اہم خبریںبین ریاستی خبریںتعلیم و روزگاردہلی

جامعہ ملیہ اسلامیہ کا پھر دنیا بھر میں بجا ڈنکا ، ایک اور کارنامہ اپنے نام…

دہلی (قومی ترجمان) جب بھی ملک کی نامور یونیورسٹیوں کا نام لیا جائے اور دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کا نام نہ لیا جائے یہ ممکن نہیں۔جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والے لاکھوں افراد دنیا بھر میں اپنا نام روشن کر رہے ہیں۔

اب خبر آ رہی ہے کہ دہلی کی اس باوقار جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے نام ایک اور بڑا کارنامہ جڑ گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ان دنوں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی اپنی کامیابیوں کو لے کر مسلسل بحث کا حصہ بنی ہوئی ہے۔

درحقیقت جامعہ ملیہ اسلامیہ نے نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (NAAC) کے جائزے میں ‘A++’ گریڈ حاصل کیا ہے۔ اس کامیابی کو لے کر جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے۔ یہ معلومات دیتے ہوئے بتایا گیا کہ NAC نے یونیورسٹی کو A++ رینک دیا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ اس سے قبل سال 2015 میں یونیورسٹی کو NAC کے جائزے میں ‘A’ رینک دیا گیا تھا، NAC کا ‘A++’ رینک ملنے کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر نجمہ اختر نے اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ ان کی پانچ سال کی محنت کا نتیجہ ہے۔ یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا۔ یہ پوری یونیورسٹی انتظامیہ کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ گزشتہ ماہ کے اوائل میں امریکہ کی سٹینفورڈ یونیورسٹی نے جامعہ کے 16 محققین کو دنیا کے ٹاپ 2 فیصد سائنسدانوں کی باوقار عالمی فہرست میں شامل کیا تھا۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی کے نامور پروفیسر، پروفیسر۔ جان Ioannidis کی قیادت میں ماہرین کی ایک ٹیم نے تیار کیا تھا۔

اس وقت اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی اس فہرست میں ہندوستان کے کل 3352 محققین کو جگہ دی گئی ہے۔ جو عالمی تحقیقی پلیٹ فارم پر ملک کے قابل قدر اثر و رسوخ کی نمائندگی کرتا ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ سٹینفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے دو مختلف فہرستیں جاری کی گئی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button