اہم خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

ادب اطفال اور سائنس (بدلتے عالمی منظر نامے میں اردو ادب اطفال کا مقام)✍️ مظفر نازنین، کولکاتا

ادب اطفال اور سائنس

(بدلتے عالمی منظر نامے میں اردو ادب اطفال کا مقام)
✍️ مظفر نازنین، کولکاتا

آج ہم جس دنیا میں رہتے ہیں یہ اکیسویں صدی ہے اور بلاشبہ یہ ڈیجیٹل ورلڈ ہے۔ اس ڈیجیٹل ورلڈ اور انٹرنیٹ نے پوری دنیا کو گلوبل ولیج میں تبدیل کردیا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں انٹرنیٹ کا اثر ہر شعبہ ہائے زیست پر ہے تو اد ب پر بھی ہے خصوصاً ادب اطفال پر بہت زیادہ ہے۔
آج موجودہ دور حالات کے تناظر سے یہ کہنا ضروری ہے کہ بچے کی مادری زبان بلاشبہ اردو لیکن انگریزی ذریعہ تعلیم ہو تب ہی نوخیز بچہ سائنس کی تعلیم حاصل کرسکتا ہے۔

اردو ادبِ اطفال اور سائنس

آج کے دور میں یہ بے حد ضروری ہے بچے کو سائنس کی تعلیم سے روشناس کرائیں اس طرح سے ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کس معیار کا ادب سائنس کے تعلق سے اور کتنا دلچسپ ہو اور اس میں کیسے مضامین ہوں جو بچے شوق سے پڑھیں۔ سائنسی مضامین پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایسے مضامین ہوں جس سے معصوم ننھے ذہن سائنس کی طرف لاشعوری طور پر یا غیر دانستہ طور پر گامزن ہوں کیونکہ بچپن کی عمر وہ ہوتی ہے جیسے گیلی مٹی جس سانچے میں ڈھالیں ڈھل جائے گا۔ یا موم کی مانند جدھر چاہیں ادھر رخ موڑ دیں۔

آج کے ڈیجیٹل ورلڈ میں شاید ہی کوئی ہو جو سائنس کی طرف راغب نہ ہوتا چاہتا ہے کیونکہ آج کی ایڈوانس میڈیکل سائنس اور انجینئرنگ بہ زبانِ حال سے پکار رہی ہے۔اور یہی وقت کا تقاضہ ہے کہ نونہالانِ وطن کو سائنس کی تعلیم حاصل کرنا لازمی ہے۔ اس دور میں جسے ڈیجیٹل ورلڈ کہتے ہین جہان چاند اور سیاروں کی تسخیر ہوچکی ہے۔ اور چند ریان خلاء میں بھیج کر اپنی سائنسی ترقی کا لوہا منوالیا ہے۔ آج جہاں دنیا ایک گلوبل ولیج کی طرح ہے اور انٹرنیٹ کے ذریعہ سکنڈ بھر میں دنیا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک رسائی ممکن ہے۔ ہر پہلو سے نظر ڈالیں تو صاف شیشے کی مانند عیاں ہے کہ سائنس کی تعلیم و تربیت بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر تعلیم کا تصور ممکن نہیں اس ڈیجیٹل ورلڈ میں۔

اب یہ تعین کرنا چاہئے کہ بچپن ہی سے نصاب معیاری ہو اور سائنس پر مبنی ہو تو اس طرح کے دلچسپ مضامین ادب اطفال میں شامل کئے جائیں تاکہ معصوم اور ننھے بچوں کی ذہن سازی ہو اور فطری طور پر بچہ سائنس کی طرف راغب ہو۔ یہ ممکن کیسے ہے؟ تو اس کا جواب ہے بچپن سے ہی دنیا کے بڑے بڑے سائنسدانوں کی حالات زندگی، تجربات اور مشاھدات سے بچے کو روشناس کرایا جائے۔ سائنسدانوں کی حالات زندگی کے بارے میں لٹریچر پڑھنے کیلئے دیا جائے۔ بچے کے اندر ایسی صلاحیتیں پیدا کی جائیں۔ ان کی خفیہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا جائے کہ وہ کسی بھی بات کو ماننے کیلئے دلائل اور حقائق کی روشنی میں صحیح بات کو تسلیم کرلے۔ کیونکہ معقول سائنسی دلائل کی روشنی میں صحیح فیصلہ کرے۔ کیونکہ سائنٹیفک شواہد کے بغیر کچھ ممکن نہیں۔ ادب یعنی literature کے ساتھ اس کے practical بھی کروائے جائیں تاکہ بچہ جو پڑھے اسے اپنی آنکھوں سے تجربہ کرکے دیکھ سکے۔ جیسے اس کے ذہن میں خود بخود سوالات جنم لیں۔ اس کے ننھے ذہن میں اٹھتے ہوئے خیالات، اس کے دماغ میں طوفانی جذبات اور سوالات کے بوچھار اٹھتے ہیں۔ انکا مکمل اور تشفی بخش جواب دینا لازمی ہے تاکہ بچے کے اندر تجسس کا مادہ پدیا ہوسکے۔ مثال کے طور پر ایک سبق پڑھایا جس میں پھولوں کے بارے میں بتایا جائے۔ تو پہلے بچے کو یہ سمجھانا چاہئے کہ پیڑ پودے کیا ہیں۔ ان کے کتنے حصے ہوتے ہیں۔ یہ جاندار ہیں یا بے جان، جاندار میں کون سی خصوصیات ہوتی ہے۔ جواب میں چھ حصے ہیں۔ جڑ، تنہ، شاخ، پتی، پھول اور پھل۔ یہ تھیوری میں پڑھ لیا۔


اب ہماری ذمہ داری ہے کہ انہیں باغ میں لے جائیں اور کسی پودے کے ہر حصے کو دکھائیں کہ اسے جڑ، تنہ، شاخ، پتی، پھول اور پھل کہتے ہیں۔ ان کے کیا کام ہیں۔ پھر بچے سے سوال کریں اور مکمل جواب دیں۔ تب چیپٹر مکمل ہوا۔انہیں بتانا چاہئے کہ پیڑ پودے کے علم کو علم نباتات یا Botany کہتے ہیں۔ انہیں بتائیں کہ Zoology یا علم حیوانات کیا ہے۔ اگر صحیح طور پر یعنی بہت سیدھے لفظوں یا Simple way میں express کریں تاکہ بچے میں آسانی سے ذہن نشیں ہوجائے۔ یہ سب کچھ ۵ سال کے بچے کے ساتھ آسانی سے ممکن ہے۔اس کے لئے انہیں ادبِ اطفال کے ساتھ ایجوکیشنل ٹور پر بھی لے جائیں، مختلف قسم کے پھولوں، جڑوں، شاخوں اور پتوں کو لائیں اور ان hereberium sheet اور field note book تیار کروائیں تاکہ ان کے اندر مقابلہ کرنے کا مزاج پیدا ہوا۔ اور بچپن سے ہی مقابلہ جاتی امتحانات کیلئے راہ ہموار ہو۔ انہیں بڑے سائنسدانوں جیسے اے پی جے عبدالکلام، سی وی رمن، اچاریہ جگدیش چندر بوس،، اچاریہ پرفلا چندر رائے،آئزک نیوٹن، البرٹ آئنسٹائن کے حالات زندگی سے روشناس کرائیں۔ انہیں میوزیم اور پلانیٹیریم کی سیر کرائیں جہاں بلاشبہ بچوں کو لے جانا بہت ضروری ہے۔ صرف سیر و تفریح اور کھانے پینے کیلئے نہیں۔ بلکہ مقامات خاص طور پر ایک دانش گاہ ہے۔ علم کا مرکز ہے اگر ۵ یا ۶ سال کی عمر میں پلانٹیریم لیجائیں تو صاف شیشے کی طرح سمجھ میں آئے گا اس ننھے ذہن کو کہ نظام شمسی کیا ہے۔اس میں کتنے ستارے اور سیارے ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ audio-visual learning سے لاشعوری طور پر یا غیر دانستہ طور پر حاصل ہوجاتا ہے۔ یہ ادب اطفال کا سائنس کے تعلق سے بہت اہم پہلو ہے۔


بچپن سے ہی اقبالؔ، غالبؔ، ذوقؔ، میر تقی میرؔ کی حالات زندگی سے روشناس کرائیں مجاہدین آزادی کی زندگی سے آگاہی ہو۔ اردو ادب کے ساتھ تاریخِ ہند اور ہندوستان کے جغرافیہ سے بھی آگاہی ضروری ہے۔

اس کے ساتھ ہی ادب اطفال کیلئے بے حد ضروری ہے۔ ان میں تحریری، تقریری اور تخلیقی صلاحیتیں پیدا کی جائیں۔ ا ن کی گرامر اور تلفظ پر بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ حرف کی صحیح ادائیگی کیلئے بحث و مباحثہ اور مختلف کلچرل پروگرام کا انعقاد کرکے ادب اطفال کو فروغ دینا چاہئے۔ تاکہ معصوم ذہن بہترین اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرسکے۔ بقول شاعر ؎
پرواز دونوں کی ہے ایسی ایک فضا میں
شاہین کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

یوں کہئے کہ ذہن میں تخیل کی بلند پروازی جنم لے اور کامیابی ان کے قدم چومے ؎
گلشن میں سرو۔ فوج میں مثلِ نشاں رہیں
عالم میں سر بلند رہے ہم جہاں رہیں

Mobile – 9088470916Email – [email protected]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button