اہم خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

جودلوںکوفتحکرلےوہیفاتحزمانہ_✍🏻 حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی(سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ

_#جودلوں_کو_فتح_کرلے_وہی_فاتح_زمانہ_

✍🏻 حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی
(سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ

سنہ۸/ھجری میں مکہ فتح ہوا٬تو قبیلے کےقبیلے مسلمان ہونے لگے،اورجوق در جوق لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہونےلگے٬یہ وہی مکہ ہے جہاں کےباشندگان کے ظلم وستم سے تنگ آکر حضورﷺاور آپ کے صحابہ کرامؓ کومدینہ ہجرت کرنی پڑی،آج اسی مکہ مکرمہ میں محض دس سال کے عرصے کے بعد آپﷺاپنے صحابہؓ کے ساتھ فاتحانہ داخل ہورہے ہیں، یہ سب کچھ محض فضل خداوندی ،حضورﷺکی اور آپ کے صحابہ کرامؓ کی شب و روز کی محنت و جدو جہد ،تبلیغ دین کی راہ میں پیش کی گئی،بیش بہا قربانیوں اور خصوصاً آپ کے اخلاق کریمانہ کانتیجہ تھا٬آج اسلام دشمن طاقتیں میڈیا کے ذریعے یہ پروپیگنڈہ کرتی ہیں کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے،حالانکہ سچائی یہ ہے کہ اسلام تلوار نہیں٬اخلاق کے زور پر اور اپنی اعلیٰ تعلیمات کی بنیادپرپھیلا ہے،جس تلوار نے دنیا کے انسانوں کے دلوں کو فتح کیا٬وہ لوہے اور فولاد کی بنی ہوئی نہیں تھی،وہ تو اخلاق محمدیﷺکی تلوار تھی٬اور وہ عمدہ اخلاق یہی تھے :ظالموں کو معاف کردینا،ذاتی انتقام نہ لینا،گھر والوں کے ساتھ شفقت کامعاملہ کرنا،باہر والوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا٬غریبوں کی مدد کرنا٬محتاجوں کی خدمت کرنا،بیماروں کی مزاج پرسی کرنا٬بیواؤں کی خبر گیری کرنای٬یتیموں کا سہارا بننا،اور انسانیت کی خدمت کے لئے خود کو وقف کردینا٬گویا یہ زندگی اپنی نہیں،دوسروں کی ہے ۔ یہ ساری اچھی خوبیاں اور اعلیٰ اخلاق مکمل طورپرآپﷺکے اندر موجود تھے ۔مکہ مکرمہ کی فتح اور لوگوں کا فوج در فوج اسلام میں داخل ہونا،آپﷺکے اخلاق کریمانہ کا نتیجہ تھا۔ قرآن کریم میںﷲپاک کا ارشاد ہے: اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔(سورہ قلم،آیت:۳)آپﷺاخلاق کے اعلیٰ پیمانے پر قائم تھے ۔ جب مکہ فتح ہوا اس موقع پر سارے مجرمین جو آپ کو طرح طرح کی تکلیفیں دیاکرتے تھے ۔ وہ لوگ جو حضرت سمیہؓ کے قاتل تھے٬حضرت بلالؓ کو تپتی ہوئی ریت پر گھسیٹنے والے تھے،حضرت عمار ابن یاسرؓ٬حضرت خباب ابن ارتؓ کو انگاروں پر لٹانے والے٬اور حضورﷺکی بڑی صاحبزادی حضرت زینبؓ کو نیزہ مار کر اونٹ سے نیچے گرانے والے اور ان کو شہید کرنے والے تھے ۔ایسے تمام جانی دشمن اور باغیانِ اسلام آج سر جھکائے آپﷺکے سامنے کھڑے تھے ۔اور ہزاروں صحابہ کرام کی تلواریں ان کی گردن اتارنے کی منتظر تھیں،کہﷲکے رسولﷺکی زبان سے اشارہ ملے اور ان مجرموں کو قتل کر کے ان کے انجام تک پہنچادیاجائے ۔ جوش سے بھرے ہوئے ایک صحابیؓ کی ایک زبان سے اس موقع پر یہ جملہ نکلا:’’اَ لْیَوم یَوْمُ الْمَلْحَمۃِ،اَلْیَوْم تُسْتَحَلُّ الْکَعْبَۃُ‘‘کہ آج تو بدلے کا دن ہے،آج خون بہایاجائے گااور کعبہ کی حرمت کچھ دیر کے لئے اٹھالی جائے گی۔ﷲکے پیارے نبیﷺنے جب یہ سنا تو ارشاد فرمایا: اَلْیَوْم یَوْمُ الْمَرْحَمَۃِ،یعنی آج بدلہ لینے کا دن نہیں٬بلکہ رحم کرنے کا دن ہے،آج کا دن معاف کرنے اور انتقام نہ لینے کا دن ہے۔ سارے مجرمین سر جھکائے منتظر کھڑے ہیں کہ آج ان کی زندگی کا کیا فیصلہ کیاجائے گا۔حضورﷺنےان سے پوچھا :بتاؤ! تمہارے ساتھ کیاسلوک کیاجائے؟ انہوں نے کہا: آپ شریف باپ کے شریف بیٹے ہیں٬اور کریم بھائی ہیں،اور ہمیں آپ سے شرافت ہی کی امید ہے٬حضور ﷺ نے فرمایا: ’’آج تم پر کوئی ملامت نہیں، آج میں بھی تم سے وہی کہوں گا جو میرے بھائی یوسفؑ نے اپنے مجرم بھائیوں سے کہا تھا، لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ آج تم سے کوئی باز پرس نہیں کی جائےگی ،اِذْھَبُوْاوَاَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ جاؤ! آج تم سب کے سب آزاد ہو ؂

وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جودلوں کوفتح کرلے وہی فاتح زمانہ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button