غیر مسلموں کے ساتھ رواداری برتنا

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے،اورمخلوق میں سب سے زیادہ اللہ کے نزدیک محبوب وہ شخص ہے جو اس کے کنبہ کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے (الحدیث)
قارئین! اسلام ہم کوبلا تفریق مذہب وملت ہرشخص کےساتھ انسانیت نوازی،رواداری اور حسن سلوک کر نے کا حکم دیتاہے، مذکورہ حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری مخلوق کو اللہ کا کنبہ کہاہے اور جو اللہ کے کنبہ کے ساتھ احسان وبھلائی اور رواداری اختیار کر تا ہے اللہ اس کو محبوب رکھتا ہے،کنبہ میں ہرقسم کے افراد ہوتے ہیں اور اللہ کا کرم وانعام سب پر جاری وساری ہے،لاکھوں افراد شرک وکفر میں مبتلاء ہیں،لاکھوں افراد الحاد وارتداد کی دلدل میں دھنسے ہیں،مگر اس دنیامیں میں اللہ تعالیٰ سب کو رزق دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اہل اسلام بھی ہرایک کے ساتھ رواداری ، ہمدردی اور حسن سلوک کا معاملہ کریں،اچھےاخلاق اور بلند کردار کا مظاہرہ کریں


ہم جس ملک میں رہتے ہیں اور جس ماحول و معاشرہ میں زندگی گزارتے ہیں اس میں ملی جلی آبادی ہے،ہمارا سابقہ روزانہ غیر مسلم افراد سے بھی پڑتا ہے،ہم ان سے کٹ کر دور رہ کر سماجی و معاشرتی زندگی کیسے گزار سکتے ہیں،ایک ہی شہر وقصبہ اور گاؤں دیہات میں مخلوط آبادی ہوتی ہے،اس لیے ایسے ماحول میں ہم پر فرض بنتا ہے کہ ہر فرد کے ساتھ اسلامی اخلاق کا بہترین نمونہ اپنے قول و فعل اور حرکات و سکنات سے پیش کرکے ان کے دلوں میں اسلام کی حقانیت اور اس کی اعلیٰ تعلیم کا نقش بیٹھا ئیں ان کے دلوں سے شکوک وشبہات دور کریں کہ مسلمان دوسروں کو ناپاک و نجس سمجھ تے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں،آج ہم پرجو حالات ہیں، وہ اس سے پہلے نہیں تھے،آج مسلمانوں کو وحشی،خونخوار،دہشت گرد اور انتہا پسندبناکر پیش کیا جارہاہے اور یہ کام فرقہ پرست،اسلام دشمن افراد کرتے ہیں،مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرت و عداوت کا بیج بوکر وہ اپنا سیاسی اور ذاتی مقصد پورا کرنا چاہتے ہیں،
قارئین! اسلام نے نفرت کے بدلہ محبت، ظلم کے بدلہ معاف کر دینے کا مزاج بنایا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جانی دشمنوں کو معاف کر کے ان کا دل جیتا ہے فتح مکہ اس کی مثال ہے،مدینہ میں یہود وانصار کی مشترک آبادی تھی،یہودی آپ کو بہت تکلیف دیتے تھے وہ آپ کے اور آپ کے صحابہ کے جانی دشمن تھے مگر اس کے باوجود آپ سے ملتے بھی تھے اور لین دین بھی کرتے تھے آپ نے کبھی بھی ان کو اپنی زبان سے برابھلا نہیں کہا بلکہ جب کبھی ضرورت پڑتی ان کی مدد کرتے،اسی کانام ہے اللہ کے کنبہ کے ساتھ رواداری اور بھلائی کا معاملہ کرنا ہاں اتنا ضرور ہے کہ ان سے مذہبی تعلق اور ربط نہیں رکھا جائے گا،ان کی مذہبی تقریبات اور رسومات میں شرکت نہیں کی جائے گی کیونکہ من تشبیہ بقوم فہو منہم (الحدیث)کی قبیل سے ہے اور وہ ناجائز ہے،اور نہ ہی ان کو دوست بناکر مسلمانوں کے رازوں کی بات ان سے کہی جائے گی،باقی عام معاملات،جیسے خیر وفروخت کرنا،امدادو تعاون کرنا اور ان سے انسانی بنیادپر میل جول رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے،اسلام نے اسی وجہ سے کسی کی ذات سے نفرت کرنے کا حکم نہیں دیا ہے ؛بلکہ اس کی بری صفت اور غیر اسلامی عمل سے نفرت کی ہے لیکن وہ بھی اس کی اصلاح کے لئے اس کی ہدایت کے لئے اور آج مذہبی رواداری کی ضرورت بہت زیادہ ہے اور ہم کو اخلاق نبوی کی روشنی میں عمل کرنا ہے،سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معیار و نمونہ بنانا ہے تاکہ دنیامیں امن و امان اور محبت و الفت کی فضا قائم ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں