اہم خبریں

امارت شرعیہ کو ٹوٹنےسےبچائیے محمدامام الدین ندوی

امارت شرعیہ مسلمانان بہار,اڑیسہ,جھارکھنڈ,کے لئےاللہ تعالی کی عظیم امانت,قوم وملت کی وراثت,اوراکابرعلماء ربانییین کے خوابوں کی سنہری تعبیر ہے.اسے ہردورمیں اہل اللہ کی تائید حاصل رہی ہے.اس کی عظمت وتقدس,عصمت وناموس کی پاسبانی ہمیشہ اللہ کے نیک وصالح بندوں کے ذریعہ کی گئی ہے.
امارت شرعیہ مسمانوں کی آواز ہے.روح ہے.تاج افتخار ہے.عظیم شناخت ہے.آبروہے.سرمایہ صدافتخار ہے.ملک کے دیگر صوبوں میں لوگ اسے رشک بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں. بہار,اڑیسہ,وجھارکھنڈ,کےمسلمانوں کا قدامارت شرعیہ کی وجہ سے ہمیشہ بلند رہا ہے.
اس کی ماضی شاندار رہی ہے.اس کا حال قابل دید رہا ہے.اور مستقبل بھی تابناک ہے.اس عظیم امانت,وراثت,کی بقا,اس کا تحفظ,اور استحکام کی ذمہ داری یہاں کے ہرفرد پرعائدہوتی ہے.اس کی تعمیروترقی,اوراس کے احیاء میں ہماری تعمیروترقی اوربقا پوشیدہ ہے.اس کی حرمت کی پامالی اصل ہماری ہلاکت وبربادی ہے.
امارت شرعیہ چہار دیواری,اینٹ,پتھر,سے بنی عمارت کا نام نہیں ہے.یہ ایک عظیم تحریک ہے.اور ہردل کی آوازودھڑکن ہے.امارت مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے,ان کےایمان وعقیدےپرہورہےحملےکی دفاعی قوت کانام ہے.ان کےدینی وملی تشخص کو باقی رکھنے کی ایک ناپید صدا ہے.نسل نو کی صحیح تعلیم وتربیت,ان کےاندرایمانی چنگاری جلانےکاایک بڑاپاورہاؤس ہے.چنانچہ اس پر داخلی اور خارجی ہونےوالے ہر حملےکی دفاع میں ایڑی چوئی کازورلگانا اوراپنی پوری توانائی صرف کرنا مسلمانان بہار,اڑیسہ,وجھارکھنڈ کی بڑی ذمہ داری ہے.اگرامارت پرچلنےوالی بادمخالف کوہم نےنہ روکا تویقین جانئے ہماراوجود متزلزل ہوجائےگا.امارت شرعیہ میں مختلف شعبےاورعہدےہیں.ان میں ایک باوقارعہدہ امیرشریعت کا ہے.اس عہدہ پرایسےافرادمتمکن رہےہیں جن کے اندر تقوی وطہارت ,خشیت وللھیت,قوم کی بےلوث جذبہ خدمت,اوردل میں امت کادردرہو.جوکتاب وسنت کےمطابق اپنی زندگی بسرکرتےہوں.جودنیوی حرص وہوس اورطمع سےپاک ہوں.حب جاہ اورحب مال سے جنہیں کوئی سروکار نہ ہو. امت کے ارباب حل وعقدنےمتفقہ طورپر ایسی شخصیت کواس باوقارعہدے پر ہمیشہ بٹھایاہےاور ان کی ماتحتی اورنگرانی میں امت کے سارے مسائل حل ہوتے رہے ہیں. امیرشریعت سیدمحمدولی رحمانی علیہ الرحمۃ کےانتقال کے بعد سے ہی یہ باوقارعہدہ خالی ہے .اس کو پرکرنےکی اشد ضرورت ہے تاکہ ان کی ماتحتی میں امت اپنی زندگی بسرکرسکے.اس عہدےکوپرکرنےکےلئےماضی میں جوطریقہ رائج رہاہے اسےہی اپنا کر اس باوقارعہدہ کو آراستہ کیا جائےایک خوش آئندپیغام جائےگااورمسلمانان بہار,اڑیسہ,وجھارکھنڈکےلئےفال نیک ثابت ہو گا.پھراس پر غیبی نصرت ومدداورتائیدخداوندی حاصل ہوگی.خیرکانزول اورشرکاسدباب ہوگا. ان دنوں اس عہدے کوحاصل کرنے کے لئے اندرون خانہ سردجنگ چھڑی ہوئی ہے .ظاہرا لوگ چند خانوں میں منقسم نظر آتے ہیں.مختلف حلقےسے مختلف مشورے سامنے آرہے ہیں.کچھ لوگ اس عہدے کے حصول کے لئے اپنے اپنے حامیوں کے ذریعہ ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں .خبر یہ بھی ہے کہ کچھ نام نہاد امت کے بہی خواہ چندافراد کےنام ارباب حل وعقد میں ڈلواکراوران کےنام امارت سے خط ارسال کروادئےاوران سے یہ کہ دیاکےمیرےنام ووٹ کیجئےگا. انتخاب امیر کے لئے ووٹنگ کاسہارا لینااوراس کے لئے15 مراکزقائم کرنے کی بھی تجویز سامنے آئی گرچہ شورشرابے کےبعد اسے خارج کرنے کااعلان بھی آگیا یہ سارے طریقے فتنے کےدروازے کھولیں گےاس سے امت کا شیرازہ منتشر ہوجائےگا.اورنہایت ہی گھناؤنا اورغلط پیغام جائے گا.امارت سے قوم کو ٹھیس پہونچے گی اور امت اعتماد کھو دے گی. بعض مخلصوں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ایک امیر کا انتخاب ہو اور تینوں صوبوں سے چند نائبین کا انتخاب کرلیاجائے اور سب کے مشورے سے کام ہو .یہ بھی خطرے سے خالی نہیں ہے.اس صورت میں امیر مکمل بندھ جائےگا پھران کے مرنے کے بعد امیر کی کرسی کےسب دعویدار ہوں گے کسے روکاجائےگا اور کسے عہدہ دیا جائےگا. مان لیاجائے الیکشن ہو اورووٹ1200 ہیں .کسی کو 300 کسی کو چارسو اور کسی کو 500 ووٹ ملے.جس کے حصہ میں زیادہ ووٹ آئے وہ امیر کے اہل ہوئے.تین سو اور چارسو والے ہار گئے.اس انتخاب کا کیا نام ہوگا ؟یہ تو متفقہ رائے نہیں ہوا اورنہ ہی اسے کثرت رائے کہا جائےگا.اس امیر کی اطاعت 1200 لوگ کریں گے یاصرف 500سو.کیونکہ 700سوافراد نے اس امیرکوقبول نہیں کیا ہے.

عام لوگوں میں اضطرابی کیفیت پیدا ہوگئی ہے .سوشل میڈیاپرہرروز یہی موضوع چھڑا ہواہے .ہر آدمی اپنے ہم نواؤں کی تعریف کے پل بانھد نےمیں لگا ہے اور دوسرے کی توہین کرتا نظر آرہا ہے .یہ بات اب ہمارے گھروں سے نکل کر پڑوسیوں تک چلی گئی ہےکہ یہ تو خود آپس میں دست وگریباں ہیں.ادھر امارت میں کوئی مضبوط اور وقت شناس قائدنہیں ہےجوان خطرات سے امارت کو بچا سکے.
امیر شریعت کے انتخاب کا جوطریقہ ماضی میں اکابرین اختیار کیا ہے اسے ہی رہنے دیا جائے.ارباب حل وعقد پوری ایمان داری ,غیرجانب داری,مکمل دانش مندی,کا ثبوت دیتےہوئے اللہ کو حاضروناظرجان کرکسی ایسے عالم باعمل کو منتخب کریں جس میں امیر بننے کی صلاحیت واہلیت اور شرعی صفت پائی جاتی ہو.جو قرآن وسنت سے مکمل واقف ہوں.حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہوں.امت پر آنےوالےطوفان کے لئےکمربستہ رہنےکی صلاحیت رکھتے ہوں.

امت کو جس دواکی ضرورت ہو اس کی تشخیص کی صلاحیت ان میں موجود یو.
انتخاب امیر کو امارت کے ارباب حل وعقد پر چھوڑدیاجائے.اس سے امارت اور عہدہ امیر کاتقدس برقرار رہے گا.اوراللہ کی مدد آئےگی.ورنہ امارت بکھرجائےگی.اس کی شاندارماضی چند لمحوں میں مسمار ہوجائےگی.دنیا کو غلط پیغام جائےگاکہ جس امارت نے ہمیشہ قوم کی اشک سوئی کی ,ہر خطرات سے امت کو باخبرکیا.جہاں سے ایثاروقربانی,اوریکجہتی,اتحادواتفاق,کابرابردرس ملتارہا.جس نے ہمیشہ لاینحل مسائل کو سلجھانے کی کوشش کی ہے آج وہ خود اس کا شکار ہے.جودوسروں کابرابر فیصلہ کرتا چلا آیاہے اس کا فیصلہ دنیاوی عدالت میں ہونے جارہاہے؟یہ بہت حیرت کی بات ہے.امارت قوم کی وراثت ہے اسے تجارت گاہ نہ سمجھا جائے.ان دنوں امارت پیشہ وراورخوش پوش مولویوں کے دام فریب کا شکار ہے.ان سے چوکنہ رہنے کی ضرورت ہے.
امت تو پہلے ہی سے بکھری ہوئی ہے.اور ہر طرح کے وار سے دوچار ہے.عہدہ امیر کو لے کر اگر امارت بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور بد خواہوں کی نذر ہوگئی تو انجام گلستاں کیا ہوگا ؟
اس لئے امارت کے ارباب حل وعقد اور قوم کے دردمند حضرات سے دردمندانہ اپیل ہے کہ خدارا اس سنگین تر صورت حال سے نمٹنے کی حتی الامکان کوشش کریں.اس سرد جنگ کے چھڑنے سے امارت اورعہدہ امیرکو بچالیجئے.اللہ کی عظیم امانت,قوم کی وراثت,بزرگوں کے خوابوں کی سنہری تعبیر کومسمار ہونے سے بچا لیجئے ورنہ اکابر علماء کی روحیں اور آنےوالی نسلیں شاید آپ حضرات کو معاف نہ کرسکیں.

مولانا محمد امام الدین ندوی

مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button