اہم خبریںمضامین

ڈاکٹر احسان عالم "اوراقِ غزل "۔۔ کے آئینے میں ۔✍️انور آفاقی دربھنگہ ۔


اوراقِ غزل” ڈاکٹر احسان عالم کا اولین شعری مجموعہ ہے جو اکتوبر ۲۰۲۰ء میں منظر عام پر آیا ہے۔ اس مجموعہ کلام کے ساتھ ہی اب وہ شاعر برادری کی صف میں شامل ہو گئے ہیں ۔ احسان عالم نے بڑی عمدگی اور تمام تر شعری محاسن کا خیال رکھتے ہوئے اپنے احساس و جذبات کو لفظوں کا جامہ پہنا کر اپنی شاعری میں پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے جس کی پذیرائی یقینا ہوگی ۔ ان کے اس شعری مجموعہ کے مطالعہ سے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اندر شاعری کے جرثومے اچانک نہیں پیدا ہوئے بلکہ ایک مدت سے پرورش پا رہے تھے ۔ اس جرثومے کا پتہ
پروفیسر شہاب ظفر اعظمی کو اس وقت ہی لگ چکا تھا جب وہ احسان عالم کی کتاب” آئینہ تحریر ”

(مطبوعہ ۲۰۱۶ ء) پر پیش لفظ لکھ رہے تھے ۔وہ اپنے اس مضمون میں پیشنگوئی فرماتے ہوئے رقم طراز ہیں: ” شعراء پر لکھے گئے مضامین کی تعداد نسبتا زیادہ ہے اس لئے اندازہ ہوتا ہے کہ احسان عالم صاحب کا ذہنی میلان شاعری کی جانب تخصیص لیے ہوئے ہے۔”
اس شعری مجموعہ اوراق غزل کو کسی شلف میں کتابوں کی صف میں اگر رکھ دیا جائے تو یقینا نگاہ اس کتاب پر جا کر ٹھہر جائے گی ۔ اس کا ظاہری حسن پہلی ہی نظر میں قارئین کو اپنی جانب نہ صرف متوجہ کرے گا بلکہ پڑھنے پر بھی مجبور کرے گا اور اسکی کوکھ میں چھپے خوبصورت اور معنی خیزاشعار قارئین کے ذوق مطالعہ کی تسکین کا ذریعہ بھی ہونگے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کتاب بہت اچھی چھپی ہے اور آنکھوں کے راستے سیدھے دل میں اتر جاتی ہے۔
۱۷۶ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں کل ۷۲ عدد شعری کاوشیں ہیں جن میں ایک” حمدِ "رب کائنات ہے جس میں سولہ اشعار ہیں اس کے بعد سرور کائنات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں نذرانہ عقیدت (نعت شریف ) پیش کیا گیا ہے اور پھر ۵۹ غزلیں ، ایک جشنِ آزادی کے عنوان سے غزل نما آزادی کا گیت اور چھ تہنیتی نظمیں شامل ہیں جو حضرت طرزی ، رفیع الدین راز، پروفیسر آفتاب اشرف، ڈاکٹر منصور خوشتر اور انور آفاقی سے عقیدت و محبت میں لکھی گئی ہیں۔ چار قطعات گوش بر آواز کے لیے ، ایک شعر زمزم پہ، ایک ” قیامت کی گھڑی ” کی سرخی کے ساتھ امت مسلمہ کے لیے پیغام اور ایک "کرونا کی دہشت” کے عنوان سے لکھی گئی نظمیں ہیں اور آخر میں پانچ اشعار پر مبنی پروفیسر آفتاب اشرف کے سربراہ شعبہ اردو ، ایل۔ این ۔متھلا یونیورسٹی دربھنگہ مامور ہونے پر تہنیتی نظم ہے ۔ کتاب کا "انتساب "عالمی شہرت یافتہ شاعر و ادیب پروفیسر عبد المنان طرزی کے نام ہے ۔ صفحہ ۴ اور ۵ پر صاحب کتاب کا مختصر تعارف اور ان کی تصنیفات و تالیفات کی فہرست ہے ۔ اس فہرست میں دو کتابوں کی سنِ اشاعت ۲۰۱۵ ء لکھی ہوئی ہے جو غلط ہے ۔ اصل میں ان کتابوں کی اشاعت ۲۰۱۴ ء میں ہوئی تھی۔ ممکن ہے کاتب کی غلطی سے ایسا ہوا ہو ۔ صفحہ ۱۰ پر "عرض حال” کے تحت احسان عالم نے کچھ اپنی باتیں کی ہیں ۔ صفحہ ۱۱ پر معروف و ممتاز شاعر رفیع الدین راز ( امریکہ) کا مضمون بعنوان "ڈاکٹر احسان عالم کی فکری جہت ” ہے ۔ اپنے اس مضمون میں وہ لکھتے ہیں : ” ڈاکٹر احسان عالم کی غزلوں کے زیادہ تر اشعار متاثر کرتے ہیں لیکن چند اشعار جس نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا وہ
حسب ذیل ہیں:
میں عہد رفتہ کا وہ ماجرا ہوں
کہ یکسر ہی بھلا ڈالا گیا ہوں۔
اپنی غزلوں کے اب انداز بدل کر دیکھوں
راز جب عام ہے ہمراز بدل کر دیکھوں
ہمنوا سارے زمانے کو بناتے چلئے
دشمنوں کو بھی گلےاپنے لگاتے چلئے
بیٹھ مت جائیےتھک ہار کے رستے میں ہی
سوئے منزل ہی قدم اپنے بڑھاتے چلئے
آئے احساں کی عیادت کو وہ جب
خیر مقدم کی بھی طاقت ہو گئی۔
ایک مجبور کے ہاتھوں کی دعا بن جاؤں
حق میں بیمار کے تاثیرِ دواں بن جاؤں
دوسرا تاثراتی مضمون حقانی القاسمی کا ہے تیسرا خورشید حیات اور چوتھا پروفیسر شہاب ظفر اعظمی نے تحریر کیا ہے کتاب کے بیک کور پر ” اوراقِ غزل "کے چند اوراق ، کے عنوان سے ڈاکٹر ایم۔کمال الدین(سابق صدر شعبہ اردو ایل۔این۔ایم۔یو دربھنگہ کا تحریر کردہ پر مغز مضمون ہے ۔ سارے مضامین الگ الگ نوعیت کے ہیں اور احسان عالم کی شعری و فکری جہت کو اجاگر کرتے ہیں ۔ حقانی القاسمی نے اپنے مضمون "تبدیلیوں کی آہٹیں ” کے ذریعے احسان عالم پر اپنی آراء نہایت عمدگی کے ساتھ قلم بند کیا ہے جو احسان عالم کی شعری کائنات پر ایک بہت ہی جامع اور وقیع مضمون ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب ایک معتبر اور ممتاز ناقد اپنے قلم سے اپنی فکر و بصیرت کا نور بکھیرتا ہے تو روشنی کی کرن چاروں طرف پھوٹ پڑتی ہے ، ہر جہت روشن ہو جاتی ہے ۔ ڈاکٹر احسان عالم کی شعری فکر و جہت کو سمجھنے میں حقانی القاسمی کا یہ مضمون نہ صرف معاون ثابت ہوگا بلکہ ان کی شعری کائنات کو اعتبار بھی بخشے گا ۔ حقانی اپنے مضمون میں ایک جگہ رقمطراز ہیں:
” احسان عالم کا کلام زندگی کا آئینہ ہے اس میں حیات و کائنات کا عکس دیکھ سکتے ہیں ۔ ان کی شاعری میں فن اور زندگی کا ایک گہرا معنوی رشتہ ہے ۔ زندگی کی صداقتیں یکساں ہوتی ہیں مگر ادراک ذرا الگ ہوتا ہے۔ ان کے یہاں بہت سی معاشرتی حوالے بھی ہیں اور ان سماجی رویوں کا بیان بھی ہے جو معاشرے کے انحطاط ، زوال اور اقدار شکنی کی نشاندہی کرتے ہیں۔”
بہت تھے اچھے دنوں میں فدائی ،شیدائی
جو وقت آیا برا کوئی غمگسار کہاں ۔
اسے مطلب ہے اپنے فائدے سے
وہ مجھ سے اس لئے ملتا رہا ہے۔
ڈاکٹر احسان عالم نے اپنی شاعری کے توسط سے دکھ درد، ظلم و جبر، سماجی بے کلی ،حالات کی ستم ظریفی ، سیاسی شعبدہ بازی اور عدل و انصاف کی بدلتی تصویروں کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی ان کی شاعری میں اپنی مٹی سے رشتے کی خوشبو کا احساس ہوتا ہے اور حب الوطنی کا
جذبہ، ہمت و حوصلہ اور منزل مقصود کو پا لینے
کا پیغام بھی ملتا ہے۔
پانا منزل کبھی دشوار نہیں کچھ احساں
حوصلہ اپنا اگر عزم جواں تک پہنچے
عزمِ جواں سے کام لیا میں نے عمربھر
کچھ اس لیے سنورتی رہی میری زندگی
گزرا کتنے بیاباں و صحرا سے میں
تب شگفتہ سا اک گلستاں مل گیا
کیسے لہو نہ روئے زمانے کے بخت پر
مظلوم ہے صلیب پہ ظالم ہے تخت پر
گرچہ خود سراپا درد ہوں میں
کسی کے درد کی لیکن دوا ہوں
محبت بھی وطن سے ہم کو ہے احسان کچھ ایسی ترانہ اس کی عظمت کا ہی سنتے اور سناتے ہیں
راہ لمبی تھی بہت دور تھی منزل اپنی
پھر بھی امید کو سینے سے لگائے رکھا
جہاں پر سودے بازی روزوشب ہوتی ضمیروں کی سیاست کی ہی وہ کوئی گلی معلوم ہوتی ہے
کوئی جھک کر اگر تم سے ملا ہے
یقینا تم سے وہ قد میں بڑا ہے
جس شاعر کو مندرجہ بالا جیسے اشعار کہنے کا ہنر آتا ہو تو اس سے مستقبل میں اچھی امیدیں لگائی جا سکتی ہیں ۔
اپنی بات اس دعا کے ساتھ ختم کرتا ہوں کہ اللہ ڈاکٹر احسان عالم صاحب کو سلامت رکھے اور وہ یوں ہی متحرک و فعال رہیں اور ان کا تخلیقی سفر جاری و ساری رہے۔

انور آفاقی
ہدی منزل،
دربھنگہ ۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button