سمستی پور

آسام میں درندگی

محمدامام الدین ندوی

مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی

آسام میں گذشتہ دنوں نہتھے مسملمانوں پر پولیس کے ذریعےکئے گئےفائرنگ اور اس کے نتیجے میں معصوموں کی شہادت وہاں کے وزیر اعلیٰ, گورنر, پولیس انتظامیہ کی نامردی کو اجاگر کرتی ہے. اس بزدلانہ حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے. اس سرکاری غنڈہ گردی نے یہ واضح کردیا کہ یہاں کی اقلیت سے انہیں کتنی نفرت ہے.اس ملک میں انہیں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے.
کتنی بےدردی سے گولیاں چلائی گئیں. اس شخص پر وردی میں ملبوس غنڈے کتے کی طرح چاروں طرف سے ٹوٹ پڑے. گویا بہت دنوں سے بھوکے ہوں.
یہاں کی پولس کمزوروں, بے گناہوں کو قانون پڑھاتی ہے. لیکن جب اقلیت کی باری آتی ہے تو اسے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیتی ہے اور بلا وجہ دفعات پر دفعات دائر کر دیتی ہے. آخر میں عدالت بے گناہی کا فیصلہ سناتی ہے اس وقت تک اس کا عہد شباب کہولت کی طرف مائل ہو جاتا ہے. اور وہ کسی کام کا نہیں ہوتا.
آسام کی پولس کی مردانگی دیکھئے نہتھے پر گولی برسائی مرنے والا زمین پر گرکیا. اس کی موت پر دل کا بھراس نہیں نکلا تو ان گنت پے درپے چو طرفہ ڈنڈے برسائے. غریب کی سانس تھم گئی. حرکت قلب بند ہو گئی.نبض رک گئ, اس کے خون سے زمین کی پیاس بجھ گئی, جسم ساکت وپرسکون ہو گیا. سرکاری بھیڑیے اس غریب کے خون سے سیراب ہوکر اور اپنی پیاس بجھا کر پیچھے ہٹنے بھی نہیں پائے تھے کہ ایک بزدل وناکارہ بھگوا رنگ میں ملوث چند سکوں میں بکنے اور سرکاری ٹکڑوں پر پلنے والا ہاتھوں میں کیمرہ اور بغل میں بیگ لٹکائے ہوئے نہایت تیزی سے اس مردہ جسم پر کودتا ہے اور بار بار کودتا ہے. پتھر پھینکتا ہے. پھر کودتا ہے. یہ سب وردی پوش سرکاری درندوں کی آنکھوں کے سامنے ہوتاہے یہ درندے اسے سرزنش نہیں کرتے اور نہ کوئی سزادیتےہیں بلکہ پیار سے اس نمائندے کو ہٹاکر مردہ جسم سے الگ کر دیتے ہیں.
اس نمائندے کو کس عدالت اور کس قانون نے یہ حق دیا؟پولیس کی گولی اس شخص پر کیوں نہیں چلی ؟پولیس کے ڈنڈے اس پر کیوں نہیں برسے ؟
یہ عدالت و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے. ملک کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے. مثبت ومعتدل, اور انصاف پسند میڈیا کےلئے بےعزتی کی بات ہے.اور باعث شرم ہے. ملک کے سیکولر اور منصف مزاج اکثریتی طبقے کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے.
پولس کی وردی اس کی عزت عظمت اور وقارکو بڑھاتی ہے۔وردی قانون کی اور عوام کے تحفظ کی ضامن ہے۔اس کا صحیح استعمال ملک اور عوام کے اعتماد کو مستحکم بناتی ہے۔آسام میں جو گھناٶنی حرکت ہوٸی اس نےوردی اور صاحب وردی کے گریماکوختم کردیا۔عوام کا اعتماد وبھروسہ انتظامیہ کی جانب سےختم ہو گیا۔
میڈیا ملک کاباوقار ادارہ ہے۔اس کی بنیاد مظلوم کی حمایت اور ظالم کی سرزنش پر رکھی گٸ ہے۔ملک کی تعمیر وترقی عروج وزوال،میں اس کا اہم رول رہا ہے۔یہ باوقار ادارہ کسی کی طرف داری نہیں کرتا ہے۔یہ غیر جانب داری سے اپنے فراٸض انجام دیتا ہے۔حکومت کسی جماعت کی ہو یہ ادارہ سچاٸی کی عکاسی کرتا ہے۔
ان دنوں کچھ میڈیا سرکاری غلام بن گٸ ہے۔اور چند سکوں کی خاطر اپنے مقصد اصلی کو بھول چکی ہے۔ظالموں کی حمایتی اور پشت پناہ بن گٸ ہے۔اس لٸے اسے مسلمانوں سےنفرت ہے اور نفرت کی آگ میں جل کر انتقامی جذبے سے دنیا والوں کے سامنے خبر نشر کرتی ہے۔جو ملک کی سلامتی کے لٸے مہلک ثابت ہوگی۔آسام میں ہوٸے واردات پر کوریج کرنے کی بجاۓ اس سنگھی نماٸندہ نے اس مردہ جسم پر کس تیزی سے اچھل اچھل کر اپنے نفرت کو اجاگر کیا اس پر جس قدر مزمت کی جاٸے کم ہے۔مرنے والا جس دھرم کا ہو پہلے وہ انسان ہوتا ہے پھر ہندو یا مسلمان ہوتا ہے۔اسی انسانیت کی بنیاد پر مرنے والوں کا احترام کیا جاتا ہے۔لیکن کچھ ٹی وی چینل سے تعلق رکھنے والے نماٸندوں کی انسانیت مر چکی ہے اس لٸے وہ مردوں کے ساتھ بھی بد سلوکی سے پیش آتے ہیں۔
آسام کے وزیر اعلی اور ان کی حکومت میں شامل ان کے معاونین کواپنی اس حرکت پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔اس سوچی سمجھی سازش کے خلاف سخت سے سخت کارواٸی کی اشد ضرورت ہے۔تاکہ عوام کا اعتماد حکومت پر بحال رہے ۔
حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ اس بڑے حادثے پر نہ تو وزیر اعظم نے غم کا اظہار کیا اور نہ وزیر داخلہ اور ان ہم نوا۔
تاریخ شاہد ہے کہ ظلم وستم کی بنیاد پر بنے نفرتوں کے شیش محل پاٸیدار نہیں ہوتے۔مظلوموں کی آہیں عرش الہی سے ٹکراتی ہیں۔ان کے خون راٸیگاں نہیں ہوتے ہیں ۔کبھی نہ کبھی یہ رنگ لاتے ہیں۔
تمام مذاہب کے ماننے والوں کی قدر کرنا اس ملک کی خوب صورتی ہے۔اس خوب صورت کو باقی رکھنا اس ملک کے باشندوں کی اہم ذمے داری ہے۔تاکہ ملک کا وقار بلند ہو۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button