فکر و نظر / مضامین و مقالات

دنیا گرم ہورہی ہے____

دنیا گرم ہو رہی ہے
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹںہ ============================= پوری دنیا میں اس وقت جو ماحولیاتی تبدیلی ہو رہی ہے، اس کی وجہ سے انسانی زندگی ہی نہیں، درختوں اور جانوروں کے وجود کو بھی شدید قسم کے خطرات لاحق ہیں، اس خطرے کی سنگینی کو پوری دنیا محسوس کر رہی ہے ، اقوام متحدہ نے اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں برطانیہ کی میزبانی میں گذشتہ دنوںعالمی ماحولیاتی کانفرنس(COP26) کا انعقاد کیا تھا، جو یکم نومبر سے ۱۲؍ نومبر ۲۰۲۱ء تک جا ری رہا اور جس میں ایک سو تیس(۱۳۰) ملکوں کے قائدین سفراء ، صحافی اور دانشوران نے شرکت کی اور اس کی سنگینی پر تبادلہ خیال کیا، گو اس اہم کانفرنس میں کئی بڑے ممالک چین ، روس ، جنوبی افریقہ، ایران ، میکسیکو، برازیل، ترکی اور ویٹکن سیٹی کے سربراہان نے شرکت نہیں کی اور مختلف عذر کے سہارے اپنے کو اس اہم ترین کانفرنس سے الگ رکھا۔
پوری دنیا میں حدت اور تپش تیزی سے بڑھ رہی ہے ،اور دنیا دن بدن گرم ہو رہی ہے، انٹر گورنمنٹل پینل آف کلائمنٹ چینج (IPCC)نے نبی نوع انسان کو اس کے لئے ذمہ دار قرار دیا ہے ، اس حدت کے سبب سمندر میں گرم لہریں اٹھ رہی ہیں، جنگل میں آگ لگ رہی ہے ، سیلاب کے خطرات بڑھ رہے ہیں، آتش فشاں پھٹنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ، اس ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پودوں اور جانوروں کی دس لاکھ نسلوں کے ختم ہوجانے کا خدشہ ہے ، جانوروں کے تحفظ کے لیے حکومتی سطح پر کی جانے والی کوشش کے باوجود ۲۰۱۶ء تک دودھ پلانے والے جانور کی ۶۱۹۰؍ نسلوں میں سے ۵۵۹ ؍نسلیں ناپید ہو چکی ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ہر سال کم وبیش اسی لاکھ ٹن کچڑا سمندر میں پھینکا جا رہا ہے ، جس سے آٹھ سوسے زیادہ سمندری جانورکی نسلیں تباہ ہو نے کے دہانے پر ہیں، ایک سروے کے مطابق ۱۹۸۰ء کے بعد پلاسٹک کے ذریعہ پھیلنے والی آلودگی میں دس گنا اضافہ ہوا ہے ، جن کی وجہ سے ۲۶۷؍ پانی میں بود وباش رکھنے والے جانوروں کی نسل ، مثلا کچھوا، سمندری پرندے اور ۴۳؍ فی صد بحری جانور کے ضیاع کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔چالیس فی صد سمندر آلودہ ہو گیا ہے، مچھلیوں کی تعداد گھٹ رہی ہے ، اور اس تبدیلی کی وجہ سے تین ارب سے زیادہ لوگ اس پروٹین سے محروم ہو رہے ہیں جو سمندر سے انسانوں کو ملا کرتا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں زیر زمین جو آبی ذخائر ہیں، ان میں سینتیس (۳۷) اہم ہیں، ان میں سے تیرہ (۱۳)تیزی کے ساتھ خالی ہو رہے ہیں، بظاہر ان کے پھر سے بھرنے کی کوئی امید نہیں ہے، ۲۵؍ کروڑ پچاس لاکھ افراد کو ہر سال خشکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے دیگر ترقیاتی کاموں کے ساتھ غذائی اجناس کی پیداوار پر غیر معمولی اثر پڑتا ہے، اندازہ ہے کہ ۲۰۳۰ء تک دنیا کی درجۂ حرارت میں ۵ئ۱؍ ڈگری سنٹی گریڈ کا اضافہ ہوگا، جس سے دنیا شدید آفات اور موسمی بحران میں مبتلا ہوگی۔ یہ صرف خدشہ نہیں ، بلکہ اب تک وقوع پذیر واقعات سے اس کی تائید ہوتی ہے ، ۲۰۱۹ء میں آسٹریلیا کے جنگل میں آگ لگی تھی، جس کی وجہ سے ترسٹھ لاکھ ہیکٹر سبزہ زار ، تیرہ سو گھر اور ستائیس انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں، ایک بلین جانوروں کی بھی موت اس آتش زنی میں ہوئی تھی، امریکہ کا شہر کیلوفورنیا، ترکی کے دکھنی اور اٹلی کے اتری حصے بھی اس سے متاثر ہوئے، جہاں درجۂ حرارت ۸ئ۴۸؍ ڈگری سیلسیس پہونچ گیا، یونان، الجیریا اوریروشلم تک کے علاقے اس کی زد میں آئے، پڑوسی ملک مالدیپ سمندری سطح سے صرف آٹھ فٹ اوپر ہے ، اس کے یہاں یہ مسئلہ اس قدر پریشان کن ہے کہ ۲۰۰۹ء میں مالدیپ کے صدر محمد نشید نے کابینہ کی میٹنگ زیر آب کی تھی، تاکہ حدت کے اس خطرناک مسئلہ کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول ہوسکے۔
عالمی سطح سے ہٹ کر اپنے ملک ہندوستان کا رخ کریں اور یہاں کی صورت حال کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ہندوستان میں ۲۰۱۸ء میں ۲۰۸۱ لوگ قدرتی آفات کی وجہ سے موت کے منہ میں جاسوئے تھے اور ۳۷۸۰۷ ملین ڈالر کا نقصان ہوا تھا، جو ہمارے ملک کی شرح آمدنی کا ۳۶ء ۰ ؍ فی صد ہے۔ آئی پی سی سی کی رپورٹ کے مطابق اگر سمندر کی سطح پچاس سنٹی میٹر بھی بڑھ جاتی ہے تو ہندوستان کے چھ وہ شہر جس میں بندر گاہ ہے یعنی چنئی، کوچی، کولکاتا، ممبئی، سورت اور وشاکھا پٹنم کے ۸۶-۲؍ کروڑ لوگوں کو سیلاب کاسامنا کرنا پڑے گا۔
یہ خطرات صنعتی انقلاب کی مرہون منت ہیں، کار خانوں سے کاربن ڈائی اکسائڈ اور میتھن گیس جیسی زہریلی چیزیں فضا میں پھیلنے لگیں، ۱۹۹۴ء تک دنیا صنعتی ترقی کے مزے لیتی رہی ، ۱۹۹۵ء میں پہلی کوپ کانفرنس مونٹر یال جرمنی میں منعقد ہوئی، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی، ۱۹۹۷ء میں کیوٹو پروٹو کول کا مسودہ تیار ہوا اور ۲۰۱۵ء میں دو سو سے زائد قائدین نے پیرس معاہدہ کرکے اس پر لگام لگانے کی کوشش کی؛ لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔
مرض بڑھنے کے خوف سے دوا، احتیاط اور تدبیریں چھوڑی نہیں جا سکتیں، اسی لیے گلا سکو عالمی ماحولیات کانفرنس میں سو سے زائد ممالک نے جنگلات کی کٹائی پر روک لگانے اور ۲۰۲۰ء تک میتھن گیس کے اخراج کو تیس (۳۰)فیصد تک کم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے ، کوئلہ کے استعمال پر چالیس ممالک نے کمی کرنے کا وعدہ کیا، لطیفہ یہ ہے کہ سب سے زیادہ کوئلہ استعمال کرنے والے ممالک آسٹریلیا، ہندوستان، چین اور امریکہ نے اس معاہدہ پر دستخط نہیں کیا ہے، یہ پانچ وہ ممالک ہیں جہاں کوئلے کی کھپت زیادہ ہوتی ہے اور کاربن سب سے زیادہ کوئلہ کے جلانے سے ہی پیدا ہوتا ہے ، کوئلہ کے استعمال کے بغیر ہمارے پاور پلانٹ کام ہی نہیں کر سکتے، اس لیے ہندوستان کا شمار گرین ہاؤس گیس خارج کرنے والے ممالک میں تیسرے نمبر ہے، اس نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم ۲۰۷۰ء تک کاربن کے اخراج کو صفر تک لانے کی کوشش کریں گے ۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ کانفرنس میں شامل ۴۵۰؍ ادارے نے ماحولیاتی حدت وحرارت میں کمی لانے کے ۱۳۰؍ ڈالر ٹریلین کا فنڈ دیں گے۔
وعدے ہوتے ہی رہتے ہیں، ۲۰۱۴ء میں بھی اس قسم کا وعدہ اور معاہدہ ہوا تھا، لیکن اس کے نفاذ کی عملی شکل سات سال گذرنے کے بعد بھی نہیں بن سکی،ا ندیشہ ہے کہ اس کانفرنس کی تجاویز بھی کہیں فائلوں میں دب کر نہ رہ جائے۔ جو فنڈ مختص کیا گیا ہے اس کے بندربانٹ میں بھی پریشانیاں آسکتی ہیں، ایسے میں اس کانفرنس کے نتائج پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اگر ہم نے اس طرف توجہ نہیں دی تو روئے زمین پر بنی نوع انسان کے ساتھ دوسرے چرند وپرند کی زندگی بھی آسان نہیں رہے گی۔
قابل ذکر ہے کہ اس معاملہ میں ہندوستان کی پالیسی بدلی ہے اور اسے بھی حالات کی سنگینی کا احساس ہوگیا ہے اور اب وہ اس کے لیے تیار ہے کہ ان حالات کو بدلنے میں وہ اپنی بھر پور حصہ داری نبھائے گااور ماحولیاتی توازن کی برقراری کے لیے کام کرے گا، ہمیں اس تبدیل شدہ موقف کی ستائش کرنی چاہیے۔ پوری دنیا نے ہندوستان کے بدلے ہوئے موقف کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔
(مضمون نگار امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ کے نائب ناظم اور ہفت روزہ نقیب کے مدیر ہیں)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button