امارتِ شرعیہ کے اربابِ حل وعقد کے نام ایک کھلا خط

(بابت:امارتِ شرعیہ کےلیے انتخابِ امیرشریعت اور اربابِ حل و عقد)

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

دلی دعاء کے ساتھ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اربابِ حل وعقد بخیر و عافیت ہوں گے!

امیرِ شریعت سابع حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب قدس سرہ کے سانحہ ارتحال کے بعد “امیرشریعت” کا عہدہ جلیلہ خالی پڑا ہے ۔امانت ودیانت کے ساتھ اس عہدہ کےلیے ایک موزوں شخصیت کا انتخاب آپ حضرات ہی کے دائرہ اختیار میں ہے۔ہم پر امید ہیں کہ جلداز جلد نئے امیر شریعت کاانتخاب، محض ملتِ اسلامیہ اور امارتِ شرعیہ کے مفاد میں بحسن و خوبی عمل میں آئے گا ،تاکہ تاخیر یاغلط انتخاب کسی فتنے یاملت کے شیرازہ بکھرنے کا سبب نہ بن جائے ۔
کیوں کہ بدقسمتی سے ہماری شامتِ اعمال کہئے کہ “پرنٹ میڈیا” اور “سوشل میڈیا “ہرجگہ یہ مسئلہ اس طرح زیربحث ہے اور اس پر اس طرح رسہ کشی جاری ہے کہ:گویایہ کوئی شرعی عہدے کاانتخاب نہیں؛ بلکہ وزارتِ عظمیٰ جیسی کوئی سیاسی عہدے کا انتخاب ہو۔

اس کا واحد حل ہمارے نزدیک یہ ہے کہ :”زبانِ خلق کو نقارہ خدا سمجھتے ہوئے “اس اہم اور نازک عہدہ جلیلہ کو موزوں شخصیت کے ذریعے جلد از جلد پر کیا جائے!

“امیرِشریعت”جیسی جلیل القدر شرعی منصب کےلیے، سب سے پہلا اور آخری موزوں اور متفق علیہ نام، جو زبانِ خلق پر جاری ہواہے اور تاحال اُسی طرح جاری ہے؛ وہ ہے نام نامی اسم گرامی ، فقیه العصر، ادیب الزماں گارگزار، جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پر سنل لابورڈ، بانی وناظم المعہد العالی حیدرآباد، حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا ۔


اس لیے کہ لفظِ “امیر شریعت “کے جو معنی ومفہوم ہے(امارت کامقصدِ تاسیسی، اورامارتی تحریروں کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ”امیرِ شریعت” کا مفہوم غیر اسلامی ریاست میں ،وہی ہے، جوایک اسلامی ریاست علی منہاج النبوۃ میں مسلمانوں کے لیے “سربراہ ریاست کا “ہوتا ہے۔
چنانچہ اسی بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اور امارت کے ذریعہ عظیم کا موں کو سراہتے ہوئے مفکراسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمۃاللہ علیہ رقم طراز ہیں کہ:
’’اگر مجھے ہندوستان کے کسی صوبہ پر رشک آتا ہے تو بہار پر اور اگر بہار پر رشک آتا ہے توامارت شرعیہ کی وجہ سے ،کہ وہاں مسلمان اس کی بدولت ایک ایسی زندگی گذار رہے ہیں جو معتبر اسلامی زندگی سے قریب تر اور جاہلی اور غیر اسلامی زندگی سے بعید تر ہے ‘‘۔)
اس کاسب سے پہلا تقاضا یہ ہےکہ “امیرشریعت”قرآن وحدیث سے استنباطِ مسائل کی مہارت رکھتا ہو، فقہ پر گہری نظر ہو ،قدیم وجدید ہرطرح کے مسائل کو کتاب وسنت کی روشنی میں حل کرسکتاہو، تاکہ سوفیصد شریعت کے مطابق فیصلہ بھی لےسکے اور لوگوں کو ایک غیر اسلامی ریاست میں، ایک منظم شرعی زندگی کی طرف رہنمائی بھی کرسکے-
رب ذوالجلال نےحضرت والا کو یہ خوبیاں کس درجہ عطاء کی ہیں، وہ جگ ظاہر ہے اور علمی دنیا ان خوبیوں کا معترف بھی ۔
افہامِ شریعت کے لیے زُبان وقلم کا اسلوب بھی ایسادلنشیں پایا آپ نے کہ بس :

“ازدل خیزد، بردل ریزد”
والامعاملہ ہے-
فللہ الحمد!

رہی بات تنظیمی صلاحیت کی، توجہاں اس کاجیتاجاگتاثبوت ہندوستان کامؤقرعلمی اور رفاہی ادارہ “المعہد العالی حیدرآباد “ہے، وہیں جنرل سکریٹری ہونے کی حیثیت سے ” اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا”اور بطورِترجمان “آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء”بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو تنظیم کے اربابِ حل وعقد نے کار گزار جنرل سکریٹری مقرر کردیا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ آپ کی علمی اور تنظمی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے، اس عہدہ جلیلہ کےلیے آپ کا انتخاب متسقل طور پر کرلیا جائے، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اس فیصلے میں ہم اہل بہار، خصوصاً اربابِ حل وعقد امارت شرعیہ کے لیے کافی اشارہ ہے ۔

جہاں تک سوال ہے آپ کی امارتِ شرعیہ سے نسبت کی، وہ بھی بواسطہ حضرت قاضی مجاہد الاسلام صاحب نوراللہ مرقدہ کے،کسی سے کم نہیں، کیوں کہ آپ حضرت قاضی صاحب نور اللہ مرقدہ کے جانشیں ہونے کے ساتھ ساتھ، اسی خانواده کے چشم وچراغ ہیں۔مختصر یہ کہ:

نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر، میرِ کارواں کے لیے

کسی بھی دینی قائد میں، جب مذکورہ صفات بدرجہ اتم موجود موجود ہوں، توکسی اور چیز کی طرف نظر اٹھانے کی چنداں ضرورت نہیں؛
مگر کچھ لوگ ملت اور امارت کے مفاد کو بالائے طاق رکھ کرمحض اپنے مفاد یاقرابت و تملق وغیرہ کی وجہ سے، کچھ بے جا سوالات اٹھاکر، ایک متفق علیہ راے کو زک دینے کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے ہیں ،جس کے سبب سوائے انتشار کے کچھ حاصل ہونے والا نہیں-
ان میں سے ایک بچگانہ سوال یہ ہے کہ حضرت مولانا موصوف حیدرآباد میں قیام پذیر ہیں؟
یہ سوال ایسے وقت میں جب کہ دنیا ایک “عالمی گاؤں” بن چکی ہو ،کیامعنی رکھتا ہے، ایک آدمی بسااوقات یہاں ظہر اور مکہ میں عصر ادا کرتا ہے۔مزید یہ کہ حضرت والا بیرون ملک بھی نہیں، بلکہ اندرونِ ملک میں ایک ترقی یافتہ شہر میں قیام پذیر ہیں، جہاں نقل وحمل کی ساری سہولیات فراہم ہیں، وہاں سے “پٹنہ”جیسے مرکزی شہر میں ایک دن بھی نہیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ محض دو، تین گھنٹے درکار ہیں-
علاوہ ازیں کہ آپ کے اوپر ذمہ داری آنے کے بعد کہاں رہ کر خدمت انجام دیں گے، اس سلسلے میں کچھ گفتگو کرناقبل ازوقت ہوگا-ویسےبھی اس عہدے کا یہ تقاضا بھی نہیں کہ مدرسے کے مدرس کی طرح ایک جگہ ہی قیام کیا جائے۔ اس سلسلے میں سابقہ امرائے شریعت کے حالات اورطرزِخدمات بھی کافی مشعلِ راہ ہیں ۔

کچھ لوگ نہ جانے کس طرح یہ بات کہہ رہے ہیں کہ علمی قابلیت اور بات ہے، قیادت اور چیز ۔
ان سے جواباً عرض ہے کہ آپ کسی خالص سیاسی عہدے کا انتخاب نہیں، بلکہ شرعی عہدے کا انتخاب کررہے، جس تقاضے پیچھے مفصل گزرچکے۔

اس سلسلے ایک نام کچھ لوگوں کے ذریعے نکل کر آ رہا ہے، وہ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب (صاحبزادہ حضرت امیر شریعت سابع)
کا ہے۔مگر یہ نام اپنے عالی نسبتوں کے باوجود،کسی معروف دینی تنظیم یا ادارے سے وابستہ ہو کر، منظر عام نہ رہنے کی وجہ سےملت کے لیے یہ نام بالکل نیاہے۔جولوگ بھی یہ
نام پیش کررہے نہ وہ ملت کے خیرخواہ ہیں اور نہ ہی مولانا کے خیر ہوسکتے ہیں؛بلکہ محض اپناالو سیدھا کرنامقصد ہے۔
ساتھ ساتھ امیرشریعت جیسی کلیدی عہدے کے لیے جو فہم شریعت درکار ہے، ملت کااعتماد، پچھلی وجوہات کی بناپر، اس سلسلے میں بحال نہیں، بلکہ اس چیز کو یہ بات بھی تقویت دے رہی کہ آپ باضابطہ عالمِ دین بھی نہیں، نیز وضع قطع بھی پوری طرح شرعی نہیں؛ لہذا اس کلیدی عہدے کے لیے آپ کا انتخاب کسی بھی طرح متفق طور پر ہوہی نہیں سکتی، اگر ایسا ہوتا ہے، تو انتشار کے ساتھ ساتھ، امارت کی عظمت و وقار کو سخت دھچکا لگنے کا اندیشہ ہے ۔

تیسرا نام اس عہدے کے لیے کچھ لوگوں کی طرف سے جو پیش کیاجارہا ہے وہ ہے مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب کا نام۔آپ ایک زمانے تک امارت کے ناظم بھی رہے؛ مگر بعض وجوہات کی بناپر اس نام پر بھی بہت سے لوگوں کا اتفاق نہیں ۔

علاوہ ازیں دنیا جانتی ہے کہ آخر الذکر دونوں نام اس قابل نہیں کہ وہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی حفظہ اللہ جیسی شخصیت کی کسی بھی طرح ہم پلہ ہو سکے-
لہٰذا آپ اربابِ حل وعقد سے ادباً، درد مندانہ درخواست ہے کہ آپ محض ملت اور امارت شرعیہ کے مفاد میں متفق علیہ نام کا انتخاب فرماکر اس قضیه کو بند کردیں ۔

والسلام

از:غیورعلمائے بہار، اڑیسہ وجھارکھنڈ

نوٹ: آپ سے ملتِ اسلامیہ اور امارتِ شرعیہ کے مفاد کے لیے دردمندانہ اپیل ہے کہ اسے عام کریں اور ہر عالم ِ دین تک پہنچا نے کی زحمت گوارا کریں، خصوصاً “اربابِ حل وعقد امارتِ شرعیہ”تک ضرور پہنچائیں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں