اہم خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

اردو کے ممتاز شاعر اختر علی رحمت ✍️ سید نوید جعفری حیدرآباد دکن

تم نے کہا تھا چپ رہنا سو چپ نے بھی کیا کام کیا
چپ رہنے کی عادت نے کچھ اور ہمیں بد نام کیا

پورا نام : اختر علی رحمت
تخلص : صہبا

ولادت : 30 /ستمبر 1931ء جموں انڈیا
وفات : 19/ فبروری 1966ء کراچی پاکستان

اردو کے ممتاز شاعر صہبا اختر کا اصل نام اختر علی رحمت تھا اور وہ 30 ستمبر 1931ء کو جموں میں پیدا ہوئے ان کے والد منشی رحمت علی، آغا حشر کاشمیری کے ہم عصر تھے اور اپنے زمانے کے ممتاز ڈرامہ نگاروں میں شمار ہوتے تھے،
صہبا اختر نے بریلی سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا مگر اسی دوران 1947ء میں وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان چلے گئے پاکستان میں صہبا اختر نے بہت نامساعد حالات میں زندگی بسر کی پھر انہوں نے وہاں محکمہ خوراک میں ملازمت اختیار کی اور اسی ادارے سے ریٹائر ہوئے صہبا اختر کو شعر و سخن کا ذوق زمانہ طالب علمی سے ہی تھا وہ ایک زود گو شاعر تھے انہوں نے نظم، قطعہ، گیت ، ملی نغمے، دوہے اور غزل ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی ان کے مجموعہ ہائے کلام میں سرکشیدہ، اقرا، سمندر اور مشعل کے نام شامل ہیں ، برصغیر میں ایسے شاعروں کی کمی نہیں جو صرف غزل گو کی حیثیت سے ہی مشہور نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے نغمہ نگاری کے میدان میں بھی اپنے فن کے نقوش چھوڑے ان شعراء میں قتیل شفائی‘ ساحر لدھیانوی‘ شکیل بدایونی‘ تنویر نقوی‘ سیف الدین سیف اور مجروح سلطانپوری کے نام سرفہرست ہیں ایک شاعر اور بھی ہیں جنہیں بھلایا گیا صہبا اختر کو وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ مستحق تھے ،
بھارت کی ریاست جموں میں پیدا ہونے والے صہبا اختر کا بنیادی طور تعلق امرتسر (بھارتی پنجاب)
سے تھا انہوں نے سکول کے دور میں ہی شعر کہنے شروع کر دئیے تھے انہوں نے بریلی سے اسکول کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا، کراچی میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے پاکستان کے عوام اورپاکستانی فلموں کیلئے نظمیں اور گیت لکھنا شروع کر دئیے صہبا اختر کی شاعری کے بھی بعض دوسرے شعرا کی طرح کئی رنگ ہیں ان کی سب سے بڑی خوبی شعری طرز احساس ہے جو ان کی شاعری میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا وہ الفاظ کا چنائو بھی بڑا سوچ سمجھ کر کرتے تھے ان کے ہاں تراکیب کا استعمال بھی بڑی عمدگی سے ہوا ہے دوسرے کئی نامور شعراء کی مانند انہیں بھی تنہائی کا ناگ ڈستا رہا ہے ایسا لگتا ہے وہ تنہائیوں کا زہر پینے پر مجبور ہیں یا پھر انہیں یہ زہر پلایا جا رہا ہے انہیں اس جہاں میں ہر شخص اکیلا نظر آتا ہے ان کی تنہائیاں کبھی انجمن کا روپ نہ دھار سکیں آخر انہیں یہ ڈپریشن کیوں تھا ؟ وہ کیا عوامل تھے جنہوں نے صہبا اختر کو مایوسی کے سمندر میں ڈبو دیا یہ صہبا اختر کا داخلی کرب نہیں بلکہ اس کے محرکات خارجی عوامل میں تلاش کرنا عین مناسب ہوگا انہیں ساری زندگی تنہائی کا احساس ستاتا رہا
ان کی شاعری میں ہمیشہ ایسا لگا کہ ان کی زندگی میں کسی چیز کی کمی ہے اور انہیں اس کمی کا شدید احساس ہے انہوں نے خود ایک شعر میں کہا زندگی جیسی تمنا تھی نہیں کچھ کم ہے ہر گھڑی ہوتا ہے احساس کہیں کچھ کم ہے لیکن مایوسی اور قنوطیت کے علاوہ ان کی شاعری میں رومانس بھی بڑے لطیف پیرائے میں ملتا ہے اسی لیے کہتے ہیں کہ ہر شاعر کی شاعری کے مختلف رنگ ہوتے ہیں اور اس کی شاعری کا محاکمہ محض ایک رنگ سے نہیں کیا جا سکتا اب ذرا ان کا یہ شعر ملاحظہ کیجئے 👇
یہ کیسی اجنبی دستک تھی کیسی آہٹ تھی
ترے سوا تھا کسے حق مجھے جگانے کا

کبھی ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کےصہبا اختر اپنی ناآسودہ خواہشات کی تکمیل نہ ہونے پر ماتم کناں نہیں بلکہ وہ خود کو کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور شائد اپنے آپ کو سمجھانے میں کامیاب بھی ہو گئے ہیں اس حوالے سے انکا بڑا مشہور شعر ہے۔ کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا کہیں زمیں تو کہیں آسماں نہیں ملتا صہبا اختر نے بڑی مؤثر اور خوبصورت غزلیں لکھیں وہ مشاعروں کے بھی کامیاب شاعر تھے اور کہا جاتا ہے کہ وہ مشاعرہ لوٹ لیتے تھے
صہبا اختر کی گیت نگاری کے بارے میں بھی اپنے قارئین کو بتاتےچلیں صہبا اختر نے بہت زیادہ فلمی گیت نہیں لکھے لیکن جتنے لکھے باکمال لکھے بلکہ ان کے بعض نغمات کو لاثانی کہا جا سکتا ہے ذیل میں ان کا ذکر کیا جا رہا ہے 1- تنہا تھی اور ہمیشہ سے تنہا ہے زندگی (نانامکمل فلم) 2چاند کی سیج پر تاروں سے سجا کے سہرا (جھک گیا آسمان) 3 مجھے بھلانے والے تجھے بھی چین نہ آئے 4 وہاں زندگی کے حسین خواب ٹوٹے، 5 تیرا میرا ساتھی ہے لہراتا سمندر (سمندر)
صہبا اختر کو 1996ء میں تمغۂ حسن کارکردگی سے نوازا گیا اس سال فروری میں وہ عالم جاوداں کو سدھار گئے ان کے آخری مجموعے کا نام ’’مشعل‘‘ تھا ان کے دیگر شعری کلیات میں ’’سرکشیدہ‘ اقرا اور سمندر‘‘ شامل ہیں وہ بہرحال ایسے فنکار ہیں جن کی اہمیت کو تسلیم نہ کرنا ناانصافی ہوگی حکومت پاکستان نے انہیں ان کو بعد از مرگ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا 19 فروری 1996ء کو صہبا اختر کراچی میں وفات پاگئے اور گلشن اقبال کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
ترتیب و پیشکش 👈 سید نوید جعفری حیدرآباد دکن

💗👇 ہند و پاک کے مایاناز شاعر محترم صہبا اختر صاحب کے 90 ویں یوم ولادت پر ان کےمنتخب اشعار ملاحظہ ہو💗👇

خود کو شجر شمار کیا اور جل اٹھے
اک شعلہ رخ سے پیار کیا اور جل اٹھے

آجا اندھیری راتیں تنہا بتا چکا ہوں
شمعیں جہاں نہ جلتی‘ آنکھیں جلا چکا ہوں

یہ شب بجھی بجھی ہے شائد کہ آخری ہے
اے صبح درد تیرے نزدیک آ چکا ہوں

اگر شعور نہ ہو تو بہشت ہے دنیا
بڑے عذاب میں گزری ہے آگہی کے ساتھ

بیان لغزش آدم نہ کر کہ وہ فتنہ
مری زمیں سے نہیں تیرے آسماں سے اٹھا

دل کے اجڑے نگر کو کر آباد
اس ڈگر کو بھی کوئی راہی دے

یہ کیسی اجنبی دستک تھی کیسی آہٹ تھی
ترے سوا تھا کسے حق مجھے جگانے کا

ہمیں خبر ہے زن فاحشہ ہے یہ دنیا
سو ہم بھی ساتھ اسے بے نکاح رکھتے ہیں

میں اسے سمجھوں نہ سمجھوں دل کو ہوتا ہے ضرور
لالہ و گل پر گماں اک اجنبی تحریر کا

میرے سخن کی داد بھی اس کو ہی دیجئے
وہ جس کی آرزو مجھے شاعر بنا گئی

مری تنہائیوں کو کون سمجھے
میں سایہ ہوں مگر خود سے جدا ہوں

صہباؔ صاحب دریا ہو تو دریا جیسی بات کرو
تیز ہوا سے لہر تو اک جوہڑ میں بھی آ جاتی ہے

شاید وہ سنگ دل ہو کبھی مائل کرم
صورت نہ دے یقین کی اس احتمال کو

ثبوت مانگ رہے ہیں مری تباہی کا
مجھے تباہ کیا جن کی کج ادائی نے

تم نے کہا تھا چپ رہنا سو چپ نے بھی کیا کام کیا
چپ رہنے کی عادت نے کچھ اور ہمیں بد نام کیا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button