سمستی پور

آدھار پور واقعے کی عدالتی تحقیقات کرانے و متوفی اساتذہ اور انور کے لواحقین کو انصاف دلانے کی مطالبہ کو لیکر جدوجہد تیز کریگا،انصاف منچ

آدھار پور واقعے کے متاثرین کو انصاف دلانے کی مطالبہ کو لیکر آئی جی آفس کا گھیراؤ کریگا، انصاف منچ

سمستی پور(محمد مصطفیٰ) انصاف منچ کے ریاستی نائب صدر ، نیاز احمد کی قیادت میں 6 رکنی ٹیم آدھار پور ٹرپل قتل کے واقعے کی تحقیقات کے لئے آدھار پور پہنچی،ٹیم میں ایپوا کے ضلع صدر وندنا سنگھ ، آئی ایس اے کے قومی ایگزیکٹو ممبر سندیپ کمار ، دربھنگہ انصاف منچ کے ضلع صدر سید اکبر رضا ، سمستی پور انصاف منچ کے ضلع سکریٹری ڈاکٹر خورشید خیر ، سمستی پور انصاف منچ کے ضلع سکریٹری آصف الہدیٰ وغیرہ شامل تھے،تفتیشی ٹیم نے متوفی ٹیچر صنوبر خاتون اور متوفی انور کے لواحقین سے ملاقات کی اور پورے واقعے کے بارے میں معلومات حاصل کی،تفتیش کے دوران مقتولہ ٹیچر کی بیٹی نصرت پروین نے بتایا کہ پولیس وانتظامیہ اس پورے معاملے میں یکطرفہ کارروائی کررہی ہے ، متاثرہ طالبہ کا مزید کہنا تھا کہ میری والدہ اور ہم دونوں بہنوں پر لوہے کی چھڑ سے بے دردی سے حملہ کیا گیا ، دن کی روشنی میں ماں کے کپڑے کو درندوں نے پھاڑ دیئے ، مشتعل ہجوم نے سڑک پر ماں کو ننگا کر کے گھومایا اور پانی میں ڈوبو ڈوبو کر مار ڈالا،اس درمیان جب ماں کو بچانے آئے چچازاد بھائی محمد انور آیا بھیڑیوں نے اسی بھی مار ڈالا، یہ سارا واقعہ پولیس کی موجودگی میں انجام دیا گیا تھا، پولیس کارروائی کرنے کے بجائے اس پورے واقعے کو تماشائی۔بن کر دیکھتی رہی۔مقتولہ ٹیچر کی بیٹی نے بتایا کہ ہم لوگوں کو بے دردی سے پٹائی کی گئی اور ان لوگوں کے ذریعہ ناروا سلوک بھی کیا گیا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس پورے معاملے کی اعلی سطح پر تفتیش کی جائے اور ہماری والدہ اور بھائی کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں انصاف ملے۔ آدھار پور واقعہ شعوری طور پر ہجوم کے تشدد کا نتیجہ ہے۔ جہاں اقلیتوں کے گھروں کو نذر آتش کردیا گیا۔ تفتیش کے دوران ، اقلیتی برادری کے لوگوں نے بتایا کہ ہجوم کی طرف سے ہنگامہ برپا کیا گیا، ہجوم نے کہا کہ مسلمانوں کو گھروں کو نذر آتش کردو ہجوم کے ذریعہ بدتمیزی اور خواتین اور بیٹیوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات کئے گئے، اس علاقے میں دن بدن حملوں کے مجرمانہ واقعات ہوتے رہتے ہیں ، آئے دن مجرم فائرنگ کے واقعات کرتے رہتے ہیں ، اور پولیس تماشائی بن کر دیکھتی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم میں شامل ،انصاف منچ کے ریاستی نائب صدر نیاز احمد نے کہا کہ اس سارے معاملے میں ، مقتول شرون کے ہجومی حامیوں نے پولیس کی موجودگی میں کھلے عام ہنگامہ برپا کیا، توڑ پھوڑ اور عورتوں کے ساتھ اجتماعی بدتمیزی کی گئی۔گھر اور کسٹمر سروس کو آگ کے حوالے کر دیا۔ مقتولہ کے لواحقین بہت ڈرے سہمے ہوئے ہیں۔ علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ تفتیش کے دوران ، ہم نے دیکھا کہ خوف کی وجہ سے ، بہت سے گھروں کے لوگ گاؤں چھوڑ کر کسی اور جگہ منتقل ہوگئے ہیں۔ اس واقعے کے ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی اس پورے معاملے میں پولیس کی طرف سے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ مقامی پولیس سے لے کر آئی جی تک اس معاملے پر غیر جانبدارانہ رویہ اپنا رہے ہیں ، جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ پولیس کے ذریعہ کھلم کھلا مجرموں کی حوصلہ دیا جا رہا ہے، اس علاقے میں اس طرح کے شرمناک واقعے کے باوجود ، مقامی ایم پی-ایم ایل اے کی خاموشی بہت کچھ بیاں کر رہی ہیں،
اگر اس سارے معاملے پر فوری طور پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے تو آنے والے دنوں میں انصاف منچ کے بینر تلے متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو لیکر آئ جی آفس کا گھیراو کریں گے،تفتیشی ٹیم میں شامل
ایپوا کی ضلع صدر وندنا سنگھ نے کہا کہ دن دہاڑے کسی خواتین کو برہنہ حالت میں گھومانا، اس کے کپڑے پھاڑ دینا اور اس کی پٹائ جم کر دینے والی واقعہ نے پورےعلاقے کو شرمندہ کر دیا ہے۔ پولیس کی موجودگی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس بھی اس واقعے میں ملوث ہے۔ تفتیش کے دوران ، مقتولہ کے لواحقین نے بتایا کہ شرون کمار کے حامیوں نے خواتین کے ساتھ اجتماعی چھیڑ چھاڑ بھی کی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے حکومت سے ٹرپل قتل کیس کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button