اہم خبریں

اکابر کی باتیں

مولانا نور عالم خلیل امینی : آتی ہی رہے گی ترے انفاس کی خوشبو/دوسری قسط

✍🏻:عین الحق امینی قاسمی

حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب اپنی درسگاہوں میں مختلف صلاحیتوں کے طلبہ سے اس بات کی درد مندانہ اپیل کرتے رہے کہ طبعی محنت اور شوق نفس سے پڑھو ،مجبوری میں بے وجہ مقصد علم وادب کو فوت مت کرو ،مجبوری انسان کو درازہائے عمر تک رلا تی ہے ۔ہمارے جن اکا برین نے کتابوں سے خود کو وابستہ کیا اور ذرا بھی جاں سوزی اور محنت کشی کی لذت سدا بہار سے دامن جان وتن کو جوڑا ،وہ بعد کی زندگیوں میں شاد رہے ہیں ،گرچہ گردش زمانہ اور اس کے روح فرسا واقعات وحالات نے تھوڑے دنوں، زندگی کی شادکامی کے توازن کو بگاڑا ہو اور شام زندگی اس کگار پہ آلگی ہو ،کہ اب بجھی ،تب بجھی ،لیکن ہر آن دل کی دنیا تابندہ رہی ،نور بصیرت فروزاں رہا اور قلب سلیم پر سکون وسکینت کی بارش !


حضرت مولانا زندگی بھر علامہ اقبال مرحوم کے سپاس رہے ،ان کے بلند افکار ،سوز وساز پر دورس نگاہ اور جلوہ گہ حیات کی سبک گامی ،نیز ! ان کے پاکیزہ کلام سے گویا انہیں عشق تھا :
آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے ،عشق
شاخ گل میں جس طرح ،بادسحر گاہی کا نم
اور
عشق سے پیدا نوائے زندگی میں ،زیر وبم
عشق سے مٹی کی تصویروں میں ،سوز دم بہ دم
ایک جگہ وہ اسی پیہم محنت کے حوالے سے علامہ کا ایک درس انگیز شعر :
بے محنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا
روشن شرر تیشہ سے ہے ،خانئہ فرہاد
کے حوالے سے پروفیسر سلیم چشتی کی وضاحت کو پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ” سچ یہ ہے کہ مسلسل کوشش اور لگاتار محنت کے بغیر ،انسان کی شخصیت کی کوئی خوبی ظاہر نہیں ہوسکتی ،دیکھ لو فرہاد کا نام دنیائے عاشقی میں ،اس وقت روشن ہوا ،جب اس نے برسوں کی لگاتار محنت سے ،پہاڑ جیسی چیز کاٹ کر رکھ دی ” ایک دوسرے شعر :
زندگانی کی حقیقت ،کوہ کن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی
علامہ مرحوم سے منسوب اپنی توضیحی روشن تحریر میں حضرت مولانا مذکورہ کلام کی صراحت کرتے ہوئے آگےلکھتے ہیں :” زندگی کی حقیقت ایک جہد مسلسل ہے ،لہذا کارگاہ حیات میں سہولت پسند ،عافیت طلب اور محنت سے جی چرانے والے بے توفیق لوگ ،اپنی کوئی شناخت قائم نہیں کرسکتے ” اور اخیر میں فرماتے ہیں کہ :
یہ جوہر اگر کار فرما ،نہیں ہے
تو ہیں علم و حکمت ،فقط شیشہ بازی
الغرض ! انہوں نے خود بھی ستارے کی بلند اقبالی کو چھولینے کے سفر میں خود کو مٹایا تھا اور نو بہ نو منزلوں کو پانے کے لئے تاحیات جاں گسل محنت خود بھی کرتے رہے ،اس لئے دوران گفتگو ان کے تابدار لب ولہجے میں ،بے پناہ اپنائیت ہوتی تھی ، سیکھنے کے دوران ان کی زندگی کا ہر حصہ خاصی مشقت ،عسرت ،تنگ دامانی ،بے کیفی اور لذت کام و دہن کی وافر شناسائی سے محروم رہا تھا ،اس لئے ہر سبق کے کسی نہ کسی حصے میں وہ پیہم محنت کرنے، کچھ بننے ،آسائش کو ترک کرنے ، طبعی شوق وسلامت روی سے حصول علم میں خود کو لگاکر باتوفیق بننے کی نصیحت کرہی جاتے ، یہ سب کچھ بولتے ہوئے ان کی آنکھوں سے درد ،کرب ،بے چینی ،بیتے ہوئے وقت پر افسردگی ،دن بہ دن ڈھلتی شام کی بے کیفی جھلکنے کے علاوہ ، زبان کے ساتھ ان کے الفاظ کا ربط ،مشکل پڑنے لگتا ،اکثر وہ آب حیات پی پی کر لفظوں کا زبان سے اور زبان کا دماغ سے رشتہ بحال کرنے کے بعد ذاتی افکار اور روشن مستقبل کے خواب کو ہم طلبہ کے دل کی تختی پر سجاتے رہتے۔


یہی وجہ ہے کہ ہر طالب علم ان سے بلا اختلاف اور قیل و قال انہیں اپنا استاذ ماننے کی طلب میں دارالعلوم دیوبند کے اندر کم ازکم شسم ثانیہ یا ثالثہ کا طالب علم ہونے کی اپنے خدا سے ضرور دعا مانگتا ، ہم طلبہ ان کے کلاس میں ، تازہ دم اوربیدار مغز جیسی خوبیوں سے خود کو آراستہ کرنے کے بعد ہی روز انہ شرکت کا مزاج رکھتے تھے ، یہ ضروری بھی تھا اور مجبوری بھی ،ورنہ ہمیں اپنی بودی روش پر الفاظ کے جوتے اور زبان دانی کی تیز دھار دار سے زخم کھانے کا ذہن بھی تیار رکھنا ہوتا تھا ۔
اللہ حضرت والا کے درجات کو بلند فرمائے ،انہیں کی جوتیوں کے صدقے میں آج برائے نام سہی ،نیکی کی راہ پر چلنے کی توفیق ملی ہوئی ہے ،ورنہ ہم جس گاؤں اور جس ماحول سے نکل کر ان سے اکتساب فیض کے لئے پہنچے تھے ،ہمیں ان کے پاس بیٹھنے کا بھی شعور نہیں تھا ،تب انہوں نے ہمارے قلب و جگر ،فکر وفہم کو صیقل کرنے ایک باپ کی طرح بے لوث کام کیا ، ہمیں شعور بخشا ،کہہ کہہ کر اتنی بار سنبھلنے کو کہا کہ ہمیں وہ تعداد یاد بھی نہیں اور آنے والے دنوں کے عذاب وثواب سے اتنی بار ڈرایا کہ آج جو کچھ بھی ہیں حضرت الاستاذ کی کرم گستری کا نتیجہ ہے۔ آج ندامت کے آنسو سے چشم خود تر ہے ، کہ ہم نے انہیں نہ جانے کتنی بار اپنے بھونڈی عادت وکردار کی وجہ سے ان کے آب گینے کو ٹھیس پہنچا یا ہوگا ۔ اللہ ان کی صلبی اولادوں کو ہمارے تئیں ان کی دل سوزی اور کچھ بن کر اپنی ذات اور ملت کے مفاد کے لئے بن جانے کی تڑپ وطلب کا واجب بدلہ ضرور عنایت فر ما ئے ……جاری

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button