زندگی بہت اہم ہے اسے ضائع مت کیجئے

محمد امام الدین ندوی
مدرسہ حفظ القرآن منجیا ، ویشالی

زندگی اللہ تعالیٰ کی عظیم امانت ہے. اس کی قدر کرنا. اسے ہر مصائب ومشکلات سے بچانا, ہر طرح کی داخلی اور خارجی بیماری سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرنا ہماری ذمہ داری ہے.
اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ زندگی مفت میں دی ہے. اس زندگی کو حاصل کرنے کے لیے ہم نے کوئی درخواست نہیں دی. اور نہ ہی کوئی معاوضہ دیا. نہ کوئی ایگری منٹ کیا. اللہ تعالیٰ نے فری میں ہمیں یہ عظیم امانت عطا کی.
ہم نے اس زندگی کو کتنا کار آمد بنایا یہ قابل غور ہے. سونے سے لے کر بیدار ہو نے تک اپنی زندگی کے ساتھ وفاداری کی یا بےوفائی کی اس کا صحیح اندازہ ہونا چاہئے.
انسانی فطرت ہے اور روز مرہ ہم مشاہدہ بھی کرتے ہیں کہ جو چیز مفت میں ملتی ہے اس کی قدر نہیں ہوتی. لوگ اس کی بے حرمتی خوب کرتے ہیں. پانی کی مثال لیجئے. ہم ٹیوب ویل یا کنواں وغیرہ سے پانی نکالتے ہیں اور بے دریغ استعمال کرتے ہیں. جہاں ایک لوٹا پانی سے کام چلتا ہو وہاں دولوٹے پانی بہا دیتے ہیں. نہانے اور کپڑے دھلنے میں کئی کئی بالٹی پانی خرچ کرتے ہیں اور اس فضول خرچی پے افسوس بھی نہیں ہوتا ہے اس لئے کہ یہ پانی ہمیں مفت میں ملا ہے.
اس کے برعکس جب ہم گھر میں بسلری کا جار یا دوران سفر بسلری کی بوتل خریدتے ہیں تو اس پانی کو ضرورت کے مطابق ہی خرچ کرتے ہیں اسے صرف پینے ہی کے مصرف میں لیتے ہیں اس سے نہ ہاتھ دھو تے ہیں اور نہ ہی برتن. اس کے قطرے قطرے کو استعمال کرتے ہیں. اگر خدانخواستہ پانی بچ جائے تو بڑی حفاظت سے گھر لے آتے ہیں. کیونکہ اس پانی کی قیمت چکانی پڑی ہے. مفت میں حاصل نہیں کیا گیا ہے.
اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ زندگی مفت میں دی ہے. اس امانت کا احترام کرنا,اس کا پاس و لحاظ رکھنا ہمارے لئے بہت ضروری ہے. اس کا احترام یہ کہ ہم اپنی زندگی کو محسن انسانیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے پاکیزہ طریقے کے مطابق اللہ کی بندگی میں لگائیں.
جس طرح اعضاء انسانی میں سے کوئی عضو معطل ہوجا ئے تو آدمی بہت گھبراتا ہے. پریشان ہو جاتا ہے. اس کی بے چینی بڑھ جاتی ہے. پھر وہ علاج معالجے کے لئے در بہ در سرگرداں رہتا ہے. اچھے سے اچھا ڈاکٹر کا انتخاب کر تا ہے. اور دوا لیتا ہے. ڈاکٹر کچھ پرہیز بھی بتاتا ہے جسے وہ اختیار کرتا ہے. تاکہ اس کا چند روزہ جسم بیماری سے محفوظ رہے. تلف ہونے سے بچ جائے.
زندگی دراصل اللہ کی بندگی کے لئے ملی ہے .اس کی مکمل حفاظت کرنی چاہیے. اسے ضائع ہونے سے بچانا چاہیے. زندگی کا ضیاع یہ ہے کہ اسے احکام الٰہی اور اسوۂ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دور رکھا جائے. کفریہ، وشرکیہ اعمال کئے جائیں۔بدعت، وخرافات انجام دئے جائیں. رسم و رواج کا اسے خوگر بنایا جائے. حسد وجلن، کینہ وکپٹ، بغض و عناد،شرکشی، کذب بیانی، غیبت و چغلی، کسی کی عیب جوئی، دشنام طرازی، افترا پردازی،میں اسے غرق کردے. نفس کی غلامی میں اسے جھونک دے. بد نظری و بدنگاہی کا اسے حریص بنا دے. کسب حرام،واکل حرام کا اسے عادی بنادے. بے جا طرف داری،ظلم و ستم، کمزوروں، یتیموں،بیواؤں، محتاجوں، پڑوسیوں، کمزور رشتے داروں، کی حق تلفی کا اسے رسیا بنادے.
زنا کاری وبدکاری،شراب نوشی،سود خوری،بدخلقی واخلاق باختگی،چاپلوسی کا اسے عادی بنادے. بے شرمی وبے حیائی کی ساری حدیں اسے پار کرادے. شادی بیاہ میں بےجا مطالبات کا اسے خواہاں بنادے.
زندگی کا ضیاع یہ ہے کہ اپنےکو اوراپنےماتحتوں کو نرادنیاداربنا دے. تلاوت قرآن کو اپنی زندگی سے نکال دے. ذکرواذکار،حمد و ثنا ،درودوسلام زبان پربھولے سے بھی نہ آنے پائے. دوسروں کی خوشی سے تکلیف اور دوسروں کی تکلیف سے خوشی میسر ہونے لگے. اپنے پرائے بن جائیں .محبت نفرت میں بدل جائے. دوستی دشمنی میں تبدیل ہوجائے. وارثین کو وراثت سے محروم رکھا جائے. غیروں کے مال پر پیدائشی حق سمجھا جائے.جہلا علماء کا حاکم ومتولی بن جائے
والدین کی نافرمانی, اساتذہ سے بدسلوکی, قطع رحمی, جھوٹی گواہی, حرس وہوس, مال کی محبت, زندگی کا نصب العین بن جائے. بدی پر لطف اور بھلی معلوم ہونے لگے. نیکی کی جانب سے میلان ختم ہوجائے. قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول ہونے لگے. بڑوں کی عزت ختم ہوجائے. چھوٹوں پر شفقت کا جزبہ مر جائے. زکوۃ تاوان اور روزہ فاسٹنگ بن جائے. حج پکنک کی جگہ لے لے. خیر خیرات، باہمی امداد سیلفی اور تصویر کشی کے نذر ہوجائے. اخلاص وللہیت ناپید ہو جائے. ریا کاری، شہرت طلبی کا غلبہ ہوجائے.
زنگی کا ضیاع یہ ہے کہ گھر کی مستورات جیسے بہن، بیٹی، بہو،بیوی،پوتی، نواسی،وغیرہ غیر محرم مردوں کے ساتھ باقاعدہ نششت وبرخاست کرے اور ہماری غیرت نہ بھڑکے. مرد حضرات غیر محرم عورتوں سے شناسائی کرے اور ہماری حمیت بیدار نہ ہوسکے. چھوٹی شان اور شہرت کے لئے لوگوں کی خوب خدمت کریں اور والدین، غریب رشتہ دار، پڑوسی،کھانے کے محتاج ہوجائیں اور ہم ان کی خبر گیری نہ کریں.
یاد رکھیں سانسوں کے تھمتے ہی اصل زندگی کا آغاز ہوگا. وہاں اس نعمت عظمی، اور امانت کا حساب ہوگا.اگر ہم نے زندگی کے ساتھ دغابازی کی ہے، فریب کیا ہے، دھوکہ دھڑی سے کام لیا ہے،یعنی زندگی میں اللہ کی بندگی نہیں داخل کی اور اسوۂ رسول کو نہیں اپنایا تو ہم نے زندگی کو ضائع کیا.اللہ تعالیٰ کی عظیم امانت میں خیانت کی.
جسم کے کسی عضو میں تکلیف ہو تو انسان اچھے معالج کا انتخاب کرتا ہےتاکہ جسم سلامت رہے. اس پیاری زندگی سے اللہ کی بندگی نکل جائے اور اسوۂ رسول مٹ جائےتو ہم اس کا علاج نہیں ڈھونڈتے ہیں .ہمیں اس کا معقول علاج ڈھوڈنا چاہئے. اور اس علاج ہے اطیعوا اللہ ورسولہ. اور یاایھا الذین امنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ ولا تموتن الا وانتم مسلمون.
اللہ تعالی ہم سب کو زندگی کی حفاظت کی توفیق دے .اسے ضائع کرنے سے بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں