اہم خبریںبین ریاستی خبریں

آج کی اہم خبروں کے لئے بس ایک کلک کریں



سپریم کورٹ نے ویکسین کی خریداری پر مرکز سے طلب کی رپورٹ

دہلی (ذرائع) سپریم کورٹ نے مرکز کی ویکسینیشن پالیسی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔  عدالت نے حفاظتی ٹیکے لگانے کی پالیسی کو 18 سے 44سال تک کے عمر کے افراد کے لئے غیر معقول قرار دیا ہے۔  مرکزی حکومت کی اس پالیسی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ٹیکے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے عدالت نے کہا ، ایسی اطلاعات ہیں کہ 18 سے 44 سال کی عمر کے افراد کوویڈ 19 سے نہ صرف متاثر ہو رہے ہیں بلکہ شدید بیمار بھی ہو رہے ہیں  اور انھوں  ہسپتال میں داخل ہونا پڑرہا ہے۔  بدقسمتی سے سبھی معاملات میں  مریضوں کی اموات ہوئیں ،واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو حکم جاری کیا ہے کہ کویڈ 19 ویکسین کی خریداری سے متعلق تفصیلی تفصیلات فراہم کی جائیں

•••••••••••••••••••••••••••••••••



بہارحکومت کااہم فیصلہ،انجینئرنگ اورمیڈیکل کالجوں میں 33فی صدنشستیں لڑکیوں کے لیے مخصوص

واضح ہوکہ نیوز رپورٹ سے ملی جانکاری کے مطابق نتیش حکومت نے بہار میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے اہم اعلان کیا ہے۔ ریاست کی نتیش حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بہار کے انجینئرنگ اور میڈیکل کالجوں میں لڑکیوں کے لیے 33 فی صد نشستیں مخصوص ہوں گی۔ بدھ کے روز وزیراعلیٰ نتیش کے سامنے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے انجینئرنگ اور میڈیکل کالجوں کے قیام سے متعلق مجوزہ بل کی پریزنٹیشن بھی دی گئی۔سکریٹری ، محکمہ سائنس اور ٹکنالوجی ، لوکیش کمار سنگھ نے ایک پریزنٹیشن کے ذریعہ دی بہار انجینئرنگ یونیورسٹی ایکٹ -2021 اور دیگر دفعات کے بارے میں تفصیلی معلومات دیں۔ محکمہ صحت کے ایڈیشنل چیف سکریٹری پرتیایا امرت نے بتایاہے کہ پریزنٹیشن کے ذریعہ بہار یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور یونیورسٹیوں کے پاور اینڈ فنکشن ، جیوریڈیشن اور دیگر دفعات کے بارے میںبات کی گئی ہے۔اس دوران وزیراعلیٰ نتیش کمار نے کہاہے کہ انجینئرنگ یونیورسٹی اور میڈیکل یونیورسٹی کے قیام سے انجینئرنگ کالجوں اور میڈیکل کالجوں کا بہتر انتظام کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ کالجوں میں تدریسی کام کو بھی بہتر طور پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاہے کہ ریاست کے انجینئرنگ اور میڈیکل کالجوں میں اندراج میں کم از کم ایک تہائی نشستیں طالبات کے لیے مخصوص ہوں۔اس سے طالبات کی تعداد میں اضافہ ہوگا

•••••••••••••••••••••••••••••••••



‘کورونا فری ولیج’ کے لئے مہاراشٹر حکومت کے اقدام، گاؤں کو کورونا مفت بنائیں اور لاکھوں جیتیں انعامات

واضح ہو کہ نیوز رپورٹ سے ملی جانکاری کے مطابق مہاراشٹر میں "کرونا مکت گاؤں پورسکار اسکیم” کا اعلان کیا گیا ہے۔  دیہی ترقی کے وزیر حسن مشرف نے اس کا اعلان کیا۔  اس اسکیم کے تحت ریاست کے تمام 6 محصولاتی محکموں میں 3 گرام پنچایتوں کو انعامات دیئے جائیں گے ۔پہلا انعام 50 لاکھ ، دوسرا 25 اور تیسرا انعام 15 لاکھ ہوگا۔  مہاراشٹرا حکومت نے اس "کورونا فری ولیج” مقابلہ کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ دیہی علاقوں میں کوویڈ ۔19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اقدامات کرنے کے لئے تحریک پیدا کرسکیں۔  وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے نے حال ہی میں کچھ دیہاتوں میں اس انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی ہے۔

•••••••••••••••••••••••••••••••••



قرآن مجید کے ایک نقطہ اور شوشہ میں بھی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔

وسیم رضوی کے بیہودہ بیان پرمولانا خالد سیف اللہ رحمانی کارگزار جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈکا ردعمل

واضح ہوکہ نیوز رپورٹ سے ملی جانکاری کے مطابق قرآن مجید سے متعلق وسیم رضوی کے بیان پر اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے صحافتی بیان میں کہا ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی جانے والی آخری کتاب ہے، جو ایک ایک حرف کے ساتھ محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا، خود اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے، اس لئے وسیم رضوی کا قرآن مجید میں تحریف کا منصوبہ محض ایک بیہودہ کوشش ہے، جو کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی، اِس قسم کی کوشش پہلے بھی حکومتِ اسرائیل کی طرف سے ہوئی ہے اور مختلف دشمنانِ اسلام نے اس کی ناکام سعی کی ہے، اور اب بھی یہ کوشش ناکام ونامراد ہی رہے گی، یہ ایک شیطانی فکر ہے جو خالقِ کائنات سے لڑنے کے مترادف ہے، وسیم رضوی نے وزیر اعظم کو جو خط لکھا ہے اور قرآن طبع کرانے کا جو دعویٰ کیا ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس کی سخت مذمت کرتا ہے اور اس نے اس کو نظر میں رکھا ہے، ضرورت کے مطابق اس سلسلہ میں قدم اٹھائے گا

•••••••••••••••••••••••••••••••••



بہار کی عدالت میں دائر درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بابا رام دیو کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلنا چاہئے

واضح ہوکہ نیوز رپورٹ سے ملی جانکاری کے مطابق یوگا گرو بابا رام دیو کے خلاف بہار کی ایک عدالت میں  میڈیکل سسٹم ایلوپیتھی سے متعلق ان کے بیان کے لئے ایک درخواست دائر کی گئی ہے ، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان پر دیش دروہی کے الزام میں قانونی کارروائی کی جائے۔ درخواست گزار گیان پرکاش نے اپنے وکیل سدھیر کمار اوجھا کے توسط سے رام دیو کے خلاف چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں درخواست دائر کی۔ پرکاش اس سے پہلے کئی اعلی سیاستدانوں ، بالی ووڈ اداکاروں اور غیر ملکی سربراہان مملکت کے خلاف درخواستیں دائر کرچکے ہیں۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••



کورٹ میں ڈومینیکا حکومت نے کہا، مہول چوکسی کو ہندستان کو سونپ دیں

واضح ہوکہ نیوز رپورٹ سے ملی جانکاری کے مطابق مفرور میہول چوکسی کیس میں کل ڈومنکا کورٹ میں باہر بھیجنے کی عرضی پر سماعت ہو رہی ہے۔ اینٹیگوا اور بار بڈا سے حال ہی میں فرار ہوئے میہول چوکسی کو گزشتہ ہفتے ڈومینکا میں پکڑ لیا گیا تھا۔ چوکسی کے فرار ہونے کے بعد انٹیگوا اور بار بوڈا کے ویزیر اعظم گیسٹان براؤنی نے کہا کہ ڈومینیکا کو ہیرا کاروباری کو سیدھے ہندستان کو سونپنے کو کہا ہے۔ 13578 کروڑ پی این بی گھوٹالے کے ملزم چوکسی کو ہندستان لانے کیلئے سی بی آئی اور ای ڈی کی ٹیم ڈومینیکا پہنچی ہیں۔ یہ دونوں ٹیمیں ان سماعت کے دوران کورٹ روم میں موجود رہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ چوکسی اس سماعت میں ویڈیو کال کے ذریعے سے شریک ہوا۔

•••••••••••••••••••••••••••••••••



بی جے پی کارکن کانڈاکوخون سے خط،یوگی کوہٹانے کی مخالفت
واضح ہوکہ نیوز رپورٹ سے ملی جانکاری کے مطابق


گونڈہ:اترپردیش میں حکومت کی ناکامی کے بعدیوگی کی کرسی پرسوال اٹھ رہے ہیں۔بی جے پی میں بھی ان پرہنگامہ جاری ہے۔اترپردیش کے گونڈہ ضلع میں بی جے پی کارکن ، جو یوگی کے حامی ہیں ، نے پارٹی کے صدر جے پی نڈا کوخون سے ایک خط لکھا ہے ، جس میں یوگی کے وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سی ایم یوگی کو ہٹا دیا گیا تو وہ لکھنؤ میں بی جے پی کے دفتر کے سامنے خودکشی کریں گے۔سونو ٹھاکر نامی بی جے پی کارکن نے بھی اپنے خط میں یہ الزام لگایاہے کہ ریاستی سطح کے کچھ رہنما یوگی آدتیہ ناتھ کو ہٹانا چاہتے ہیں اور ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ میری خودکشی کی ذمہ داری ایسے لیڈروں پر ہوگی۔وہ سی ایم یوگی کے کام سے بہت خوش ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ریاستی سطح کے کچھ رہنما ان کے خلاف سازشیں کررہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔

•••••••••••••••••••••••••••••••••



اویسی کاطنز،اپریل میں کوروناسے جنگ جیتنے کادعویٰ کرنے والے وزیراعظم کہاں ہیں؟

واضح ہوکہ نیوز رپورٹ سے ملی جانکاری کے مطابق اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے ہونے والی اموات کے لیے مرکزی حکومت ذمہ دار ہے۔ اے آئی ایم سربراہ نے کہاہے کہ میں ثبوت کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ جب تمام ڈاکٹروں اور ماہرین نے کہا تھا کہ دوسری لہر آئے گی تو پھر اس کے مطابق انتظام کیوں نہیں کیا گیا۔ وزیر اعظم نے اس مشورے کو نہیں سنا اور اپنی مرضی سے فیصلے کیے۔ انہوں نے کہاہے کہ وزیر اعظم نے ملک سے وعدہ کیا تھا کہ کورونا کے خلاف روڈ میپ تیار ہے ۔ انہوں نے کہاہے کہ وزیر اعظم نے 8 اپریل کو خود کہا تھا کہ ہم نے کورونا کے خلاف جنگ جیت لی ہے۔ بی جے پی نے قرارداد منظور کرکے وزیر اعظم کی قیادت کی تعریف کی۔ وزیر اعظم اس سب کے ذمہ دار ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاتھاکہ ہم آسٹریلیا سے کرکٹ کے میدان اور کورونا کے خلاف جنگ میں جیت چکے ہیں۔ اویسی نے کہاہے کہ دوسرے ممالک نے اپنے لیے ویکسین کا بندوبست کیا ہے ، لیکن ہم نے وقت پر انتباہ نہیں کیا اور یہ ویکسین دوسرے ممالک کو برآمد کرتے رہے۔آکسیجن کی ذمہ داری بھی ملک کے وزیر اعظم اور اس کی حکومت پر عائد ہوتی ہے

•••••••••••••••••••••••••••••••••

مراد آباد: ایس پی رکن قومی اسمبلی ایس ٹی حسن بولے- شریعت سے چھیڑ چھاڑ کے باعث آئے دو طوفان، کورونا سے گئی ہزاروں کی جان

واضح ہوکہ نیوز رپورٹ سے ملی جانکاری کے مطابق اترپردیش کے مرادآباد میں سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ایس ٹی حسن نے ایک بار پھر بیان دے کر ہلچل مچا دی ہے۔  اس سے پہلے بھی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ اس طرح کا بیان دے چکے ہیں۔  ایس پی کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ 10 دنوں میں دونوں طوفانوں کی آمد اور کورونا وبا کی وجہ سے ہزاروں جانوں کا جانا گذشتہ سات سالوں میں حکومت کی طرف سے ہونے والے ناانصافیوں کی علامت ہے۔
ایس پی کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ایس ٹی حسن نے بی جے پی پر سخت تنقید کی ہے۔  ایس پی کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ایسے قوانین گذشتہ سات سالوں میں بنائے گئے ہیں ، جن میں شریعت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔

بشکریہ اے ڈی بی نیوز

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button