اہم خبریںبین ریاستی خبریں

حکومت کا سخت قدم، راشن کارڈ کی فہرست سے 4 لاکھ لوگوں کے کٹیں گے نام ، چیک کر لیجیے فہرست میں اپنا نام

  • ملک میں لاکھوں ایسے لوگ ہیں جن کے نام راشن کارڈ کی فہرست سے نکال دیے گئے ہیں
  • کچھ لوگ اصول توڑ کر اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت ایسے تمام لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے جا رہی ہے۔
  • دراصل ایسے تمام لوگوں کے نام راشن کارڈ کی فہرست سے نکالے جا رہے ہیں۔

بہار :19 جنوری (قومی ترجمان) حالیہ دنوں میں راشن کارڈ پورے ملک میں ہم سب کے لیے ایک اہم دستاویز بن گیا ہے۔ یوں تو مرکزی حکومت کی جانب سے عام لوگوں کو راشن کارڈ پر بہت سی خصوصی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں لیکن ملک میں کئی ایسے لوگ ہیں جن کے نام راشن کارڈ کی فہرست سے نکال دیے گئے ہیں۔ اس لیے اگر آپ کے پاس بھی راشن کارڈ ہے تو فہرست کو جلدی سے چیک کریں کہ کہیں آپ کا نام راشن کارڈ کی فہرست سے تو نہیں کاٹا گیا ہے۔

جانکاری کے لیے آپ کو بتاتے چلیں کہ ملک میں کئی ایسے نااہل لوگ ہیں جو راشن کارڈ کا فائدہ حاصل کر رہے ہیں یا کہیں تو وہ اصول توڑ کر اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت ایسے تمام لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے جا رہی ہے۔ دراصل ایسے تمام لوگوں کے نام راشن کارڈ کی فہرست سے نکالے جا رہے ہیں۔حکومت کی جانب سے ان تمام لوگوں کے راشن کارڈ منسوخ کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ ایسے لوگوں کے راشن کارڈ پر کسی بھی سرکاری اسکیم کا فائدہ نہیں دیا جائے گا۔

تاہم دہلی کے بعد اب جھارکھنڈ میں بھی ایسے 4 لاکھ لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں تو وہ راشن کارڈ کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ NFSA سے موصولہ اطلاع کے مطابق، اگر کوئی راشن کارڈ ہولڈر لگاتار 4 ماہ تک اپنا راشن نہیں لے رہا ہے تو اس کے نام کا راشن کارڈ منسوخ کر دیا جائے گا۔

چیک کرنے کے نیچے دئے گئے لنک پر جائیں! آپ اپنی ریاست کے ٹول فری نمبر نیشنل فوڈ سیکیورٹی پورٹل https://nfsa.gov.in/portal/State_UT_Toll_Free_AA کے اس لنک پر جا کر ریاست کے تمام نمبر حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ جس ریاست میں رہتے ہیں اس کے مطابق وہاں کے قوانین کے مطابق آپ اپنا راشن کارڈ آن لائن کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔

اس کے لیے اپنی ریاست کے فوڈ پورٹل یا ویب سائٹ پر جائیں اور اس عمل کو مکمل کریں۔ یہاں آپ کو تمام ضروری معلومات بھرنی ہوں گی۔ اس کے بعد آپ کا راشن کارڈ بن جائے گا۔ (اس مضمون میں استعمال شدہ تصویر علامتی ہے۔)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button