اہم خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

تعلیماتِ نبویﷺ میں حکمت و نفسیات کی رعایت… قسط =۴=






سیرت نبوی کا مطالعہ نفسیات و اجتماعیات کے نقطئہ نظر سے ،آج کے زمانے میں اس کی بڑی اہمیت ہے ۔ سیکلوجی آف سیرت کے مواد کتب سیرت میں بکھرے ہوئے ہیں ،ضرورت ہے سیرت پاک کے اس مواد کا ہم مطالعہ گہرائی کے ساتھ کریں ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے بہت سے اقدامات اور فیصلے ایسے تھے جس میں نفسیات و سوشیالوجیکل کے پہلو نمایاں ہیں ۔۔۔ اس پہلو اور پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے کہ وہاں کس ماحول اور کس پس منظر میں آپ یہ کام کر رہے تھے ۔ یہ پس منظر بہت سی چیزوں کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے ۔مدینہ منورہ میں اجتماعیت کس انداز کی تھی ،خاندان اور قبائل کون کون سے آباد تھے ان کے آپس کے تعلقات کی نوعیت کیا تھی،مدینہ کی معاشرت کیا تھی ۔۔ وہاں جاکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی نفسیات کی رعایت کرتے ہوئے کس طرح ان میں مواخوات اور بھائی چارہ قائم کی کہ انصار و مہاجر باہم شیر و شکر ہو اسلام کی خدمت اور دین کی دعوت میں لگ گئے؟ ۔۔ اس کے لیے سیرت کی کتابوں کا مطالعہ گہرائی کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے ۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بادشاہ یا گورنر کے پاس کسی قاصد اور سفیر کو روانہ کرتے، تو اس کا خاص خیال رکھتے تھے کہ وہ قاصد ایک صحیح ترجمان،سفیر، ایلچی اور نمائندہ ہو، ذہانت و فطانت اور علمیت کے ساتھ ساتھ حسن سیرت اور حسن صورت کا جامع ہو ،جو وقت پڑھنے پر اسلام کی صحیح ترجمانی کرسکتا ہو ، جو وہاں کی ثقافت، تمدن،کلچر اور تہذیب و روایات سے واقفیت رکھتا ہو ، عام طور پر دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ اس ذمہ داری کو انجام دیتے تھے جو صورت اور سیرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت مشابہ تھے ۔ حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ نے بھی اس فرض کو ادا کیا ۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی نجاشی کے دربار میں کوئی خط بھیجا تو حضرت عمرو بن امیہ الضمری رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بھیجا ۔ بلکہ یہاں تک روایت میں آتا ہے کہ جب آپ نے پہلی بار عمرو بن امیہ الضمری کو نجاشی کے دربار میں بھیجا تو اس وقت تک وہ اسلام بھی نہیں لائے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کا تعلق اور دوستی قبول اسلام سے پہلے سے تھی ۔ بعد میں کئی مواقع پر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک لے کر نجاشی کے دربار میں گئے۔


اس انتخاب کی کیا وجہ تھی کہ ہر بار نجاشی کے دربار میں قاصد اور سفیر بن کر مذکورہ صحابی ہی گئے ،اس انتخاب کی یقینا ایک وجہ تھی اور وہ یہ تھی کہ وہ نجاشی کا ہم عصر تھا ، جب نجاشی کے والد کا انتقال ہوا تو وہ بہت کم سن تھے ان کے کسی رشتہ دار نے سازش کرکے اقتدار سے نجاشی کو محروم کر دیا اور اس کے قتل کے درپے ہوگیا ۔اس موقع پرنجاشی جان بچا کر بھاگے اور بنی ضمرہ میں کسی دوست کے گھر پناہ لی اور بچپن وہیں گزرا ۔عمرو بن ضمرہ بھی اسی سردار کے بیٹے تھے جس کے یہاں کم سن نجاشی نے پناہ لی تھی اور وہ نجاشی کے ہم عمر تھے اور بچپن میں نجاشی کے ساتھ کھیلا کرتے تھے ۔دونوں میں گہری دوستی تھی ساتھ شکار کھیلا کرتے تھے ۔دس بارہ سال تک یہ رفاقت رہی ،پھر مصر کے حالات بدلے غاصب حاکم کو مصر کے لوگوں نے نکال دیا اور اصل وارث نجاشی کو بلا کر دو بارہ تخت نشین کرایا ۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عمرو بن بنی امیہ کو نجاشی کے دربار میں ہمیشہ سفیر بنا کر بھیجنا سمجھ میں آتا ہے کہ پیش نظر کیا تھا اور اس میں حکمت اور نفسیات کیا تھی ۔۔ آج بھی عالمی سفارت اور ترجمانی میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی اصول کو اپنایا جانا چاہیے ۔۔۔


۔۔مستفاد محاضرات سیرت از ڈاکٹر محمود احمد غازی 98/97۔۔
صلح حدیبیہ کے موقع پر جب مکہ والوں کو علم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی ایک تعداد کے ساتھ مکہ کے قریب آ گئے ہیں، تو سخت گھبراہٹ ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب سمجھا کسی ساتھی کو بھیج کر اہل مکہ کو اطمینان دلایا جائے ، اس کے لیے آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا ، وجہ یہ رہی ہوگی کہ ان کے اندر شجاعت ہمت جرآت اور بہادری کے اوصاف نمایاں ہیں ۔آپ نے جب حضرت عمر فاروق کو طلب کیا تو وہ حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ۔ مکہ میں بنی عدی بن کعب یعنی میرے خاندان کا ایک آدمی بھی موجود نہیں ہے ،جو ان کے در پئے آزار ہونے پر میری حمایت کرسکے ، بہتر یہ ہوگا کہ آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو وہاں جانے کا حکم فرمائیں کہ انکا پورا خاندان وہاں موجود ہے اور وہ پیغام رسانی کا فریضہ بھی اچھی طرح انجام دے سکتے ہیں ان کے اندر حلم ،سنجیدگی وقار اور شگفتہ مزاجی کے اوصاف نمایاں ہیں ۔آپ نے اس رائے کو بہت پسند کیا اور اس حکمت اور نفسیات کی رعایت کی ، کوئی خفگی اور ناراضگی نہیں ہوئی ، بلکہ اس پر اطمینان کا اظہار فرمایا ۔۔ کیا آج کے ذمہ داران اور ارباب اہتمام نظماء اور تنظیموں کے صدور ان باریکیوں اور ان حکمتوں کو جلد ماننے کے لیے تیار ہوں گے ۔وہ فورا اس کو بے ادبی اور گستاخی پر محمول کریں گے اور یہ سمجھیں گے کہ سامنے والے نے ان کی حکم عدولی کی ہے ۔۔۔


یہاں اس پہلو کی طرف بھی نظر ہونی چاہیے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اس طرز عمل نے یہ ثابت کر دیا کہ جو جس عہدے ،ذمہ داری اور مقام و منصب کا اہل نہ ہو اپنے اندر وہ اوصاف اور شرائط نہیں محسوس نہیں کرے، انہیں فورا دستبردار ہو جانا چاہیے اور خود اعلان کر دینا چاہیے کہ میرے اندر یہ اہلیت نہیں ۔


اس سے نظم و نسق میں مضبوطی آتی ہے اور حکومت ، مملکت اور ادارے ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں ، اور راہ کی رکاوٹیں دور ہوتی ہیں ،سفر آسان ہوتا ہے ، اور منزل قریب ہوتی ہے ۔


آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف طریقہ سے ماحول سازی کا حکم دیا، کہیں آپ نے اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دی، کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ فرض نمازوں کے علاوہ دوسری نمازیں گھر میں پڑھو ، یہ افضل طریقہ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے کہ گھروں میں نماز پڑھا کرو، اس کو قبرستان نہ بناو۔ (مسلم شریف) غور کیجئے کہ مسجد سے زیادہ پاکیزہ جگہ کون سی ہوسکتی ہے اور نماز جیسی عبادت کے لیے کون سا مقام ہے جو اس سے زیادہ موزوں ہو؟ اس کے باوجود رسول ﷺ نے سنن و نوافل کو گھر میں پڑھنے کا حکم دیا اس کی حکمت اور مصلحت یہی سمجھ میں آتی ہے کہ اس کی وجہ سے گھر کا ماحول دینی بنے گا، بچے جب اپنے بڑوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اکثر ان کی نقل کرنے لگتے ہیں اور نماز کی اہمیت ان کے تحت الشعور میں بیٹھ جاتی ہے۔


اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں قرآن مجید کی تلاوت کرنے کی خاص ترغیب دی ہے۔ حضرت ابو ہریرەؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناو، بلکہ اس میں تلاوت کیا کرو، خاص کر سورہ بقرہ کی، جس گھر میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے، شیطان وہاں سے بھاگ جاتا ہے، گھر میں تلاوتِ قرآن، ایک ایسا عمل ہے جو ماحول بنانے میں بہت موثر ہوتا ہے، گھر کے بچوں میں بھی یہ بات راسخ ہوجاتی ہے کہ ہمیں قرآن پاک کی تلاوت کرنی چاہیے۔ اسی طرح آپ نے گھر میں ذکر کرنے کی فضیلت بیان کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، جس گھر میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے اور جس گھر میں اللہ کا ذکر نہیں کیا جاتا ان کی مثال زندہ اور مردہ شخص کی ہے۔ مسلم شریف۔۔۔


مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے تمام مسلمانوں پر یہ بات واجب قرار دی گئی تھی کہ وہ اپنے اپنے علاقہ کو چھوڑ کر مدینہ منورہ میں آکر مقیم ہوجائیں اس حکم کی بنیادی وجہ اور سبب یہی تھا کہ لوگوں کو ایک معیاری دینی ماحول ملے، وہ لوگوں کو دیکھ کر دین سیکھیں اور اسلامی اخلاق کا نمونہ بن سکیں ، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت تھی، اسی ماحول کا اثر تھا کہ جو لوگ ظلم و جور قتل و قتال، بے حیائی و بے شرمی اور شراب و کباب کے لیے مشہور تھے، انہوں نے ایک ایسی بلند پایہ سوسائٹی کا نقشہ چھوڑا کہ انبیاء کرام کے سوا زمین کے سینے پر اور آسمان کے سائے میں اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی، یہ رسول ﷺ کی بافیض صحبت، آپ کی حکمت و دانش مندی اور ماحول کا اثر تھا۔۔

ناشر/ مولانا علاءالدین ایجوکیشنل سوسائٹی، دگھی، گڈا، جھارکھنڈ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button