سمستی پورفکر و نظر / مضامین و مقالات

ایک مرد آہن کی داستاں

مطالعہ نگار: سید محمد ریاض ندوی کھجناوری
رئیس: جامعة الحسنین
صبری پور

چند ماہ قبل ہماری لائبریری میں ایک کتاب کا اضافہ ہوا،جس کانام "ایک مرد آہن کی داستاں” ہے،جس کو فاضل نوجوان،زبان وقلم سے آشنا اور سنجیدہ فکر کے حامل مفتی محمد صادق مظاہری زید مجدہ نے تحریر کیا ہے،انہوں نےایک نسخہ بطور ہدیہ میرے پاس بھیجا،میرا یہ اصول ہے کہ میں ہدیہ میں آنیوالےکتب ورسائل کوغلاف کرکے طاقوں میں نہیں سجاتا،الماریوں کی زینت نہیں بناتا،ان کی ظاہری خوبصورتی کو آلودۀگردوغبار نہیں کرتا،بلکہ ان کو پڑھ کر اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک اور اپنی معلومات میں اضافہ کا باعث گردانتا ہوں۔

میری نظر میں یہ کتاب سیرت و سوانح پر لکھی جانے والی ان کتابوں میں ہے جن میں جدت ہے،تازہ کاری ہے،شیفتگی و شگفتگی ہے،ایک نیا رنگ وآہنگ اور نئے قالب میں ڈھال کر کتاب کوقارئین کی بصارتوں کے حوالہ کیاگیا ہے،اور صاحب سوانح کو آسودۀخاک نیز ان کے شاگردوں ومتعلقین، اولاد واحفاد اور اپنے اوپر نچھاور ہونے والی ان کی شفقتوں کو ایک اچھا خراج پیش کیا گیا ہے،جو احسان شناسی کی واضح دلیل ہے۔

ایک "مرد آہن” اپنے بلند عزائم کے حصول میں شب وروز منہمک رہتا ہے،منزل مقصود سامنے ہوتی ہے،نہ ڈرتا ہے،نہ جھجکتا ہے،اس کے ارادے فولادی، حوصلے بلند،اور ہمت جواں ہوتی ہے اسی مرد آہن کی یہ داستان ہے جس میں حوصلہ،بلندی،جذبہ اندروں، جنون،درد،کڑھن کاامتزاج تھا اور پھر کامیابی قدم بوس ہوتی گئی،راہیں وا ہوتی گئیں۔

کتاب صوبۀگجرات کی مردم خیز ومردم ساز سرزمیں میں جنم لینے والی علمی وعملی شخصیت،فیض رساں،جامع المعقول والمنقول حضرت مولانا مفتی عبد اللہ صاحب پٹیل مظاہری رویدریؒ بانی جامعہ مظہر سعادت ہانسوٹ کی داستان حیات پر مشتمل ہے

گجرات علم وکمال،فضل وجمال کی وہ سرزمین ہے جس کو صحابہؓ وتابعینؒ کے قدوم میمنت کا شرف حاصل رہا اسی کی برکت ہے کہ تفسیر وحدیث میں رسوخ ومہارت رکھنے والی بےمثال شخصیات،فقہ
وفتاوی میں ممتازبا کمال افراد یہاں موجود رہے اور علم ومعرفت کے جام،شریعت و طریقت کے خم لنڈھاتے رہے، حضرت مولانا مفتی عبد اللہ صاحب مظاہریؒ بھی اسی قافلۀکمال کے فرد فرید تھے اور ان بافیض،علم پرور افراد میں سے تھے،جنہوں نے اپنی زندگی کا اکثر حصہ اسی ریاستِ گجرات میں علم وعمل کی محفلوں، ذکرواذکار کی مجلسوں،اور زبان وادب کی موشگافیوں سےنئی نسل کو تیار کرنے اور ان کو کارآمد بنانے میں صرف کیا،آپ نے جس زمانہ میں جامعہ مظاہر علوم سہارن پور سے اعلی تعلیم مکمل کی اس وقت بھی وہ یہاں کے مشائخ کے منظور نظر رہے اور ان کو یہ مقام وعنایات ان کی بے پایاں اعلی کارکردگی،کتاب ومطالعہ سے عشق،یہاں موجود اکابرین سے کسب فیض کے نتیجہ میں ملا، مفتی صاحبؒ کی شخصیت علمی وعملی میدان میں ممتاز،اہل علم کے یہاں محترم اور مشائخ کی بارگاہ میں محبوب تھی،جس کی شہادت محدث عصر حضرت العلام مولانا محمد یونس صاحبؒ کے قلم سےکافی ہوگی۔
آپ نے لکھا ہے
"عبد اللہ مظاہر علوم کا آدھا علم لے گیا
گجرات کے دو طالب علم مجھ سے کماحقہ پڑھ کر گئے ہیں ان میں ایک عبداللہ گجراتی یعنی مفتی عبد اللہ مظاہری اور دوسرے مولانا اسماعیل چاسوی صاحب”
ملاحظہ کریں:خطبات محمود
حضرت قاضی مجاہد الاسلام صاحبؒ حضرت مفتی صاحبؒ کے علمی وتعمیری خدمات سے متا ثر ہوکر وقیع کلمات تحریر فرماتے ہیں
اللہ تعالی نے گجرات کو دو عبد اللہ عطا کئے ،اتفاق سے دونوں بھروچ کے ہیں
(1)حضرت مولانا عبد اللہ صاحب کاپودروی
(2)مفتی عبد اللہ صاحب مظاہری رویدریؒ
ملاحظہ کریں: 85
حضرت مفتی صاحبؒ نے جہاں اپنے آپ کو علم وتہذیب سے آراستہ کیا پھر وہیں کے مشائخ نے ان کو اپنا معتمد بنا کر جامعہ مظاہر علوم کی شوری میں شامل فرمایا،اور اپنے پیر ومرشد عارف باللہ حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد باندوی کی یادگار جامعہ عربیہ ہتھورا باندہ کے بھی رکن رہے،اسی طرح آپ کی حسن کارکردگی،ذہانت و ذکاوت، انقلابی سوچ وفکر کو دیکھ کر ہندوستان کی متحدہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا بھی ممبر بنایا گیا، جمعیة علماء ہند سے بھی منسلک رہے،اور تنظیم اتحاد المسلمین قطر کے بھی رکن رہے،حضرت مفتی صاحب مقدر کا سکندر ٹہرے کہ ایک کمرہ سے آغاز ہونے والے ادارہ کو اپنی محنت وجانفشانی سے جلد ہی تعلیم میں ممتاز اور تعمیری طور پر پرشکوہ اور دعوت نظارہ دینے والی عمارتوں میں تبدیل کردیا، انہوں نے اپنی صلاحیتوں وکمالات کے اظہار کے لئے اگر ایک جانب جامعہ مظہر سعادت کی بنیاد ڈالی جو ان کے اخلاص وللہیت ،تعلق مع اللہ کے نتیجہ میں خوب پھلا پھولا،پروان چڑھا،تناور درخت بنا،اور جوق درجوق اس سے نونہالان ملت اسلامیہ نے کسب کیا،جو آج بھی پر بہار ہے،وہیں دوسری جانب خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ایک سوشل ورکر اور خادم ملت کی حیثیت سے سعادت ریلیف کا قیام کیا،
پھر ایک وقت وہ بھی دیکھا گیا کہ وہ آبروئے گجرات ہوئے۔

مرتب کتاب نے انتساب کو اپنے والدین،اساتذہ اور مفتی صاحبؒ کے نام کیا ہے،یہ زمین پر لانے والوں سے دلی تعلق ومحبت اور پھر اس خاک کے پتلے کوکندن بنانے والوں سے عشق اور مفتی صاحبؒ سے فدائیت کا کرشمہ ہے۔
کتاب میں جدت وتنوع پیدا کرنے والی ایک تحریر جو شروع میں "علمی حکمرانی وبادشاہی” کےنام سے ہے جس میں مصنف نےیہ ثابت کیا ہے۔ علم ہی کے ذریعہ انسان کی فضیلت واہمیت ہوتی ہے کہ اہل علم وکمال پس مرگ بھی جاوید ہوتے ہیں،ان کا فیض جاری وساری رہتا ہے،اور اپنے علمی کارہائے نمایاں کے سبب وہ یاد کئے جاتے ہیں،یہ علمی فضل وکمال کا جمال ہے جس کے سامنے لوگ جھکتے اور عقیدت سے گردن خم کرتے ہیں جبکہ دنیوی حکمرانی آنکھ بند ہوتے ہی ختم اور فنا ہوجاتی ہے۔
حضرت مفتی صاحبؒ کے صاحبزادہ محترم مولانا عبید الرحیم صاحب دامت برکاتھم "حرف تحسین” رقم کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
زیر تبصرہ کتاب حضرت والد صاحبؒ کی اولواالعزمی اور حیرت انگیز شب وروز کا بیانیہ ہے،اس لئے اس کو مکمل دیکھنے کا اتفاق ہوا،جس سے اندازہ ہوا کہ خامہ بردار نے نہایت شوق وذوق سے اسےمرتب کیا ہے،اس کتاب میں والد صاحب کی ہشت پہلو شخصیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
ملاحظہ کریں : 18

"اپنی بات” پیش کرتےہوئے مرتب رقمطراز ہیں:
میں نے اس داستاں میں جو کچھ تحریر کیا ہے وہ یا تو حضرت مفتی صاحبؒ کی کتابوں سے یا پھر ان کے صاحبزدگان سے معلوم کرکے اپنے الفاظ میں اس کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے داستاں میں دلچسپیاں بھی ہیں،حقائق بھی،محبت و ہمدردی بھی ہے، عظمت واحترام بھی۔ 19

کتاب کی ترتیب دیگر سوانح پر لکھی جانے والی کتابوں سے الگ ہے،کتاب کو ابواب پر تقسیم نہ کرکے ہر مضمون کو ایک عنوان بنایا گیا ہے اور ہر عنوان پر الگ الگ تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

جس طرح مصنف کتاب سے پہلا تعارف ایک حسن کے پیکر،کلف دار سفید کرتا،شلوار اور موسم سرما میں اس پر ایک قیمتی صدری وکوٹ سے ہوتا ہے،اسی طرح ان کی کتاب سے بھی پہلی ملاقات دیدہ زیب سرورق عمدہ کاغذ اور کتابت کی خوبصورتی سے ہوتی ہے،لیکن پروف کی غلطی سے قاری پڑھتے ہوئے ہچکچاتا ہے،اپنی باطنی کیفیات کو ظاہر کرنے کے لئے بھاری بھرکم الفاظ کا سہارا نہیں لیا گیا ہے،نہ ہی مشکل و مبہم تشبیہات واستعارات کا استعمال کیا گیا،بلکہ عام فہم اور سہل الفاظ واسلوب کے ساتھ اپنی بات قاری کی بصارتوں کے نذر کردی گئی ہے مگر ان سادہ وسبک الفاظ میں فکر وخیال کی گہرائی و گیرائی ہے،لفظی پہلوانی سے قارئین کو پچھاڑنے کی کوشش نہیں کی گئی،بلکہ زبان کی روانی وسلاست کے ساتھ نئے مضامین اور فکر و عمل کے نئے گوشے وا کئے ہیں، کتاب مطالعہ سے تعلق رکھتی ہے اور انسان کے اندر کچھ بننے،کچھ کرگزرنے کا جذبہ پروان چڑھاتی ہے۔
144 صفحات پر مشتمل اس کتاب کومکتبہ عبدیت انکلیشور بھروچ ،گجرات نےشائع کیا ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button