اتر پردیشاہم خبریں

ایک ایک لمحہ سرکارِ دوعالمﷺ کے تذکرہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ مولانا محمد انس حبیب قاسمیؔ

غازی پور( فاطر احمد) محمد آباد تحصیل میں غازی پور سے تقریباً پچاس کیلو میٹر پورب 664ھ مطابق 1264ءسلطان التمش کے ذمانے میں محترم جناب تاج الدین صاحب ؒ کی آمد ہوئی اور اس گاؤں کی بیناد اپنے نام پر تاج پور رکھا،جمعیۃ علماء غازی پور کا ایک وفد تاج پور ڈیہمہ پہنچ کر جلسہ سیرت النبی ﷺگاؤن کی چھوٹی مسجد میں جمعیۃ علماءتاجپور کے صدر ڈاکٹر نسیم اظہر انصاری کے زیر صدارت اعنقاد کیا۔

جلسہ سیرت النبی ﷺ بعد نماز مغرب حافظ سرفراز احمد کے تلاوت قرآن سے آغاز ہوا،اور نعت النبی ﷺ حافظ عاشق الٰہی امام جامع مسجد آمینہ آباد تاج پورنے جب نام محمد زباں پر رہے گا،پڑھا۔
اورمسجد ھٰذا کے امام و خطیب مولانا اسعد جاوید قاسمی ؔ نے

باطل سے کبھی حق نہ دبا ہے نہ دبے گا
روکے سے یہ سیلاب رکا ہے نہ رکے گا


نظم پڑھی۔محمد غفران تاجپوری ؔنظم پیش کر تے ہوئے پڑھا

مایوس نظر آتے ہیں مسجد کے منارے
آتا ہی نہیں کوئی مؤذن کے پکارے

جمعیۃ علماء ضلع غازی پور کے نائب جنرل سکریٹری مدرسہ اشاعت العلوم کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد نعیم الدین غازی پوری ؔ نے نظامت کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد ﷺ سارے جہان کیلئے رحمت بن کر آئے، آپؐ کے ارشادات اور تعلیمات میں انسانوں کیلئے رہنمائی اور شفا ہے، آپؐ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا اور سیرتؐ طیبہ کو عام کرنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ حضورﷺ سے محبت ہمارے ایمان کا جز ہے، تاجدار مدینہ ﷺ سے محبت کا ایک اہم تقاضہ یہ ہے کہ آپؐ کی سیرت اور تعلیمات کو ہم خود بھی اپنی زندگی میں شامل کریں اور انہیں پورے عالم میں عام کرنے کی فکر کریں۔

جمعیۃ علماء ضلع غازی پور کے جنرل سکریٹری مولانا محمد انس حبیب قاسمیؔ نے اپنے جامع بیان میں کہا کہ برادران عزیز! نبی کریمﷺ کا ذکر مبارک انسان کی عظیم ترین سعادت ہے اور اس روئے زمین پر کسی بھی ہستی کا تذکرہ اتنا باعث اجر و ثواب اتنا باعث خیر و برکت نہیں ہوسکتا جتنا سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ کا تذکرہ ہوسکتا ہے۔ لیکن تذکرہ کے ساتھ ساتھ ان سیرتِ طیبہ کی محفلوں میں ہم نے بہت سی ایسی غلط باتیں شروع کردی ہیں جن کی وجہ سے ذکر مبارک کا صحیح فائدہ اور صحیح ثمرہ ہمیں حاصل نہیں ہورہا ہے۔ان غلطیوں میں سے ایک غلطی یہ ہے کہ ہم نے سرکارِ دو عالمﷺ کا ذکر مبارک صرف ایک مہینے یعنی ربیع الاوّل کے ساتھ خاص کردیا ہے اور ربیع الاوّل کے بھی صرف ایک دن اور ایک دن میں بھی صرف چند گھنٹے نبی کریم ﷺ کا ذکر کرکے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے نبی کریمﷺ کاحق ادا کردیا ہے، یہ حضورِ اقدس ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے ساتھ اتنا بڑا ظلم ہے کہ اس سے بڑا ظلم سیرتِ طیبہ کے ساتھ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔

صحابہ کرام رضوان ﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کی پوری زندگی میں یہ بات آپ کو نظر نہیں آئے گی اور نہ آپ کو اس کی ایک مثال ملے گی کہ انہوں نے ۱۲؍ ربیع الاوّل کو خاص جشن منایا ہو۔ عید میلادالنبی کا اہتمام کیا ہو یا اس خاص مہینے کے اندر سیرتِ طیبہ کی محفلیں منعقد کی ہوں۔ اس کے بجائے صحابہ کرام کاطریقہ یہ تھا کہ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ سرکارِ دوعالمﷺ کے تذکرہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ جہاں دو صحابہ ملے انہوں نے آپﷺ کی حدیث اور آپ ﷺ کے ارشادت آپ کی دی ہوئی تعلیمات کا، آپﷺ کی حیاتِ طیبہ کے مختلف واقعات کا تذکرہ شروع کردیا۔ اس لئے ان کی ہر محفل سیرتِ طیبہ کی محفل تھی۔ ان کی ہر نشست سیرتِ طیبہ کی نشست تھی۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ ان کو نبی کریمﷺ کے ساتھ محبت اور تعلق کے اظہار کیلئے رسمی مظاہروں کی ضرورت نہ تھی کہ عید میلادالنبی منائی جارہی ہے اور جلوس نکالے جارہے ہیں، جلسے جلوس ہورہے ہیں، چراغاں کیا جارہا ہے۔ اس قسم کے کاموں کی صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں ایک مثال بھی پیش نہیں کی جاسکتی۔اسلام رسمی مظاہروں کا دین نہیں۔

بات درحقیقت یہ تھی کہ رسمی مظاہرہ کرنا صحابہ کرام کی عادت نہ تھی وہ اس کی روح کو اپنائے ہوئے تھے۔ حضورِ اقدس ﷺ اس دنیا میں کیوں تشریف لائے تھے؟ آپ ﷺ کا پیغام کیا تھا؟ آپﷺ کی کیا تعلیم تھی؟ آپ ﷺ دنیا میں سے کیا چاہتے تھے؟ اس کام کیلئے انہوں نے اپنی ساری زندگی کو وقف کردیا۔ لیکن اس قسم کے رسمی مظاہرے نہیں کئے اور یہ طریقہ ہم نے غیر مسلموں سے لیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ غیر مسلم اقوام اپنے بڑے بڑے لیڈروں کے دن منایا کرتی ہیں اور ان دنوں میں خاص جشن اور خاص محفل منعقد کرتی ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی ہم نے سوچا کہ ہم بھی نبی کریمﷺ کے تذکرہ کیلئے عید میلاد النبی منائیں گے اور یہ نہیں دیکھا کہ جن لوگوں کے نام پر کوئی دن منایا جاتا ہے درحقیقت وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی زندگی کے تمام لمحات کو قابل اقتداء اور قابل تقلید نہیں سمجھا جاسکتا، بلکہ یا تو وہ سیاسی لیڈر ہوتا ہے یا کسی اور دنیاوی معاملے میں لوگوں کا قائد ہوتا ہے، تو صرف اس کی یاد تازہ کرنے کیلئے اس کا دن منایا گیا، لیکن اس قائد کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ قابل تقلید ہے اور اس نے دنیا میں جو کچھ کیا، وہ صحیح کیا ہے، وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک تھا لہٰذا اس کی ہر چیز کو اپنایا جائے۔ ان میں سے کسی کے بارے میں یہ بھی نہیں کہا جاسکتا۔
آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لئے نمونہ ہے۔صدر محترم کی اجازت سے مولانا مدظلہ کی دعاپر جلسہ کا اختتام ہوا۔ اس جلسہ میں خاص تور پر مفتی شکیل احمد قاسمی ؔ ، علماء کے وفد میں آنے والے جمعیۃ علماشہر غازی پور کے نائب سیکرٹری ماسٹر عابد حسین انصاری، ماسٹر اصغر علی ، ممتاز قریشی،فیروز احمد،ڈاکٹر سراج احمد ، ڈاکٹر مسعود احمد صدیقی، ماسٹر غارفین احمدوغیرہ موجود تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button