سہ ماہی تعمیر افکار سمستی پورفکر و نظر / مضامین و مقالات

روزہ رکھنا آسان ہے، لیکن اللہ کی نگاہ میں روزہ کو مقبول بنانا..؟

مولانا الیاس نعمانی ندوی

روزہ رکھ لینا ، یعنی سحری سے افطار تک بھوکا پیاسا رہنا کچھ مشکل نہیں، لیکن صرف یہ بھوک پیاس اللہ کی نگاہ میں ہمارے روزہ کو مقبول نہیں بناتی، ہمیں اس کی فضیلت اور اس کے ثواب سے ہم کنار نہیں کرتی۔

اگر ہم چاہتے ہیں(اور ہم میں سے کون ہے جو یہ نہ چاہے) کہ ہمارا روزہ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہو، اس کا جو ثواب ہے وہ ہمیں ملے، اور جنت میں ہم اس ‘باب الریان’ سے داخل ہوں جو اللہ نے روزہ داروں کے لیے خاص کیا ہے تو روزے رکھنے بھی ہوں گے، اور روزوں کو ایسا بنانے کی فکر بھی کرنی ہوگی کہ وہ اللہ کی نگاہ میں معتبر ٹھہریں اور اس کی بارگاہ میں قبولیت پاجائیں۔

اپنے روزوں کو اللہ کے یہاں مقبول بنانے کے لیے سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ روزے کی حالت میں گناہوں سے بچا جائے، صحیح بخاری میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے:

‘‘جو روزہ دار زبان سے غلط باتیں کرنا اور (دوسرے اعضا سے) غلط کام کرنا نہ چھوڑے، اللہ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی پروا نہیں’’۔ خدا کی پناہ! کیسا اظہارِ بیزاری ہے!!!

یعنی اگر ہمیں اپنے روزہ کو اللہ کے یہاں مقبول بنانا ہے تو صرف بھوکے پیاسے رہنے پر ہی اکتفا نہیں کرنا ہے، اپنی زبان پر بھی لگام لگانی ہے،جھوٹ، غیبت، بہتان اور ہر طرح کی غلط بات سے زبان کی حفاظت کرنی ہے، اپنے دیگر اعضا کے ذریعہ کیے جانے والے گناہوں کو ترک بھی کرنا ہے، نگاہ کی حفاظت کرنی ہے، ہاتھ ، پاؤں سے بھی کوئی گناہ نہیں کرنا ہے ورنہ ڈر ہے کہ کہیں ہمارا روزہ قیامت کے دن دیوار پے پھینک کے نہ ماردیا جائے، اور ہمارا شمار ان بدنصیب روزہ داروں میں نہ ہو جن کے سلسلے میں سنن نسائی کی ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ‘‘رب صائم ليس له من صيامه إلا الجوع’’ (بہت سے روزہ داروں کو روزہ سے صرف بھوک ہی ملتی ہے)، یعنی ایسے روزہ داروں کے روزے بس ان کو بھوکا پیاسا ہی رکھتے ہیں، نہ اپنے روزوں سے انھیں اللہ کی رضا ملتی ہے، نہ روزہ کا ثواب ملتا ہے۔

آج پہلا روزہ ہے، آئیے عزم کریں کہ ان شاء اللہ اس مرتبہ اپنے روزوں کو ایسا بنانے کی کوشش کریں گے کہ وہ اللہ کے یہاں مقبول ہوں، ہمیں اللہ کی رضا وخوشنودی سے بہرہ ور کریں، اور جنت میں اس باب الریان سے داخل کرائیں جو اللہ نے ان روزہ داروں کے لیے بنایا ہے جن کے روزے اس کے یہاں مقبول ٹھہریں۔ اور کیا خبر کہ ایک مہینے تک گناہوں سے بچنے کی یہ کوشش ہماری ایسی تربیت کردے کہ اپنی بقیہ زندگی ہم گناہوں سے محفوظ گزارسکیں، اور پھر ہم اللہ تعالیٰ کے خاص مقربین میں ہوں۔ اللہ توفیق عطا فرمائے تو یہ کچھ مشکل تو نہیں۔

اور آخری بات یہ کہ گناہوں سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو اچھے کاموں میں مشغول رکھا جائے۔ اللہ ہمیں اچھا رمضان گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین

25/04/2020

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button