دہلیفکر و نظر / مضامین و مقالاتکشن گنجمیگزین

اردو ویب سائٹس اور پورٹل ایک تجزیاتی مطالعہ ( دوسری و آخری قسط ) ✍️ قمر اعظم صدیقی ، بانی و ایڈمن ایس آر میڈیا

قومی ترجمان :

قومی ترجمان بھی ادب کی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ہے۔ ” قومی ترجمان ” پورٹل کا آغاز فروری 2020ء میں تب ہوا جب قومی سطح پر ملک کے با شعور شہری ” سی، اے، اے اور این، آر،سی جیسے کالے قوانین کے خلاف ملک بھر میں دھرنا پردرشن، احتجاج و مظاہرہ کر رہے تھے تبھی ” اسجد راہی” صاحب نے ویب سائٹ کھولنے کے بارے میں سوچا اور اپنے احباب میں اس کا تذکرہ کیا۔ کئی افراد نے حد درجہ حوصلہ افزائی کی ، شاید کرم فرماؤں کی انہی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں قومی ترجمان پورٹل منظرِ پر عام لایا جا سکا۔

در اصل ٢٠٢٠ء میں حکومتی اداروں کے ذریعے جب مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا جانے لگا ” این،آر، سی اور سی، اے، اے” جیسے قوانین نافذ کرنے کی باتیں کی جانے لگیں، جس کے نتیجے میں ملکی سطح پر شہر در شہر احتجاج و مظاہرے ہونے لگے تو اسی وقت اسجد راہی صاحب کے ذہن میں یہ بات آئی کہ، کیوں نہ کوئی ایسا طریقہ کار اپنایا جائے جس سے قوم کی آواز بہتر طریقے سے اٹھائی جا سکے جس سے قوم کی ترجمانی بھی ہو اور رہ نمائی بھی۔ ان ہی سب خیالوں کے درمیان انھیں پورٹل کے نام کو لے کر بےچینی تھی کہ نام کیا رکھا جائے جو جامع ہو اور با معنی بھی ، کئی نام پر غور و فکر کرنے کے بعد بالآخر "قومی ترجمان” کے نام کو تسلیم کر لیا۔

اسجد راہی صاحب نے شروع میں خود ہی پورٹل بنانے کی جانب پیش قدمی کر دی اور تین چار دنوں میں ایک بے ترتیب پورٹل وجود میں بھی آ گیا اور انھوں نے خدمات شروع کر دیں۔ بعد میں چند ایک افراد نے خلوص کے ساتھ دست تعاون دراز کیا اور پھر وہ دن بھی آیا جب ایک خوب صورت ویب پورٹل "قومی ترجمان” qaumitarjuman.com کی شکل میں وجود میں آ گیا۔

شروعات میں انھیں بہت زیادہ پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا تاہم دھیرے دھیرے بہت کچھ سیکھتے گئے اور اب الحمدللہ سب بہتر چل رہا ہے۔قومی ترجمان کو دنیا کے 22 ممالک میں پڑھا جا رہا ہے۔ایک سال بعد ہی ویب سائٹ یا پورٹل سے خوش کن اور مثبت نتائج برآمد ہوئے۔ بقول اسجد راہی اب تک انھیں ویب سائٹ سے زیادہ کچھ حاصل نہیں ہو رہا ہے۔ بس ویب سائٹ، پورٹل کے اخراجات پورے ہو رہے ہیں۔ خدمت سمجھ کر اسے انجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ قومی ترجمان کی جانب سے اپنے کسی بھی ایڈیٹر کو اب تک کچھ بھی نہیں دے رہا ہوں، پھر بھی تمام ایڈیٹر خلوص کے ساتھ خدمت انجام دے رہے ہیں۔ قومی ترجمان میں خدمت انجام دے رہے ایڈیٹر کے نام مندرجہ ذیل ہیں :

اسجد راہی چیف ایڈیٹر کشن گنج مقیم حال مظفرپور ، مولانا نظام الدین ندوی سمستی پور، قاری محمد مصطفی سمستی پور، رفیع ساگر صاحب دربھنگہ، مولانا عبدالرحیم برہولیاوی سرائے ویشالی ، مولانا عین الحق امینی قاسمی ییگوسرائے، قمر اعظم صدیقی حاجی پور ، ویشالی بہار

اسجد راہی صاحب کا ماننا ہے کہ ویب سائٹ یا پورٹل کو پیشہ ورانہ طور پر اپنایا جا سکتا ہے لیکن چیلنجز بے شمار ہو سکتے ہیں۔

پورٹل کی ضرورت و اہمیت کے تعلق سے ان کا نظریہ یہ ہے کہ دور حاضر میں بیشتر چیزوں کو ڈیجیٹل فارم میں لایا جا رہا ہے، برقی اور آن لائن امور انجام دیے جارہے ہیں۔ ہندی، انگریزی ویب سائٹس اور پورٹل کا ایک جال پھیل چکا ہے۔ اردو کا دائرہ کار صرف پرنٹ میڈیا سے محدود ہوتا نظر آرہا ہے، ایسے میں اردو ویب سائٹس اور پورٹل کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے تاکہ دیگر زبانوں کی طرح اردو میں بھی پیغام رسانی سہل ہو اور زبان کا فروغ و ترقی ممکن ہو سکے۔

اسجد راہی چونکہ قومی ترجمان کے بانی بھی ہیں اور چیف اڈیٹر بھی ہیں اس لیے مختصر تعارف ملاحظہ فرمائیں :

آپ کا پورا نام محمد اسجد عالم ،
قلمی نام : اسجد راہی ، والد کا نام محمد مصلح الدین اور آبائی وطن کشن گنج ہے۔ تعلیمی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں :

تکمیل حفظ قرآن و قرات
فارسی تا عربی دوئم (مدرسہ نظامیہ)
مولوی : (درس عالیہ)،
ڈپلومہ ان ایلیمنٹری ایجوکیشن (بی، ایس، ای، بی، پٹنہ)
ٹی , ای , ٹی کوالی فائیڈ (اردو بنگلہ)،
سی ، ٹی ، ای ، ٹی کوالی فائیڈ (سی ، بی ، ایس ، ای ، دہلی ) ،
گریجویشن : مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی حیدرآباد ،
ایم اے : للت نارائن متھلا یونی ورسٹی دربھنگہ (جاری)

مشغولیت : گورمنٹ پرائمری اسکول میں بحیثیت اردو ٹیچر مامور (٢٠١٠-٢٠٢٢)
www.qaumitarjuman.com
Email – [email protected]

یہ بھی پڑھیں

اشتراک ڈاٹ کام :

اشتراک ڈاٹ کام صرف اور صرف اردو قارئین تک صالح ادب پہنچانے کا خواہاں ہے۔ اس کا کسی تحریک سے کسی ازم سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اتنی ساری ادبی ویب سائٹس کے ہوتے ہوئے بھی اشتراک ڈاٹ کام کی ضرورت کیوں پڑی؟ بقول طیب فرقانی ” اردو زبان و ادب کو بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان کی ضرورت نہیں ہے. اس کی پہچان اور اس کی دھوم سارے جہاں میں ہے. لیکن ہر آواز کی شدت و توانائی ایک جیسی نہیں ہوتی. ہر علاقے کی اور وقت کی ضرورت الگ الگ ہے۔

کتنی ہی آوازیں نامانوس علاقوں کی وجہ سے دم توڑ دیتی ہیں. کتنی ہی آوازوں کو وقت کی دھول دبا گئی. اس لیے جب حرکت میں برکت ہے تو برکت سے کیوں محروم رہا جائے۔ادب ایک مشغلہ بھی ہے، اظہار ذات کا ذریعہ بھی اور زندگی کی تنقید بھی۔ صحافت ایک مشغلہ تو ہے لیکن اظہار ذات اور زندگی کی روح سے خالی. اس لیے میرے لکھنے کا سفر جو صحافت اخبار سے شروع ہوا اب اشتراک جیسے ادبی پورٹل تک پہنچا۔”

طیب فرقانی نے کئی مہینے صحافت اخبار کے ایک ہندی رپورٹر کے ساتھ کام کیا۔ وہ ہندی رپورٹ کو اردو میں لکھتے تھے۔ شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وال میگزین کے ایک ٹرم ایڈیٹر بھی رہے ہیں ۔ (٢٠١٠-٢٠١١ء) میں کئی مہینوں تک انھوں نے بصیرت آن لائن کے لیے خبریں بھی لکھیں ہیں۔ اس دوران وہ اتر دیناج پور سے بحیثیت بیورو چیف کام کرتے تھے۔ کئی سالوں سے انھوں نے بلاگ بنا رکھا تھا لیکن ان سب سے مطمئن نہیں تھے اس لیے اگلی منزل کے طور پر انھوں نے اشتراک ڈاٹ کام کو اپنایا اور اس طرح (١٧ اکتوبر ٢٠٢٠ ء) کو سیمانچل کے ادیبوں اور شاعروں کی موجودگی میں اس ویب سائٹ کا اجرا ہوگیا۔ سیمانچل میں اردو ادب کی ماہر اور چنچل شخصیت احسان قاسمی کے ہاتھوں لیپ ٹاپ پہ ماؤس کلک کرکے پہلی بار عوامی طور پر اس ویب سائٹ کو دیکھا بھی گیا۔

اشتراک کے اجرا کے موقع پر ایک ادبی نشست رکھی گئی جس میں علاقے کے معزز شعراے کرام شامل ہوئے۔
اشتراک مسلسل خود کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔اشتراک اپنے سبھی قلم کاروں، ادیبوں، افسانہ نگاروں اور شاعروں کا شکریہ ادا کرتا ہے جنھوں نے اپنا دست تعاون دراز کیا اور اشتراک کو اعتبار بخشا، اسے تسلسل کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا. طیب فرقانی کو اس بات کا احساس ہے کہ یہ ہماری منزل نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مزید محنت کرنی ہے. معیار بلند کرنا ہے اور زبان و املا پہ خاص توجہ دینا ہے. فی الوقت جہاں تک وہ پہنچے ہیں اس منزل تک پہنچانے میں جن خاص لوگوں نے ان کی مدد کی وہ ان کے بھی شکر گزار ہیں۔

چند باتیں ویب سائٹ کے بانی کے تعلق سے :
ان کا اصل نام محمد طیب علی اور قلمی نام طیب فرقانی ہے۔ آپ کی تعلیمی لیاقت ایم فل اردو ہے،
پی ایچ ڈی کا سلسلہ جاری ہے۔
درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کا آبائی وطن جین خرد، مظفرپور، بہار ہے۔

بلاغ ١٨ ڈاٹ کام :

بلاغ ١٨ ڈاٹ کام کے بانی و ایڈیٹر جناب عبدالوہاب قاسمی صاحب ہیں۔ اس ویب سائٹ کو اردو کی ترویج و ترقی کے مقصد سے کھولا گیا ہے جس میں تخلیقات و تنقیدات، ادب کی مختلف اصناف کے ساتھ ساتھ معاصر دنیا کی صورت حال کو ترجیحی طور پر شایع کیا جاتا ہے۔ مثبت اور تعمیری فروغ اس کے منشورات میں شامل ہے۔ عبدالوہاب صاحب نہ صرف نئے قلم کاروں کو جگہ دیتے ہیں بلکہ نئے پرانے تمام قلم کاروں کے لیے ایک خوب صورت ٹائٹل پیج بھی بناتے ہیں جس میں قلم کار کے تعلق سے مختصر خاکہ بھی پیش کیا جاتا ہے۔ کم وقتوں میں اس ویب سائٹ نے ادبی دنیا میں اپنی ایک پہچان بنا لی ہے جس پر بڑے ادیبوں اور قلم کاروں کے بھی مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے بانی عبدالوہاب قاسمی صاحب نے دیوبند سے فراغت کے بعد خود کو درس و تدریس سے منسلک رکھا ہے۔ زمانہ طالب علمی سے ہی ان کے مضامین لکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ابتدا میں انھوں نے کئی دینی اور اصلاحی مضامین لکھے پھر تنقید کی طرف قدم بڑھایا۔ حال ہی میں ” ظفر کمالی کی گیارہ طنزیہ نظمیں: ایک تجزیاتی مطالعہ مع متن” کے نام سے ان کی کتاب منظر عام پر آئی ہے اور ان کی دوسری کتاب بھی زیر ترتیب ہے۔ اس ویب سائٹ کا میل آئی ڈی ہے۔

[email protected]

اردو ویب سائٹس اور پورٹل ایک تجزیاتی مطالعہ ( دوسری و آخری قسط ) ✍️ قمر اعظم صدیقی ، بانی و ایڈمن ایس آر میڈیا urdu website aur portal

ہماری آواز:

اس ویب سائٹ کا نام ہماری آواز ہے جس کے چیف ایڈیٹر محمد شعیب رضا ہیں اور سب ایڈیٹر کی حیثیت سے محمد قمر انجم قادری، اعزازی ایڈیٹر نعیم الدین فیضی ہیں جب کہ مینیجنگ ایڈیٹر نثار احمد نظامی ہیں۔ گوشہ خواتین ایڈیٹر کی ذمہ داری ہما اکبر آفرین نبھا رہی ہیں۔ اس کاویب ایڈریس درج ہے۔

www.hamariaawaz.com

ویب سائٹ ہماری آواز کا خاکہ تو شعیب رضا نے زمانہ طالب علمی ٢٠١٧ء سے ہی ذہن میں بنا رکھا تھا مگر اس وقت ایک دینی مدرسہ میں اس فکر کو وسعت دینا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ فراغت کے تقریباً ڈھائی سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد انھوں نے اس خاکہ کو عملی جامہ پہنانے میں صرف اور صرف اتنا کر پائے کہ گوگل کے زیر اختیار ایک بلاگ بنا کر اس پر نہ چاہتے ہوئے بھی خود کے چند مضامین شایع کر دیے۔ دوسرے لوگ اس سے متعارف بھی نہ تھے اس لیے ان کی تحریریں ان ڈھائی سالوں میں نہیں آپائیں، صرف انہوں نے اپنی فکر کو پروان چڑھایا۔ اسی درمیان انھوں نے اپنی دل چسپی تصنیف و تالیف سے بڑھا لی اور تقریباً درجن بھر کتابیں وجود میں آگئیں جن میں نصف درجن کتابوں کا ایک ساتھ رسم اجرا اپریل ٢٠١٩ء میں ہوا۔ اس دوران شعیب رضا صاحب نے واٹس ایپ پر درس حدیث کے ایک سلسلہ کا آغاز کیا جو کافی مقبول رہا،

عربی متن و سند حدیث، تخریج حدیث، اردو انگریزی ترجمہ، تشریح حدیث نے ایسی مقبولیت دلائی کہ بیک وقت ہندوپاک کے ١٠٠ سے زائد گروپ ایڈمنز نے انھیں اپنے گروپ میں شیئر کرنے کی خواہش ظاہر کی اور یوں علمی اور ادبی دنیا میں ان کا تعارف ہوا. تقریباً ٨٣ قسطوں کے بعد یہ سلسلہ بابری مسجد فیصلہ کے وقت یوں متاثر ہوا کہ انھوں نے ان سب سے اپنا ناطہ توڑ لیا۔ ٣٠ مارچ کو دوبارہ انھوں نے ہماری آواز کو لانچ کرنے کا عزم کیا اور اہل قلم سے اپنے گراں قدر مضامین بھیجنے کی اپیل کی۔ چوں کہ درس حدیث کے سلسلہ اور اخبارات میں نئے نئے اور حالات حاضرہ پر بےباک مضامین لکھنے سے علمی اور ادبی دنیا میں انھیں ایک حد تک شہرت مل چکی تھی اس لیے مضامین آنے شروع ہوگئے۔

مضامین کی اشاعت سے شعیب رضا صاحب کے فکر کو وسعت مل رہی تھی، ارباب لوح و قلم کو ایک نیا پلیٹ فارم مل چکا تھا وہیں نئے قلم کاروں کو اپنی تحریریں شائع کرانے اور قلمی مشق کرنے کا خوب صورت موقع مل چکا تھا، اس لیے سب کچھ اچھے سے چل رہا تھا۔مگر اسی دوران ویب سائٹ کمپنی کی جانب سے دغا بازی کی گئی جس سے سب محنت بےکار ہوگئی۔ خیر انھوں نے نئی امنگ اور جوش کے ساتھ اس بار اپنی ہوسٹنگ خریدی اور نیا ڈومین بھی اور ایک مسلم ویب ڈیزائنر کو تلاش کرکے اس کو ڈیزائن کرنے کے لیے دے دیا۔ ان کی فیس تو کافی تھی مگر ایک مسلم ہونے کی وجہ سے قابل اعتماد تصور کرتے ہوئے انھیں ذمہ داری سونپ دی مگر اس معاملہ میں انھیں اپنی کم علمی کو لے کر یہ فیصلہ لینا پڑا کہ کسی بھی طرح ویب سائٹ ڈیزائننگ کے رموز و اوقاف سے واقفیت حاصل کرنی ہے۔ ان کے ایک مخلص دوست نے انھیں بنیادی باتیں سکھا دی اور جب کبھی ضرورت پڑتی تو ان سے استفادہ کر لیتے الحمدللہ لگن ایسی تھی کہ بہت ہی کم وقت میں ویب ڈیزائننگ میں ماہر تو نہ ہو سکے مگر اچھی جان کاری ہوگئی۔ اور "ہماری آواز” جو اب تک صرف اردو میں تھا اب ہندی زبان میں بھی اپنی خدمات پیش کرنے لگی۔

وقت کے ساتھ لوگ بھی جڑتے گئے اور ایک مختصر سی ٹیم بنا لی۔ ان کے اس کام میں ان کی ہمشیرہ محترمہ ہما آفرین صاحبہ نے کافی وقت دینا شروع کردیا اور اب ہر موڑ پر ان کا ساتھ مسلسل جاری ہے۔ چوں کہ شعیب رضا صاحب ایک دینی(پرائیویٹ)مدرسہ میں ملازم ہیں اس لیے ویب ڈیزائننگ کو خارجی ذریعہ معاش بھی بنانا پڑا. الحمدللہ اب تک ۸ سے ١٠ ویب سائٹ دوسرے لوگوں کے بنا چکے ہیں اور جو دغا بازی ان کے ساتھ ہوئی تھی انھوں نے کسی کے ساتھ ویسا نہیں کیا. اب الحمدللہ ہماری آواز قوم مسلم کی ایک بلند اور مضبوط آواز بنتی جارہی ہے۔

ویب سائٹ کو ذریعہ معاش بنانے کے حوالے سے ان کا تجربہ یہ ہے کہ اس سے آمدنی کا ایک ہی ذریعہ سمجھ میں آتا ہے وہ ہے اشتہار، لیکن اشتہار کے حوالے سے بھی مقامی لوگوں کا رجحان اب اردو میں نہیں رہتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا سے کاروباری لوگوں کو جوڑنا بڑا مشکل ترین امر ہے۔ البتہ گوگل کے شعبہ اشتہار "گوگل ایڈسنس” سے آمدنی کا ایک بہترین ذریعہ ہے جس سے ہماری آواز جیسی نئی ویب سائٹس ٢٠ سے ٣٠ ڈالرز ماہانہ آمدنی کر پا رہی ہے۔ لیکن مستقبل میں اضافہ کے وسیع امکانات ہیں۔

اب مختصراً ویب سائٹ کے بانی کے تعلق سے بھی جان لیں:
ان کا مکمل نام محمد شعیب رضا نظامی فیضی ہے۔ آپ وارڈ نمبر ۱ گولا بازار، ضلع گورکھ پور، یوپی سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ نے فاضل تک کی تعلیم یو پی مدرسہ بورڈ سے کی ہے۔ ابھی دین دیال اپادھیایہ یونی ورسٹی گورکھ پور سے بی۔اے سال اول میں تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔
ذریعہ معاش کے لیے تدریسی خدمات اور ویب ڈیزائننگ کو بخوبی انجام دے رہے ہیں۔

اڑان نیوز:

پورٹل کا نام اڑان نیوز ہے جو اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں بنایا گیا ہے۔ اس کے بانی عبید نظام صاحب ہیں۔ اس کے سرپرست جناب فیصل اقبال عبدالماجد صاحب ہیں اور گروپ ایڈیٹر عبید نظام صاحب، معاون گروپ ایڈیٹر کی حیثیت سے نعمت اللہ ثناء اللہ صاحب ہیں۔ بقول عبید نظام صاحب ویب سائٹ کے نتائج امید کے مطابق نہیں ہوئے لیکن امید کے بالکل برعکس بھی نہیں ہوئے۔ اس کی خاص وجہ یہ رہی کہ سوشل میڈیا اور خاص طور پر فیس بک کے بہت محدود وسائل اور فنڈ کی کمی سے بھی انھیں جوجھنا پڑا جس کی وجہ سے انھیں وہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ انھوں نے پورٹل کی دنیا میں ایک مقام ضرور حاصل کیا ہے۔ ان کے پورٹل پر ہندوستان کے تمام صوبے سے قارئین کرام موجود ہیں۔

انھوں نے روز اول سے ہی خبروں سے زیادہ خیالات، مضامین، افکار کو اہمیت دی اور نئے لکھنے والوں کو جگہ دی جس کا خاطر خواہ نتیجہ بھی نکلا۔
اردو کی ویب سائٹ کے حوالے سے ان کا ماننا ہے کہ اس کو ذریعہ معاش سے جوڑا جا سکتا ہے اور اس کو جوڑنا بھی چاہیے لیکن یہ کام آسان نہیں ہے کیوں کہ اس میں کافی محنت اور صبر سے کام لینا پڑتا ہے۔ اور اردو والوں کا ایک مجموعی مسئلہ یہ ہے کہ ہم محنت سے فرار چاہتے ہیں۔ عبید نظام صاحب کہتے ہیں کہ ویب سائٹ ہمارے لیے ایک بہتر قدم ثابت ہوا اور اس کے ذریعہ سے ہم نے بہت کچھ سیکھا، سمجھا۔ دراصل ویب سائٹ اردو زبان کی خدمت کے لیے بنائی گئی تھی نہ کے ذریعہ معاش کے لیے۔ بلکہ اس کا مقصد تھا صرف اور صرف قوم اور ملت کی خدمت کا ایک جذبہ، جو دینی درس گاہوں میں دلوں میں بیٹھ جاتا ہے۔ زبان کی خدمت اردو زبان کے عام قارئین کرتے ہیں نہ کے ہم جیسے لوگ۔ پھر بھی اگر ہم سے اردو زبان کی کوئی خدمت ہو رہی ہو یا ہماری وجہ سے ایک بھی شخص اردو روزانہ کچھ نہ کچھ پڑھ رہا ہو تو یہ ہماری کامیابی میں شمار کیا جا سکتا ہے۔”
عبید نظام صاحب اپنی ویب سائٹ کے حوالے سے بہت ہی پر امید ہیں اور لگاتار اس کوشش میں ہیں کہ اس کو نئی اونچائی تک پہنچا سکیں، اس کے مقاصد کو حاصل کرسکیں اور ایک منظم شکل میں کام کر سکیں۔

اب مختصراً ویب سائٹ کے بانی کے حوالے سے:
ان کا اصل نام محمد عبید اور قلمی نام عبید نظام ہے۔ ان کے والد کا نام محمد نظام الدین ہے۔ آبائی وطن رام پور اوگن، موتی پور، مظفرپور، بہار ہے۔ ان کی بنیادی تعلیم گاؤں کے مدرسہ” تنظیم العلوم رام پور اوگن” میں ہوئی ہے. اس کے بعد انھوں نے ہندستان کی مشہور و معروف دینی درس گاہ جامعہ امام ابن تیمیہ سے سند فراغت حاصل کی ہے۔

دوران تعلیم بہار اسکول ایگزامنیشن بورڈ پٹنہ سے سنہ ٢٠١١ میں میٹرک (دوسری پوزیشن) اور ٢٠١٣ میں آرٹس سے انٹرمیڈیٹ (پہلی پوزیشن) مکمل کی، ساتھ ہی بہار مدرسہ بورڈ سے ٢٠٠٨ سے وسطانیہ کا امتحان دیکر بتدریج سلسلہ جاری رکھا اور الحمد للہ سنہ ٢٠١٥ میں عالم کی ڈگری بھی حاصل کر لی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بی اے اردو میں داخلہ ہونے اور دو سال پڑھنے کے بعد کچھ مشکلات اور صحت کے مسائل کی وجہ سے پڑھائی ترک کرنی پڑی۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے فاصلاتی نظام تعلیم کے تحت ایم اے اردو بھی مکمل ہو گیا ہے۔ اب ان کی مشغولیت یہ ہے کہ اپنے آبائی گاؤں میں ہی ایک کوچنگ سینٹر چلاتے ہیں، یہی ان کا ذریعہ معاش ہے۔

صدائے وقت:
” صدائے وقت” کے بانی ڈاکٹر شرف الدین اعظمی ہیں۔ ان کا آبائی وطن اعظم گڑھ اتر پردیش ہے۔ آپ نے” بی یو ایم ایم ایس” کی تعلیم اے ایم یو علی گڑھ سے حاصل کی۔ آپ کا اپنا نرسنگ ہوم ہے جس میں آپ میڈیکل پریکٹس کرتے ہیں۔ آپ کو صحافت، سیاست اور سماجی خدمت میں بھی کافی دل چسپی ہے۔ کئی ایک سماجی تنظیموں سے منسلک بھی ہیں۔
صحافت کا شوق شروع سے رہا مگر باقاعدہ طور پر صحافت کی شروعات ٢٠٠٣ء میں کی۔

روزنامہ راشٹریہ سہارا سے منسلک رہ کر ضلع جونپور کی نمائندگی کر رہے تھے، بعد میں اعظم گڑھ یونٹ کے چیف ہیڈ رہے۔ ذمہ داریوں کے بڑھنے اور کمپنی کے ذریعہ اردو والوں کے استحصال کی وجہ سے سہارا کو خیر باد کہہ دیا۔ ٢٠١٩ سے نیوز پورٹل صدائے وقت چلا رہے ہیں۔ انھوں نے روزی روٹی کا ذریعہ اسے نہیں بنایا ہے۔ صرف اردو کی خدمت اور ایسے خیالات جو قوم و ملت کے لیے مفید ہوں اسے عوام تک پہنچانے کی غرض سے یہ ویب سائٹ چلاتے ہیں۔

"صدائے وقت” کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر شرف الدین اعظمی خود ہی ہیں۔ اس میں مقامی، قومی، بین الاقوامی خبریں، ملکی حالات پر تبصرے، سیاسی تجزیے، کھیل کود، اسلامی معلومات، فن و ادب پر مضامین شائع ہوتے ہیں. الحمد اللہ قارئین کی تعداد لاکھوں میں ہے اور تقریباً ۲۲ ملکوں میں کم و بیش قارئین موجود ہیں. پورٹل صدائے وقت انڈونیشیا میں بہت پاپولر ہے. ہندستان کے ہر کونے میں اس کے قارئین مو جود ہیں۔ڈاکٹر شرف الدین صاحب کا ماننا ہے کہ نیوز پورٹل کو روزی روٹی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ اور بہت سے صحافی اس کام میں لگے بھی ہیں۔ سوشل میڈیا آج بہت مضبوط و مقبول پلیٹ فارم ہے۔ اس سے منسلک ہوکر یا اپنی ویب سائٹ بنا کر خود کو بھی اور دوسروں کو بھی روزی روٹی سے جوڑا جا سکتا ہے۔

ساحل آن لائن:
بھٹکل سے چلنے والا یہ ویب سائٹ مینگلور سے لے کر گوا تک قریب چھ سو کیلو میٹر کے ساحلی علاقے میں جہاں بڑی تعداد میں مسلمان آباد ہیں، ان کی رہ نمائی کرتا ہے۔ ان علاقوں کے مسلمانوں کی زبان اُردو ہے مگر اُردو صرف بول چال کی حد تک محدود تھی اور اس علاقہ کے مسلمان مقامی کنڑا اخبارات پر ہی منحصر تھے۔ اور کنڑا اخبارات کے ذریعہ مسلمانوں کا استحصال کرنے کا کام کیا جا رہا تھا، تبھی ویسی صورت میں سنہ ٢٠٠٠ء میں ساحل آن لائن کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اور پھر اس کے ذریعہ مسلمانوں کو جوڑنے کی کامیاب کوشش کی گئی۔ کچھ عرصہ بعد ساحل آن لائن کا انگریزی و کنڑا نیوز پورٹل بھی شروع کیا گیا۔ الحمداللہ ساحلی علاقوں کے مسلم عوام کے لیے آج ساحل آن لائن تحریک کی مانند ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلمانوں میں بھی یہ ویب سائٹ معروف ہے اور ایک معتبر ویب سائٹ کے زمرے میں جانا جاتا ہے۔
اس کا میل آئی ڈی ہے۔
[email protected]
اور اس کا ویب سائٹ ہے۔
http://sahilonline.net

فکر و خبر:
فکر و خبر صرف ایک پورٹل ہی نہیں بلکہ ایک ایسا ادارہ ہے جو آن لائن خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس پورٹل کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں بھٹکل شہر کے علماے کرام موجود ہیں اور ان ہی علما کی سرپرستی میں اردو انگریزی زبان میں یہ پورٹل اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہاں ملکی، عالمی، خلیجی، ساحلی خبروں کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کی تازہ ترین خبریں بھی شائع ہوتی ہیں۔ نیز موجودہ حالات پر تازہ ترین تبصرے اور معلوماتی، فکری، اصلاحی، ادبی، اور تعمیری مضامین بھی شائع ہوتے ہیں۔
"فکرو خبر” کی بنیاد سنہ ٢٠١٢ء میں مولانا سید ہاشم نظام ندوی صاحب نے اپنے رفقا کے ساتھ رکھی تھی جو کہ اس وقت ایڈیٹر ان چیف کے عہدے پر فائز بھی ہیں۔
اس ادارے کے پہلے صدر سابق مہتمم جامعہ اسلامیہ بھٹکل اور سابق امام و خطیب جامع مسجد بھٹکل حضرت مولانا عبد الباری ندوی رحمۃ اللہ علیہ تھے اور اس کے موجودہ صدر مولانا محمد الیاس احمد ندوی ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد صحافت کے ذریعہ سچا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہے اور جدید سے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے دعوتی فرائض انجام دینا ہے، ساتھ ہی ساتھ علماے کرام کو صحافت کے میدان میں لانے کی کوشش بھی ہے جس سے کہ اسلامی معاشرے کا قیام عمل میں آ سکے۔ نیز لوگوں کی دینی ضروریات کے پیش نظر فقہی مسائل، آداب و فضائل، درس قرآن اور ہفتہ واری خصوصی پروگرام سچی بات جیسے پروگرام کا انعقاد کر کے ہر فرد کے موبائل اسکرین تک پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
اس ادارے کا ایک اہم شعبہ فقہ شافعی کا ہے جس کے ذمہ دار مولانا عبد النور ندوی صاحب، مولانا مفتی فیاض احمد برمارے حسینی اور مولانا سید ابراہیم اظہر برماور ندوی ہیں۔

مولانا عبد النور ندوی صاحب جماعت المسلمین بھٹکل کے نائب قاضی دوم کے باوقار عہدے پر فائز ہیں جو وہاں کی مقامی زبان نوائطی میں امچے مسائل (ہمارے مسائل) کے نام سے ایک پروگرام کو کامیابی کے ساتھ چلا رہے ہیں۔
اس ادارے کا یوٹیوب چینل”فکر و خبر” کے نام سے چل رہا ہے اور ادارے سے منسلک علماے کرام ہی ویڈیو نیوز کو تیار کرتے ہیں۔
مولانا عتیق الرحمن ندوی صاحب نیوز شعبہ کے ذمہ دار ہیں اور ان کے معاون مولانا رضوان احمد ندوی صاحب ہیں جو کہ "فکر و خبر” کی ابتدا سے جڑے ہوئے ہیں۔
اس ادارہ کا ایک اور شعبہ "اسلامی افکار” کے نام سے بھی چلایا جاتا ہے جس میں درس قران، درس حدیث، شہر بھٹکل کی جمعہ مساجد کے خطبے اور بیانات، دیگر اہم بیانات، حرمین شریفین کے خطبے اور اس کا اردو ترجمہ، اسلامی افکار، فقہی مسائل، فقہی شافعی مسائل کے سوال و جواب، اہم دینی موضوعات پر مختصر آڈیو، اللہ کی طرف متوجہ کرنے والا رمضان، ایک منٹ کا سبق، مسنون دعائیں اور اوقات الصلاۃ جیسے اہم موضوعات پر مواد موجود ہیں، جو لوگوں کی رہ نمائی کے لیے ہر وقت دستیاب ہے۔ جس کے ذمہ دار جناب فضل الرحمن صاحب ہیں۔

اسٹار نیوز ٹوڈے:
اسٹار نیوز ٹوڈے کی ابتدا سنہ ٢٠١٥ء میں ہوئی۔ اس کے بانی و چیف اڈیٹر محمدنوشاد عثمانی صاحب ہیں، جب کہ نقاش نائطی صاحب ایڈیٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔ ایڈیٹر خواتین و اطفال [کی ذمہ داری] کو بخوبی محترمہ تبسم منظور ناڈکر صاحبہ نبھا رہی ہیں۔ جناب منور حسین خان صاحب بھی اپنی ذمہ داری بحیثیت نائب ایڈیٹر اطفال بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں۔
محمد نوشاد عثمانی صاحب خود صحافی بھی ہیں، پیشے کے اعتبار سے وہ ایک ٹیچر ہیں۔ صحافت ان کا پیشہ نہیں بلکہ مشن ہے۔ صحافت کے میدان میں قدم رکھنے کا ان کا مقصد صرف اور صرف اردو کے لیے کچھ کر سکنے کا جذبہ اور ان نئی نسلوں کے لیے ایک پلیٹ فارم تیار کرنا تھا۔ بقول نوشاد عثمانی صاحب جو اردو داں طبقہ اس میدان میں اپنی قسمت آزمانا چاہتے ہیں مگر اردو والوں کا درد یہ ہے کہ تعاون یا سپورٹ نہیں مل پاتا جس کے باعث یہ پلیٹ فارم دن بدن کمزور ہوتا جا رہا ہے اس لیے انہوں نے ٢٠١٥ میں اپنے ویب سائٹ کی شروعات اردو اور ہندی سے کی تھی اور آج بھی رواں دواں ہے. مگر شدت کے ساتھ نہیں. گرچہ ان سات سالہ سفر میں کسی بھی طرح کا تعاون کسی سے نہیں لیا اور نہ ہی کسی نے دیا ہے۔ ان کے ویب سائٹ کے مضامین کو پڑھنے کے لیے آپ اس لنک پر پڑھ سکتے ہیں۔
www.urdu.starnews.today

آئی این اے نیوز:
آئی این اے نیوز "اتحاد نیوز اعظم گڑھ” کے بانی عاصم طاہر اعظمی قاسمی اور حافظ محمد ثاقب اعظمی ہیں۔ ایڈیٹر کی حیثیت سے عاصم طاہر صاحب خود ہی موجود ہیں۔ انھوں نے دوران طالب علمی ہی سنہ ٢٠١٧ء میں اپنے ہی مضامین کو اشاعت کی غرض سے اس پورٹل کو کھولنے کا ارادہ کیا تھا کیونکہ ان کی خود کی تخلیق کو دوسری جگہ شائع کرانے میں دشواری کا سامنا تھا، تبھی انھوں نے اپنے دوست حافظ محمد ثاقب کے مشورے سے اس پورٹل کا آغاز کیا، جس میں حافظ محمد ثاقب صاحب نیوز کی ذمہ داری کو بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ نیوز کے میڈیا مینیجر کی ذمہ داری علی اشہد اعظمی صاحب کے ہاتھوں میں ہے۔ بہت ہی کم وقت میں ہر عام و خاص میں یہ پورٹل مقبول ہوگیا. اس کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ تمام قلم کاروں کے مضامین کو شائع کرنا، بریکنگ خبروں پر مستعدی سے نظر رکھنا، ان کی اولین ذمہ داری تھی۔ تقریباً تین سالوں تک پورٹل پر خبر و مضامین شیئر ہوتے رہے اور اس طرح قارئین کی تعداد کم از کم چھ لاکھ تک ہو گئی۔ بعد میں پھر انھوں نے نیوز کے لیے باقاعدہ آئی این اے نیوز ڈاٹ لائیو ڈومین لیا، وہی اب تک رواں دواں ہے۔

عاصم طاہر صاحب کے تجربے کے مطابق ویب سائٹ ان کے لیے بہتر قدم ثابت ہوا کیوں کہ الحمد اللہ وہ اپنے مقصد میں حتی الامکان کامیاب رہے۔ شروع میں وہ بحیثیت ایڈیٹر کالم بھی لکھتے تھے اور ملک و بیرون ملک کی مشہور ویب سائٹس، اخبارات میگزین میں پابندی سے کالم شائع بھی کراتے رہے۔
ویب سائٹ محض اردو کی ترویج و اشاعت کی غرض سے چلاتے ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں ویب سائٹ کو ذریعہ معاش سے جوڑا جاسکتا ہے لیکن انھوں نے اپنے ویب سائٹ کو اس مقصد کے لیے کبھی استعمال نہیں کیا۔
عاصم طاہر اعظمی صاحب نے دارالعلوم وقف دیوبند کے شعبہ بحث و تحقیق حجتہ الاسلام اکیڈمی سے مضمون نگاری، مقالہ نویسی کی تعلیم حاصل کی ہے۔

الہلال میڈیا ڈاٹ کام:
الہلال میڈیا ڈاٹ کام کی شروعات ٢٠١٨ء میں کی گئی جس کے بانی و اڈیٹر ہیں جناب مولانا مقصود یمانی صاحب. انھوں نے خود ہی یہ ویب سائٹ ورڈ پریس پر ڈیزائین کیا تھا جس کی خدمت کا سلسلہ اب تک جاری و ساری ہے۔ گوگل کے ذریعہ ایڈ ملنے کے باوجود ماہانہ خاطر خواہ آمدنی انھیں نہیں ہو پاتی ہے۔ بقول بانی "مسئلہ یہ ہے کہ دینی و اسلامی موضوع سے شائع ہونے والے مضامین کو پڑھنے والے کی تعداد بہت کم ہے، برعکس اس کے اگر کوئی فلم یا کسی ہیرو ہیروئین سے جڑی خبر ہو تو ہزاروں لوگ اس کو بڑی دل چسپی و دل جمعی سے پڑھتے ہیں. یہ ہمارے اُردو قارئین کی سچی تصویر ہے۔”
ان کی آمدنی کے ذرائع دوسرے ہیں۔ انھوں نے ویب سائٹ کو صرف خدمت اُردو اور مسلمانوں کے دینی و سیاسی شعور کو بیدار کرنے کی غرض سے بنا یا ہے۔
ان کا اصل نام حافظ مولانا مقصود یمانی اور ان کے والد کا نام احمد یمانی ہے۔ ان کا آبائی وطن ملک پیٹ حیدرآباد، تلنگانہ ہے۔
انھوں نے حفظ کی تکمیل کے بعد حیدرآباد ہی میں دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد سے عالمیت اور مظاہر علوم سہارنپور سے فضیلت کی تکمیل کرنے کے بعد مختلف دینی خدمات انجام دینے میں اپنا وقت لگایا۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی سے گریجویشن کی سند بھی حاصل کی۔ دینی مدارس بورڈ تلنگانہ و آندھرا میں تقریباً ١٤ سال خدمت انجام دینے کے بعد چند سال جمعیۃ علماء ہند سے بھی وابستہ رہے. اس دوران پیشہ صحافت سے بھی تعلق رہا۔

نگارشات:
ویب سائٹ کا نام "نگارشات” ہے اور اس کا قیام اکتوبر ٢٠٢١ میں ہی ہوا ہے. اس کے بانی عبدالرحمن قاسمی ہیں۔ اس سے قبل بلاگ پر خود کی اور دوستوں کی تحریریں شایع کرتے تھے۔ چند ماہ دیوبند میں ویب سائٹ کے تعلق سے علم حاصل کیا اور پھر انھیں خیال آیا کہ بہتر نام کی تجویز کی جائے جس کے ذریعہ ہر نوجوان قلم کار اور میدان صحافت میں کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوسکے، پھر انھوں نے دوستوں کے مشورہ کے بعد”نگارشات” نام تجویز کر لیا. اب الحمداللہ اس پر مضامین شائع بھی ہورہے ہیں۔
ان کا اصل نام عبدالرحمن قاسمی ہے۔ آبائی وطن بشن پوروا مغربی چمپارن بہار ہے۔ انھوں نے گزشتہ سال دارالعلوم وقف دیوبند سے فراغت حاصل کی ہے۔ جامعۃ العلوم دیوبند میں افتا کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کا ذریعہ معاش ابھی کچھ نہیں ہے۔
شروع شروع میں انھیں بہت سارے احباب کے غلط تبصرے کو سننا پڑا۔ ویب سائٹ کے ذریعہ معاش کے تعلق سے ان کا نظریہ ہے کہ گوگل سے اپروول ہونے کے بعد اور اشتہارات کے ذریعہ کچھ معاش کی امید بھی کی جاسکتی ہے۔
اس پر شائع مضامین اس لنک پر پڑھے جا سکتے ہیں۔
www.negarishat.com

حراء آن لائن:
حراء آن لائن محض ویب سائٹ ہی نہیں بلکہ ایک پلیٹ فارم بھی ہے جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے۔ خصوصاً نئے قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شایع کرکے ان کو حوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے۔
ویسے مضامین اور تبصروں و تجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کا خطرہ ہو۔ اس کے ایڈیٹر ہیں جناب اسجد حسن بن قاضی محمد حسن ندوی صاحب۔ ابھی یہ دارالعلوم ندوہ العلماء لکھنؤ کے طالب علم ہیں۔ انھوں نے اس ویب سائٹ کا آغاز تقریباً ایک سال قبل لاک ڈاؤن کے درمیان اپنی ہی تخلیقات و انتخابات کو شائع کرنے کی غرض سے کیا تھا لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد اس ویب سائٹ کو عام کردیا. اس کے بعد سے مسلسل کام جاری ہے۔ تقریباً پانچ سو مضامین مختلف موضوعات پر شائع ہو چکی ہیں۔ اس ویب سائٹ سے فی الحال معاش کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف نئے قلم کاروں کو ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کرنا اور اردو صحافت میں خدمت انجام دینا مقصود ہے۔ اس ویب سائٹ کے مضامین آپ اس لنک پر پڑھ سکتے ہیں۔
www.hiraonline.in

الرضا نیٹ ورک:
الرضا نیٹ ورک کی شروعات ٢٠٢٠ء میں لاک ڈاؤن کے زمانے میں ہوئی ہے۔ اس کے بانی و ایڈیٹر احمد رضا صابری صاحب ہیں۔ اس ویب سائٹ کو انھوں نے خود ہی ڈیزائن کیا ہے، کیونکہ تھوڑی بہت معلومات اس فیلڈ میں رکھتے تھے، مزید تھوڑی بہت دشواریوں کا سامنا ہوا تو اپنے دوست احباب سے استفادہ کیا اور کچھ چیزیں یوٹیوب کے ذریعے ہھ سیکھیں. اس کے بعد اس پر مضامین ڈالنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ انھوں نے اسے ذریعۂ معاش کے لیے نہیں بلکہ اردو و دینی علوم کی خدمت کی غرض سے کھولا ہے۔ رفتہ رفتہ ویب سائٹ کی مقبولیت بھی بڑھتی گئی اور گوگل کے ذریعہ کچھ رقم بھی ملنے لگی۔ احمد رضا صابری صاحب کا ماننا ہے کہ اگر بہتر طریقے سے اس کام کو کیا جائے اور پورا پورا وقت اس میں دیا جائے تو اس سے معقول آمدنی بھی کی جاسکتی ہے۔ احمد رضا صابری صاحب نے جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے فضیلت و قرأت تک کی تعلیم حاصل کی ہے۔ اس کے بعد ایم اے و ماس کمیونیکیشن جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی سے مکمل کیا۔ ان کا ذریعہ معاش گرافکس ڈیزائننگ اور کتاب کی اشاعت ہے جو کہ سبزی باغ پٹنہ میں موجود ہے۔ ان کا ویب سائٹ ایڈریس ہے۔


www.alrazanetwork.com
اوپر کے سارے ویب سائٹس، پورٹل کے تعلق سے مجھے جو بھی معلومات دستیاب ہوئیں میں نے ایمان دارانہ طور پر ان سب کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ جن لوگوں کی جیسی تفصیل آئی اسی کے مطابق ان کا ذکر کیا ہے۔ بہت سارے لوگوں نے بہت ساری معلومات کو بتانے سے گریز بھی کیا ہے۔ حالانکہ اس کام میں مجھے بہت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی کئی بار اصرار کے باوجود بہت لوگوں نے تفصیل نہیں بھیجی۔ تو کچھ نے مختصراً بھیجا۔ چند لوگوں کے تلخ سوالوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اتنی تفصیل کیوں لے رہے ہیں، ویب سائٹ بند کروانے کا ارادہ ہے کیا؟ کچھ نے یہ بھی کہا کہ آپ کو دوسروں کے ویب سائٹ کی تفصیل کی ضرورت کیا ہے؟ ان تمام اعتراضات کو میں نے نظر انداز کرنا ہی بہتر سمجھا۔ اگر میں تھوڑا بھی ان سب سوالوں اور اعتراضات پر کبیدہ خاطر ہوتا تو میرا یہ مضمون مکمل نہیں ہو پاتا۔ چند ویب سائٹ جس کی کوئی تفصیل میرے پاس نہیں آ سکی یا ان کے بانی و ایڈیٹر نے تفصیل دینے سے گریز کیا ان کے نام کا بھی ذکر کردینا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ اردو کی خدمت میں ان کا نام بھی شامل ہوجائے۔ ویسے ہی ناموں کا ذکر ملاحظہ فرمائیں: ہندوستان اردو ٹائمز، اردو دنیا، پیغام میڈیا، عصر حاضر، ترجمان ملت، آواز نیوز، جی این کے اردو، مشرقی آواز ، الرشید میڈیا، اسلامک میڈیا، اس کے علاوہ بھی بہت سارے اردو ویب سائٹ ہوں گے جن کا مجھے علم نہیں ہے۔
ویب سائٹ کے نام ، موبائل نمبر اور میل آئی ڈی کی فہرست نیچے درج ہے :
👈ویب سائٹس و پورٹل کے ای میل پتے :

ایس آر میڈیا
9167679924
[email protected]

بصیرت آن لائن
9525475541
[email protected]

ملت ٹائمز
8802175924
[email protected]

مضامین ڈاٹ کام
9873019320
[email protected]

قندیل آن لائن
9871523432
[email protected]

ادبی میراث
9718951750
[email protected]

دی سورس بھارت
9454526194
[email protected]

قومی ترجمان
9934717816
[email protected]

اشتراک ڈاٹ کام
6294338044
[email protected]

بلاغ ١٨ ڈاٹ کام
7631677978
[email protected]

ہماری آواز
6388037123
[email protected]

ساحل آن لائن
9886702693
[email protected]

صدائے وقت
9415315155
[email protected]

اسٹار نیوز ٹوڈے
8010656980
[email protected]

حراء آن لائن
9519856616
[email protected]

نگارشات
8791519573
qasmiabdurrahmana7gmail.com

جہازی میڈیا
9891737350
[email protected]

الہلال میڈیا
9848013781
[email protected]

آئ این اے نیوز
7860601001
[email protected]

اڑان نیوز
7462884092
[email protected]

العزیز میڈیا سروس
9308426298
[email protected]

بسمل جی اردو میں
8294170464
[email protected]

الرضا نیٹ ورک
8521889323
[email protected]

فکر و خبر
9916131111
[email protected]

👈( بشکریہ : صحافت دو صدی کا احتساب ١٨٢٢-٢٠٢٢)

یہ بھی پڑھ سکتے

قومی ترجمان کا ٹیلیگرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں کلک کریں!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button