اہم خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

کشن گنج میں ایک مسلم فیملی کے ہندو بننے سے تجدیدِ ایمان تک کی حقیقی کہانی ✍️ آفتاب اظہر صدیقی

ہمارے ٹھاکرگنج کشن گنج روڈ پر ایک گاؤں کا حالیہ واقعہ ہے کہ ایک مسلم گھرانے کا تعلق غیرمسلم گھرانے سے بہت گہرا تھا ، آپسی میل جول، لین دین، خوشی اور غمی میں شرکت صلہ رحمی کی حد تک تھی ، پھر یوں ہوا کہ مسلم گھرانے کا ایک فرد بیمار ہوگیا، بہت دوا علاج کے بعد بھی مرض ختم نہیں ہوا تو اس کے ہندو دوست نے اس کو مشورہ دیا کہ تم ایک دن ہمارے دیوی دیوتا (مورتی) کے سامنے آکر پوجا کرو اور منت مانگو، بیماری ٹھیک ہوجائے گی، اس نے اپنی جہالت کی بنا پر جاکر پوجا پاٹھ کیا، بیماری پھر بھی ٹھیک نہیں ہوئی، ہندو دوست نے کہا کہ صرف ایک فرد کے پوجا کرنے سے نہیں چلے گا، گھر کے سبھی افراد پوجا کریں، بیمار بندہ اس پر بھی راضی ہوگیا اور اپنے بال بچوں کے ساتھ مورتی پوجا کی رسم ادا کی، بیماری اب بھی ٹھیک نہ ہوئی تو ہندو دوست نے کہا کہ ایک دن کی پوجا کافی نہیں، مستقل پوجا کرنی پڑے گی، وہ شخص اپنے اہل خانہ کے ساتھ مستقل پوجا پاٹھ کرنے لگا، حتیٰ کے گذشتہ ماہ کے چھٹ پوجا میں بھی وہ لوگ شریک رہے اور ہندوؤں کی طرح پانی میں ڈبکی لگاکر منت مانگی؛ بیماری تو بہر حال ٹھیک نہیں ہوئی؛ لیکن اب گاؤں کے بہت سے مسلمانوں پر اس مسلم گھرانے کا کفر عیاں ہوچکا تھا؛ لہذا انہوں نے ہمارے ایک قریبی عالم سے رابطہ کیا اور انہیں سارا واقعہ بتاکر آنے کی دعوت دی، مولانا نے اکیلے نہ جاکر کشن گنج کے کئی اکابر علمائے کرام کو ساتھ لیا اور اس گاؤں میں پہنچے، گاؤں کے سبھی لوگ بشمول اس گھرانے کے مسجد میں جمع ہوئے، علمائے کرام نے توحید کی اہمیت اور شرک کی مذمت بیان کی، نعمت اسلام کو سمجھایا تو اس گھرانے کے سبھی افراد کو اپنے کیے پر پچھتاوا ہوا اور انہوں نے سب کے سامنے معافی مانگی، توبہ کی، علمائے کرام نے پوری فیملی کو کلمہ پڑھاکر تجدیدِ ایمان کرایا۔

سوال یہ ہے کہ ایسے کتنے ہی مسلم گھرانے ہندوستان میں ہوں گے جو اپنی جہالت، مجبوری اور لاچاری کی بنا پر اسلام جیسی عظیم نعمت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، کیا ہمیں ان کی کوئی فکر ہے؟ کیا ہمارے پاس کوئی لائحۂ عمل ہے جس سے ہم اپنے ایمان والے بھائیوں کو کم از کم شرک و بت پرستی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کریں؟
مذکورہ واقعہ تو مسلم اکثریتی علاقے کا تھا، جہاں کے بارے میں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ ایسا ہوگا؛ جبکہ ہندوستان میں ہزاروں بستیاں ایسی ہیں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور ہندوؤں کی بہت سی رسموں اور تہواروں میں شریک بھی ہوتے ہیں۔ کیا ہمارے پاس علمائے کرام کی کوئی ایسی جماعت کوئی ایسی تنظیم کوئی ایسی پلاننگ ہے جو صرف اس موضوع پر کام کرے کہ دوسری قومیں ایمان والوں کے ایمان پر ڈاکہ نہ ڈال سکیں؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button