اہم خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

داستان ایک گاؤں کی جس کی رونق ہی ختم ہوگئی ابو عنایہ قاسمی

آج سے تین ہفتہ پہلے کی بات ہے کہ اپنے گاؤں سے دور رہنے والا ایک غریب الدیار اپنا گاؤں آیا تو اسے اپنے گاؤں میں پہلے سے زیادہ کہیں چمک دمک اور رونق محسوس ہورہی تھی،ہر گلی اور نکڑ پر ہنستے مسکراتے چہرے نظر آرہے تھے،چائ خانون پر لوگ اپنی اپنی سوچ اور سیاسی بصیرت کے اعتبار سے تبصرے کرتے نظر آتے،ہر شخص اپنے اپنے امیدوار کی جیت کا دعویٰ کرتے دکھائی دیتے، لیکن اس وقت کچھ چہرے ایسے تھے جن کے چہرے کی جہریوں اور آنکھوں میں لگے عینک سے ایک خوف تاکتا،جھانکتا اور کبھی کبھی زبان حال کے علاوہ زبان قال سے بھی درد بھرے لہجے میں یہ کہتا نظر آتا کہ سیاست کے اس داؤ پیچ اور اٹھا پٹخ میں کہیں اس گاؤں کی رونق ہی ماند نا پڑ جائے، اور اس گاؤں والوں کے لیے کوئی شام ایسی نا آئے جس کی سحر کے لئے دیر،بلکہ بہت دیر انتظار کرنا پڑے، اور بقول شاعر گاؤں کی یہ حالت نا ہوجائے۔

ﭼﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﺟﺲ ﺩﻡ ﺷﮧِ ﮔُﻞ ﮐﺎ ﺗﺠﻤﻞ ﺗﮭﺎ
ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺑُﻠﺒُﻠﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺑﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺷﻮﺭ ﺗﮭﺎ ﻏُﻞ ﺗﮭﺎ
ﮐُﮭﻠﯽ ﺟﺐ ﺍٓﻧﮑﮫ ﻧﺮﮔﺲ ﮐﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﺎﺟُﺰﺧﺎﺭ ﮐﭽﮫ ﺑﺎﻗﯽ
ﺑﺘﺎﺗﺎ ﺑﺎﻏﺒﺎﮞ ﺭﻭ ﺭﻭ ﯾﮩﺎﮞ ﻏﻨﭽﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﮔُﻞ ﺗﮭﺎ


٢٦/ستمبر ٢٠٢١ء کی شام اس گاؤں کے لئے منحوس شام تو اسلامی تعلیم کے اعتبار سے نہیں کہی جاسکتی ہے،لیکن ایک تاریک شام ضرور ثابت ہوئی، اور آج اس گاؤں کی حالت یہ ہے کہ راقم الحروف نے اپنی ٣١/ سالہ زندگی میں اس گاؤں میں ایسی بے رونقی نہیں دیکھی، وہی گلیاں ہیں لیکن مکمل ویران، وہی چائ خانے ہیں لیکن یکسر غیر آباد،وہی چہرے ہیں لیکن بالکل اداس،ہر طرف ہو کا عالم ہے، مانو کے ناامیدی کاٹ کھانے کے لئے دوڑ رہی ہو ایسا نہیں کہ اس سے پہلے اس گاؤں پر اس طرح کے حالات نہیں آئے، مجھے یاد ہے کہ اس سے پہلے بھی گاؤں پر اس طرح کے حالات آئے تھے،اور اس گاؤں کے لوگوں سے ایک بڑی سیاسی بھول ہوئی تھی،پر زندہ قومیں تو اپنی غلطی سے سبق سیکھتی ہیں، لیکن سبق سیکھنے کے بجائے اس گاؤں والوں نے دوبارہ اپنی وہی ڈراؤنی پرانی تاریخ کو دہرایا ۔
پتہ نہیں اس گاؤں پر بری نظر رکھنے والے بدخواہ یہاں کی بھولی بھالی سیدھی سادھی عوام کے جذبات سے کب تک کھیلتے رہیں گے؟ اور اس بد نصیب گاؤں کے لوگ اپنے خیر خواہ اور بدخواہ میں کب تمیز کرپائیں گے؟
ہار جیت یہ زندگی کے دو پہیے کی طرح ہوتی ہے، اور زندگی اسی کا نام بھی ہے، لیکن کسی شخص کی ہار سے اگر رونق

بہار ہی ختم ہوجائے تو جگر مرادآبادی کا مصرعہ۔


جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتحِ زمانہ


ورد زباں بن جا یا کرتا ہے،اور اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ شخص مقبولیت کے کس مقام پر ہیں۔
یہ کہانی ہے اہرو پنچایت، دھوریا بلاک ،ضلع بانکا،بہار کے ,,سنگارپور،، گاؤں کی ہے، اور یہ تحریر اس لئے لکھی گئی ہے کہ شاید کہیں کسی گاؤں اور خطہ کے لوگ اس حقیقی کہانی سے کچھ عبرت حاصل کرے!


شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

    ٧/اکتوبر ٢٠٢١ء

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button