اہم خبریںعالمی خبریں

جمعیۃ علماء ضلع روتہٹ نیپال کا پروگرام اختتام پذیر

مولانا خالد صدیقی،مولاناوقاری  محمد حنیف عالم قاسمی،مولانا عزرائیل مظاہری،مولانا شوکت علی قاسمی مدنی، مولانا محمد خیر الدین مظاہری ،پروفیسر محمد مقصود صاحب کے مختصر اور اہم بیانات!

رپورٹ :انوار الحق قاسمی

نیپال ( قومی ترجمان بیورو) بتاریخ 28/ربیع الاول 1443ھ مطابق 4/نومبر 2021ء جمعیۃ علماء ضلع روتہٹ نیپال کا مردم شماری،جمعیۃ علماء ضلع روتہٹ نیپال کی توسیع،تحفظ ختم نبوت کے عناوین پر ایک مختصر اور اہم پروگرام مولانا محمد درخشید انور مرکزی ممبر جمعیۃ علماء نیپال کے ادارہ” جامعۃ البنات فاطمۃالزہرا بھگوان”میں بڑے ہی آب و تاب کے ساتھ منعقد ہوا۔جس کی سرپرستی بانی جمعیۃ ، ہردل عزیز عالم دین مولانا محمد عبد العزیز صدیقی سرپرست جمعیۃ علماء نیپال نے فرمائی،اور صدارت جمعیة علماء ضلع روتہٹ نیپال کے  صدر مولانا محمد شوکت علی قاسمی المدنی نے فرمائی۔نظامت کے فرائض مولانا محمد عبد الخالق قاسمی نے بحسن و خوبی انجام دیا۔

مولانا رحمت اللہ قاسمی المدنی نے تحریک صدارت پیش کرتے ہوئے فرمایا:کہ اکابر امت کا یہ دستور رہا ہے کہ وہ اپنی محفل اور پروگرام کے آغاز سے قبل میر کارواں کا انتخاب کرلیاکرتے تھے،چناں چہ ہم بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئےاور سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے بطورِ میر کارواں یعنی صدارت کے لیے مولانا محمد شوکت علی قاسمی المدنی صدرِ جمعیة علماء ضلع روتہٹ نیپال کا اسم گرامی پیش کرتے ہیں،امید کہ کوئی صاحب اس کی تائید فرمائیں گے،تو مولانا محمد اسلم جمالی قاسمی نے رونق اسٹیج ہوکر اس کی تائید فرمائی۔


 پروگرام کا آغاز قاری خوش الحان قاری شہاب الدین بلواوی کی تلاوت قرآن سے ہوا،اور پھر شان رسالت میں نذرانہ عقیدت پیش کیاگیا۔جامعہ البنات فاطمۃالزہرا کے ناظم مولانا محمد درخشید انور نے پروگرام میں شرکت کرنے والے تمام مہمانان کرام کا پرزور لفظوں میں استقبال کیا، اہلا و سہلا مرحبا اور خوش آمدید کہا۔بعد ہم پروگرام اپنے اہم مقاصد کی طرف گامزن ہوگیا؛چناں چہ ناظم پروگرام مولانا عبد الخالق قاسمی نے مولانا مفتی محمد کلیم قاسمی متعلم جامعہ ام القری مکہ مکرمہ کو چند منٹ گفتگو کرنے کا موقع دیا،تو انہوں نے مختصر وقت میں جمعیة علماء نیپال کے قیام پر روشنی ڈالااور عوام الناس سے ہمہ وقت ،یعنی جب بھی جمعیت کو ضرورت پڑے، جمعیة علماء نیپال کا دامے،درمے،قدمے،سخنے تعاون کی درخواست کی۔
    مدرسہ امداد الغربا بلوا کے صدر المدرسین مولانا عزیز الرحمان قاسمی نے کہا:کہ نو منتخب جمعیة کے ذمہ داران اور خاص طور سے صدر جمعیة مولانا خالد صدیقی اور ناظم عمومی مولانا قاری محمد حنیف عالم قاسمی،مدنی سے میری یہ درخواست ہےکہ آپ حضرات سے امت کو بے شمار توقعات وابستہ ہیں؛اس لیے جملہ ذمہ داران پہلے سے بھی زیادہ نمایاں اور اہم کار کردگی کا مظاہرہ کریں،تاکہ جمعیة پورے ملک میں اپنا سکہ جما سکے۔
  پروفیسر محمد مقصود صاحب نے مردم شماری کے موضوع پر بہت ہی اہم گفتگو کی۔دوران گفتگو انہوں نے کہا:کہ ہرملک میں ہر دس سال کے بعد مردم شماری  کا عمل شروع ہوتاہے،جس کے ذریعہ ملک میں بسنے والے مختلف ادیان و مذاھب کے متبعین کی صحیح تعداد معلوم کی جاتی ہے،پھر حکومت  تمام ادیان ومذاہب کے ماننے والوں کوان کی  تعداد کی قلت و کثرت کے مطابق حقوق دیتی ہے۔
  2068بکرمی میں جو مردم شماری ہوئی،اس کے  مطابق ہم مسلمانوں کی تعداد ملک نیپال میں بس گیارہ لاکھ (1100000)ہے؛اس لیے اس دفع یعنی 11/نومبر سے 25/نومبر تک جو مردم شماری کا عمل شروع ہونے والا ہے،اس میں تمام علماء کرام،ائمہ عظام اور مسلم دانشوران بیداری کا ثبوت دیں ،تاکہ مسلمانوں کی مردم شماری صحیح طریقہ سےہوسکے،اور مسلمانوں کی صحیح تعداد حکومت تک پہنچ سکے۔
مسلمانوں کو چاہئے کہ اس موقع سے مندرجہ ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں!:
(1)نام کے خانے میں اپنا مکمل نام ،جو ناگرکتامیں مکتوب ہےاسے لکھوائیں(2) مذہب کے خانے میں اسلام(3)ذات ذاتی کے خانے میں مسلمان(4)مادری زبان کے خانے میں اردو(5)دیگر زبانوں کے خانے میں بھوجپوری،میتھلی وغیرہم(6)آبا و اجداد کی زبان کے خانے میں میں بھی اردو لکھوائیں! پروفیسر محمد مقصود نے اخیر میں یہ کہا :کہ تمام ائمہ کرام جمعہ کے دن مردم شماری کے عنوان پر خطاب فرمائیں اور امت مسلمہ کو مردم شماری سے متعلق تمام معلومات فراہم کریں۔
   جمعیۃ علماء نیپال کے مرکزی ممبر مولانا محمد عزرائیل مظاہری نے کہا:کہ ملک نیپال میں بہت سی  تنظیمیں قائم ہوئیں،اور وہ  اپنے بانی کی حیات ہی میں دفن ہوگئیں؛مگر جمعیة علماء نیپال اپنے بانی کے اخلاص کی بنا اب تک قائم ہے اور روز افزوں ترقی پذیر ہے اور آنے والے وقتوں میں بھی جمعیة مزید ترقی کرےگی۔
  مولانا نے مزید کہا:کہ "ضلع روتہٹ”جمعیة علماء نیپال کے لیے ” کعبہ "کے درجہ میں ہے،اس لیےیہاں  کے مسلمانوں کو خصوصاً جمعیة سے دلچسپی رکھنی چاہئے اور جمعیة کا ہرممکن تعاون کرناچاہیے۔
  مولانا محمد خیرالدین مظاہری نے کہا:کہ انسان کو اپنی آواز حکومت تک پہنچانے کے لیے کسی نہ کسی تنظیم کی ضرورت پڑتی ہے،جس تنظیم کے بینر تلے وہ اپنی آواز حکومت تک پہچاتے ہیں، واضح رہے کہ بغیر تنظیم کے کوئی قوم بآسانی اپنی آواز حکومت تک نہیں پہنچا سکتی ہے؛اس لیے ضرورت پڑی کہ ہم مسلمانوں کی بھی ایک مستقل اور علاحدہ تنظیم ہو،جس کے ذریعہ ہم اپنی آواز  حکومت تک پہنچاسکے،تو ہمارے اکابر نے2008ء میں جمعیة علماء نیپال کا قیام عمل میں لایا،جو آج  اپنی نمایاں خدمات کے ذریعہ پورے ملک میں اپنا روشن کر چکی ہے،مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس تنظیم کی قدر کریں اور بڑھ چڑھ کر اس کا تعاون کرتے رہیں۔
   جمعیة علماء نیپال کے ناظم عمومی مولانا وقاری محمد حنیف عالم قاسمی،مدنی نے کہا:کہ جمعیة کے قیام سے پہلے پہاڑی علاقے میں جب کوئی  کرتا،پائجامہ اور ٹوپی زیب تن کرکے جاتا،تو پہاڑ میں بسنے والے لوگ کہتے تھے کہ یہ اسامہ بن لادن کی اولاد ہے؛مگر چند سال پہلے نیپال میں جو زلزلہ آیا،تو اس موقع سے جمعیة علماء نیپال نے بلا تفریق مذہب و ملت ہر ایک زلزلہ سے متاثر ہونے والے شخص کا بھر پور تعاون کیا،تو اس موقع سے یہی پہاڑ میں رہنے والے لوگوں نے ہم لوگوں کو”جمعیة علماء نیپال” کی خدمات سے متاثر ہوکر کہا :کہ یہ لوگ بہت اچھے ہیں اور ہمارے لیے "بھگوان” کے درجے میں ہے۔ناظم عمومی صاحب نے مزید کہا:کہ آج  ملک میں  جو ہماری کچھ شناخت ہوئی ہے،اس میں جمعیة علماء نیپال کا ایک اہم کردار ہے،جس کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتاہے۔


   جمعیۃ علماء نیپال کے صدر مولانا محمد خالد صدیقی نے کہا :کہ جمعیة علماء نیپال کی کیا خدمات ہیں؟اس سلسلے میں،میں کیاکہوں،اگر آپ کو معلوم کرناہے،تو آپ حکومت سے پوچھیں!کہ جمعیة علماء نیپال کی کیا خدمات ہیں؟وہ آپ کو جمعیة کی خدمات بتلائےگی۔
صدر محترم نے مزید کہا:کہ ہم نے ہر شعبے میں اپنے مطالبات رکھے ہیں،آپ تحقیق کرسکتے ہیں۔صدرِ محترم نے کہا:کہ ہر لائن میں اگر کوئی صحیح قیادت کرسکتاہے،تو وہ علماء کرام ہی کی ذات ہے،یہ الگ بات ہے کہ  ہم نے اب تک سیاست میں حصہ نہیں لیاہے؛مگر اب ضرورت اس بات کی مقتضی ہے کہ علماء کرام سیاست میں حصہ لیں اور اپنے اندر سیاسی شعور پیداکریں۔صدرِ محترم نے کہا:کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ایک نمبر پردیش،دونمبر پردیش اور تین نمبر پردیش میں ہم مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہونے کے باوجود ہم مسلمانوں کا کوئی ایک بھی  ایسارکن پارلمینٹ نہیں ہے،جو قوانین کو بخوبی جانتا ہو اور ہم مسلمانوں کی پارلیمنٹ میں صحیح ترجمانی کرسکتاہو؛اس لیے ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ پانچ(5) مہینے کے بعد ہونے والے انتخابات میں اپنا ایک نمائندہ پردیش میں بنائیں اور ایک سنگھ میں،تب ہی جاکر مسئلہ کا کچھ حل نکل سکتا ہے۔

جمعیۃ علماء ضلع روتہٹ نیپال کے صدر مولانا محمد شوکت علی قاسمی المدنی نے کہا:کہ عوام الناس کو چاہیے کہ علماء کرام کی عزت کریں؛کیوں کہ علماء کرام ہی  انبیاء کرام کے وارث اور جانشین ہیں،اگر آپ ان کی عزت نہیں کریں گے،تو پھر یہ کیا کریں گے ،یہ بھی دنیا کمانے میں لگ جائیں،اللہ انہیں بھی دوہاتھ،دوپاؤں،دوآنھیں عطا کی ہیں،یہ بھی دیگر ملکوں میں جاکر ایک لاکھ کا مہینہ بآسانی کماسکتےہیں ؛مگر اس وقت تم اپنے دین کا خیرمنانا،بےدینی وگمراہی عام ہوجائے گی ،تب تم علماء کرام کی عزت کروگے۔

مسلمانوں!جب ایسے حالات آجائیں گے،تو پھر چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی تمہیں کوئی عالم نہیں ملے گا؛اس لیے ایسے حالات آنے سے قبل ہی اپنی حالت بدل لو اور علماء کرام کی خوب خوب عزت کرو،اسی میں بھلائی ہے۔ پھر جمعیۃ علماء ضلع روتہٹ نیپال کی توسیع کے عنوان پر باہمی تبادلہ خیال ہوا،اور باتفاق آرا مولانا محمد شوکت علی قاسمی المدنی پھر دوبارہ صدر منتخب کیےگئے۔پھر علماء کرام نے باقی عہدوں کے انتخابات کی ذمہ داری صدرِ محترم کے ذمہ سپرد کردیا ہے،اسی طرح تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہونے کی تاریخ کی  تعیین کی ذمہ داری بھی صدرِ محترم کے حوالے سونپ دیا ہے۔عزثزَ

اس پروگرام میں شرکت کرنے والے چند علماء کرام کے اسماء بطور خاص ذکر کیے جاتےہیں: انجینئر عبد الجبار،مولانا محمد جواد عالم مظاہری، مولانا محمد عمیس سرہا،مولانا اسعد اللہ مظاہری،مولانا ضیاء اللہ بیریاوی،مولانا عبد الودود امام سنت پور،مولانا صابر مظاہری،مولانا رحمت اللہ امام گئور،مفتی معین الدین لچھمی پور،قاری شہاب الدین راجپور،قاری عظمت اللہ ،قاری بشیر الدین،مولانا علاء الدین،مفتی مزمل،مفتی ناصر قاسمی،مکھیا سلیم اللہ،مکھیا امیر اللہ،مولانارحمت علی۔
پروگرام کا اختتام صدر جمعیت مولانا محمد خالد صدیقی کی پر سوز دعاپر ہوا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button