اہم خبریںجرائم و حادثاتگجرات

سورت کی سڑک پر نوپور شرما کا پوسٹر: بی جے پی کے معطل ترجمان کی تصویر پر کراس اور جوتے کے نشان ، گرفتاری کا مطالبہ

پیغمبر اسلام پر متنازعہ تبصرہ کرنے والی بی جے پی کی معطل لیڈر نوپور شرما کے پمفلٹ سورت کی سڑک پر لگا دیے گئے ہیں۔ شہر کے جیلانی پل کی سڑک پر نوپور کے پوسٹر پر جوتوں کے نشانات بھی بنائے گئے ہیں۔ نوپور کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پل پر ایسے پمفلٹ کیوں اور کس نے لگوائے، فی الحال اس کا انکشاف نہیں ہو سکا ہے۔

بی جے پی کی ترجمان کے طور پر نوپور شرما نے ایک ٹی وی مباحثے میں پیغمبر اسلام پر متنازعہ تبصرہ کیا۔ اس کے بعد بی جے پی نے انہیں 6 سال کے لیے پارٹی سے معطل کر دیا۔ بی جے پی نے کہا کہ ہم تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔ ساتھ ہی پارٹی نے بھی ان کے بیان سے خود کو الگ کر لیا تھا۔ اس کے بعد نوپور نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرکے معافی مانگ لی ہے ۔

بی جے پی نے نوپور کے بیان سے خود کو الگ کر لیا تھا۔5 جون کو بی جے پی نے نوپور شرما کو پارٹی سے معطل کر دیا تھا۔ معطلی سے قبل بی جے پی کے جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے ایک خط جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان کی ہزاروں سال کی تاریخ میں ہر مذہب نے ترقی کی ہے۔ بی جے پی کسی بھی مذہب کے کسی بھی مذہبی شخص کی توہین کی سخت مذمت کرتی ہے۔ پارٹی اس نظریے کے سخت خلاف ہے جو کسی بھی فرقے یا مذہب کی توہین کرتا ہو۔ بی جے پی ایسے کسی نظریے کا پرچار نہیں کرتی ہے۔

ہنگامہ آرائی کے بعد نوپور نے بیان واپس لے لیا

نپور شرما

نوپور شرما نے بی جے پی سے معطل ہونے کے بعد اپنا بیان واپس لے لیا۔ انہوں نے کہا تھا” ٹی وی ڈیبیٹ میں میرے بھگوان کے خلاف متنازعہ الفاظ بولے جا رہے تھے جو میں برداشت نہیں کر سکتی تھی اس غصے میں میں نے کوئی قابل اعتراض بات کہی۔ میرا مقصد کسی کو تکلیف دینا نہیں تھا۔ میں اپنے الفاظ واپس لیتی ہوں” ۔ مکمل خبر یہاں پڑھیں..

پیغمبر پر کئے گئے تھے قابل اعتراض تبصرے

نوپور شرما نے گیانواپی پر بحث کے دوران پیغمبر اسلام پر قابل اعتراض تبصرہ کیا۔ اس تبصرہ کے بعد ان کے خلاف مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی نوپور نے دہلی پولیس میں عصمت دری اور قتل کی دھمکیوں کی شکایت درج کرائی ہے۔

نوپور شرما

نوپور کے بیان پر بین الاقوامی ہنگامہ

نوپور شرما کے بیان پر بین الاقوامی ہنگامہ ہوا۔ کویت، افغانستان سمیت کئی مسلم ممالک نے اس بیان پر اعتراض کیا۔ اسی دوران مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی نے ایک بیان جاری کر کے بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کا الزام لگایا۔ تاہم بھارتی حکومت نے او آئی سی کے بیان کو مسترد کر دیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button