اہم خبریں

مولانا رفیق قاسمی کے سانحہ ارتحال پر تعزیتی نششت کا سلسلہ جاری

مشہور عالم دین مولانا رفیق احمد صاحب قاسمی کے سانحہ ارتحال پر ضلع سوپول اور دین بندھی کے مختلف مدارسوں ومکاتبوں میں تعزیتی نششت کا سلسلہ جاری ہے گذشتہ کل مدرسہ دینیہ دین بندھی اور مدرسہ اسلامیہ اشرف العلوم کمل پور میں بھی تعزیتی نششت منعقد کی گئی جس میں علاقہ کے علماء سیاسی سماجی وملی تنظیموں کے ذمہ داران کی ایک بڑی تعداد نے مولانا مرحوم کے خدمات کو یاد کرکےخراج عقیدت پیش کیااورکہاکہ مولانا رحمہ اللہ(دین بندھی) کے ایک مستند و معتبرعالم دین تھے پڑھنے لکھنے سے انتہائی دلچسپی،انتظامی امور میں ماہر تھے انہوں نے اپنی پوری زندگی درس و تدریس میں گزار دی خدمت خلق کا جذبہ ان کے سینے میں بہت موجزن تھا قومی ملی مسائل سے خصوصی دلچسپی رکھتے تھے، لوگوں کے دکھ سکھ ،رنج و الم میں برابر شریک رہتے تھے، چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں سے عقیدت اور احترام سے پیش آتے تھے ان کی وفات سے پورہ علاقہ سوگوار ہے حضرت رحمۃ اللہ علیہ علاقے کے مشہور و معروف ادارہ مدرسہ دینیہ دین بندھی سوپول بہار کے مؤقر استاذ تھے جہاں زندگی کے آخری دنوں تک مولانا ؒنے درس و تدریس کے فرائض کو بحسن خوبی انجام دیتے رہے حافظ عبد الصمد رحمانی بانئ و مہتمم جامعہ اسلامیہ اشرف العلوم پچھم کملپور سوپول نے حضرت مولاناؒ کے انتقال کو قومی وملی خسارہ قرار دیا ہے اور اخلاق و مروت میں انہیں ایک بہترین انسان قرار دیا ہےنیز ان کی مغفرت و رفع درجات اور پسماندگان کو صبر جمیل کے لئے خصوصی دعا کی ہے. یہ بھی کہا کہ حق جل مجدہ اس علاقے کے لئے حضرت مولانا ؒ کا نعم البدل عطا فرمائےحافظ سرفرازصاحب ،مفتی جمیل صاحب مفتی اظہار صاحب، مفتی کاظم صاحب مولانا مہتاب صاحب مولانا شمیم صاحب مولانا نوشاد صاحب، حافظ منت اللہ صاحب مولانا نعیم صاحب مولانا نور اللہ صاحب ندوی (مدرس جامعہ ہذا) مولانا محمد علی جوہر سوپولوی نے بھی اپنے گہرے رنج و الم کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کےلئے مغفرت و رفع درجات اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی خصوصی دعا کی ہے اللہ مرحوم کے خدمات کو قبول فرمائے آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button