، اس کے جنسی اعضا کاٹ ڈالے ، اس کو ذبح کر دیا، اس کے جسم پر پچاس سے زائد زخموں کے نشان پائے گئے، لوگ احتجاج ، دھرنے ، کینڈل مارچ سب کر رہے ہیں، لیکن ان میں وہ جوش نہیں ہے جو نربھیا کے موقع سے دیکھنے کو ملا تھا ، حالاں کہ رابعہ کے ساتھ جو سفاکیت برتی گئی وہ نربھیا سے کسی طرح کم نہیں ہے ۔
صورت حال یہ ہے کہ رابعہ کے قاتل اب تک گرفتار نہیں کیے جا سکے ہیں، اس سلسلے میں حکومت اور پولیس دونوں کی طرف سے سرد مہری پائی جا رہی ہے اور چوں کہ یہ مجرمین پولس کی وردی میں ہیں اس لیے محکمہ ان کو تحفظ فراہم کر رہا ہے ، جو انتہائی افسوسناک ہے، اس معاملہ کو ڈرامائی رخ دینے کے لیے پولیس نظام الدین نامی ایک شخص کو رابعہ کا شوہر بتا کر اس سے اس ظالمانہ عمل کو جوڑ رہی ہے ،اس کی خود سپردگی اور اقرار کی خبریں بھی آرہی ہیں، حالاں کہ رابعہ کے والدین کا کہنا ہے کہ اس کی شادی ہی نہیں ہوئی تھی ، والدین کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اس کالے کرتوت کی اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جائے، اس سے رابعہ تو واپس نہیں آئے گی ، لیکن اس کا سچ ضرور سامنے آجائے گا ، ہم رابعہ کے ورثا کے اس مطالبہ کو حق بجانب سمجھتے ہیں اور سارے انصاف پسند لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں