افسانہ / غزل / نظم / نعتیہ کلام

اجالوں کاسفر ام ہشام (ممبئی)

رب نے یہ زندگی دی ہے اور اسے بہر صورت کسی بھی حال میں جینا ہی ہے،اب چاہے یہ زندگی خوشحالی کے نخلستان میں پڑاؤ ڈال لے یا دکھوں کے صحرا میں غموں کی لازوال داستاں رقم کرے،زندگی تو ہر صورت گزارنی ہے،لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ہم نے رب کائنات کی اس عظیم نعمت کو کیسے گزارا؟کیا ساری زندگی ہم نے روتے دھوتے،اللہ کی ناشکری کرتے ہوئے گزار دی یا پھر اللہ کبھی اللہ کی آزمائشوں پر صبر بھی کیا؟کیا اس کی ذات کامل پر اپنا بھروسہ بنائے رکھا؟اس کی نعمتوں اور راحتوں کا انتظار کیا؟یہ وہ اہم سوال ہیں جو ہمیں اپنے آپ سے کرنے چاہئے!آپ جو ہمیشہ غموں کی وزنی سل کو اپنے سینے پر اٹھائے پھر رہے ہیں،کیا یہ درست ہے!!اپنے اس رویہ سے مصائب و آلام کی اس تند رو آندھی میں آپ کیا کچھ گنوا بیٹھیں گے،اس کا آپ کو احساس تک نہیں ہے!!
احساس کریئے! آپ کو کرنا ہوگا کیونکہ آپ کی زندگی اس رب کی امانت ہے جس نے آپ کو پیدا کیا اس پر آپ کی من مرضیاں اسے تباہی کی طرف لے جانے والی ہونگی،تخلیق کرنے والے نے تو آپ کو ایک بہترین سانچے میں ڈھالا،گوشت پوشت سے استخوانی ڈھانچہ کو جاذب نظر بنایا،پھر سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں دے کر خود مختار کردیا۔اب یہ آپ منحصر ہے کہ آپ ساری زندگی چھوٹی چھوٹی باتوں پر شکوہ کناں اور غموں سے نڈھال رہتے ہیں یا پھر صابر و شاکر،قناعت پسند بن کر اللہ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں،فیصلہ آپ پرہے۔

آج کے اس تناؤ بھری زندگی میں 70/فیصد لوگ مذکورہ کیفیت کا شکار ہیں،اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اسکیفیت سے باہر بھی آنا نہیں چاہتے،کبھی اپنی مرضٰ سے اور کبھی صحیح رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے،کبھی ایسے لوگوں کا ساتھ انہیں ان کے دکھ سے باہر آنے ہی نہیں دیتا جو ہمیشہ دوسروں کو شکوک و شبہات میں گھرا دیکھنا پسند کرتے ہیں یا جن کے افکار و نظریات منفی ہوتے ہیں،سب سے پہلے ایسے لوگوں سے دوری بنانی چاہئے۔آہئے خوش رہنے کے کچھ گر سیکھتے ہیں۔
خود سے محبت کیجئے:ضرورت ہے کہ آپ اس بات پر غور کرنا شروع کریں کہ زندگی میں سب سے اہم چیز کیا ہے،آپ کی تمام تر ترجیحات میں سب سے کیا چیز ہے،ممکن ہے کہ آپ کی لسٹ میں آپ کے ذاتی فلیٹ،کار،فارم ہاؤس،زیورات،اعلیٰ تعلیم جیسی چیزیں شامل کی ہوں یا پھر آپ ان سب سے آگے بڑھ گئے تو اولاد کے مستقبل کا کوئی سنہرا سا پلان۔ لیکن ان تمام چیزوں میں جس اہم چیز کو آُ نے نظر انداز کردای وہ ہے آپ کی ذات،جی ہاں!!دنیا میں بحیثیت انسان آپ اپنے آپ میں ہی اس معاشرہ کے لئے ایک اہم فرد ہیں خواہ آپ کو اس کا احساس ہو یا نہ ہو،آپ نے ہمیشہ اپنے آپ پر دوسری چیزوں کو ترجیح دی ہے،اس غفلت کا نتیجہ کیا نکلا!!بہت ہی کم مدت میں آپ اپنی زندگی سے بیزار ہوگئے،زندگی کے معمولی سے غم آپ کو غموں کا پہاڑ لگنے لگے،آپ کے کام کرنے کی رفتار مدھم پڑگئی۔
اپنے آپ کو اہمیت دینا ہے باقی تمام چیزوں کو ثانوی حیثیت دے کر، اپنے آپ کو پہچانئے!!!اپنے آپ پر غور کرئیے،آپ کو یہ زندگی کیوں عطا کی گئی،آپ کے ہونے کا کیا مقصد ہے؟ کوشش کیجئے اپنے مقصد کو سمجھنے کے لئے،اسے جینے سے پہلے اس کے مقصد کا تعین کیجئے،اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بندوں کی تخلیق کے متعلق نہایت صاف بات بتلائی ”و ما خلقنا السماء و الارض و ما بینھما لٰعبین“(انبیاء 16)یعنیاور ہم نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث نہیں بنائے۔

دوسرے مقام پر فرمایا ”لو اردنا ان نتخذ لھوا لاتخذنہ من لدنا ان کنا فٰعلین“یعنی اگر ہم کوئی بہلاوا اختیار کرنا چاہتے تو اپنے پاس سے اختیار کرتے اگر ہمیں کرنا ہوتا (انبیاء 17)۔
یہ زندگی صرف ایک بار ملی ہے اور اگر اسے ہم شکوک و شبہات کی نذر کردیا تو کیا یہ ہمیں دوبارہ حاصل ہو پائے گی،زندگی کو اس کے عطا کرنے والے کی منشاء کے مطابق زندگی گزارویہ زندگی کبھی بوجھ نہیں لگے گی،اللہ تعالیٰ نے اسی لئے اپنے بندوں سے فرمایا ”فلا تظلموا فیھن انفسھن“گرچہ آیت کریمہ کا ٹکڑا مخصوص مہینوں کو لیکر ہے لیکن مفسرین نے اس کی تفسیر یہی بات بتلائی کہ بندہ مومن خود کو گناہوں سے بچائے اور اپنی نفس سے محبت کرے، اس کا گناہوں سے باز رہنا ہی خود کی جان پر رحم کرنے کے موافق ہے،لیکن یہ ہماری غفلت اور کوتاہی ہے کہ ہمارے دنیا جہاں کی باتیں سوچنے اور کرنے کا پورا موقع ہوتا ہے،صرف ہمارے پاس خود کے لئے وقت نہیں ہوتا،دکھوں سے باہر نکلنا ہے تو پہلے خود سے پیر کیجئے،زندگی خو دبخود سہل لگنے لگے گی اور اسے جینا آسان معلوم ہوگا۔دوسروں سے توقعات کم رکھیں۔
ہمارے زیادہ تر معاملے رشتے خراب ہونے سے بگڑتے ہیں،اور یہ تب ہوتا ہے جب ہم لوگوں سے بیجا امیدیں باندھنا شروع کرتے ہیں،زندگی میں یوں تو ہم سب ایک دوسرے کی ضرورت ہیں لیکن اس ضرورت کا دائرہ آگے جا کر سمٹ جاتا ہے، جس کے آگے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کامل ہے اور ہم سب اس کے فقیر،انسانون سے ان کی استطاعت اور طاقت سے کی امید کرنا بیکار ہے، کیونکہ ہر انسان کمزور ہے،یہ ہمارا عمومی رویہ ہے کہ کسی کی طرف سے بہت اچھا اسپانس ملنے کے بعد ہم ہمیشہ اس سے یہ توقع باندھتے ہیں کہ وہ یونہی ہنہ وقت ہماری مدد کو آپہنچے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں ہم اس سے متنفر ہونے لگتے ہیں کہ اس انسان نے شروع شروع تو بہت تعاون کیا لیکن اب دیکھو!! یہاں ٹھہر کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی ہم صحٰح کر رہے ہیں؟ایک بات یہ سمجھ لیں کہ ہمارا سب سے اچھا دوست اور سب سے بڑا دشمن ہمارے اندر ہی ہے، اس لئے ہمیشہ دوسروں سے گلے شکوے کرکے رشتوں کو گنجلک اور پیچیدہ بنانے کی بجائے مفاہمت سے کام لینا چاہئے۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو طول دیکر رشتوں اکا حترام اور زندگی کاسکوں نہ گنوائیں بلکہ دلوں میں وسعت پیدا کرکے زندگی کو ہلکا پھلکا بنانے کی کوشش کریں،توکل صرف اللہ کی ذات پر ہی رکھیں جس کی ذات ہمیشہ سب کی مدد گار رہی ہے،جو آگے اور پیچھے کی تما برائیوں اور بھلائیوں سے واقف ہے،جو روز اول سے سبھی کو اپنے خزانے سے تقسیم کرتا چلا آیا ہے،اور آض تک اس کے خزانے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے،جیسا کہ رب کریم فرماتا ہے ”یا ایھا الناس انتم الفقراء الیٰ اللہ و ھو الغنی الحمید“ بندوں میں سے خواہ کوئی کتنابھی قریب ہو اسے انسان ہی سمجھیں فرشتگی کی توقعات نہ پالیں،ان کی کمی کوتاہی پر رنج و غم غصہ نہ پالیں۔
وسوسوں سے دور رہیں: رنج و غم اور فکر کی ایک بڑی وجہ صرف خدشات اور وسوسے ہوتے ہیں،انسان بلاوجہ ہی مختلف قسم کے اوہام میں گھرا ہوتا ہے،بعض دفعہ اسے لگتا ہے کہ لوگ اس کے خلاف پلاننگ کر رہے ہیں،کبھی اسے لگتا ہے کہ لوگ متحدہ طور پر اسے نیچا دکھانے کے لئے سازشیں کر رہے ہیں،کبھی اسے ایسا لگتا ہے کہ کوئی اس کے جان و مال کے پیچھے پڑا ہوا ہے،بغیر کسی ثبوت کے، بغیر کسی ٹھوس وجہ سے بس یونہی،ایسے انسان کے دماغ میں الٹے سیدھے مفروضے رقص کرتے ہیں اور اسے ڈپریشن کا مریض بنا دیتے ہیں،در اصل یہ بہت خطرناک بیماری ہے اس کا تدارک یہی ہے کہ جلد سے جلد اس سچویشن سے باہر آنے کی کوشش کی جائے،اللہ سے لو لگائی جائے،لوگوں سے حسن ظن رکھا جائے بلاوجہ توہمات کو اپنے دل میں جگہ نہ دی جائے،اللہ نے اسی کے لئے بندوں کوخدشات اور بد ظنی سے دور رہنے کی تنبیہہ و تاکید کی ”یا ایھا الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم“(الحجرات:12) اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو،بیشک کوئی گمان گناہ ہو جاتا ہے۔گناہ کے ساتھ بعض خدشات بالکل بے بنیاد ہوتے ہیں اس لئے محض گمان اور خیال پر اپنی بیش قیمت زندگی کی بنیاد نہ رکھیں،قضاء و قدر سے اللہ نے ہر چیزمقرر کر رکھی ہے،اس لئے ذہن سے یہ ساری باتیں جھٹک کر ایک صحتمند زندگی کا آغاز کیجئے۔

اچھی صحبت کا انتخاب کریں:حزن و ملال کی کیفیت سے نکلنے میں یہ بھی ایک مؤثر طریقہ ہے کہ خود کو ایسے لوگوں سے دور کرلیا جائے جو Negativityکا شکار ہوں،ایسے لوگ مزید آپ کے حوصلوں کو پست کریں گے،یا پھر ایسے لوگ جو بہت زیادہ دنیا دار یا ہر وقت ننانوے کے چکر میں رہتے ہوں،ان کی صحبت آپ کو مزید لالچ،غم و غصہ کی طرف لیجائے گی اور صبر و شکر کی بجائے آپ لوگوں پر منحصر ہو جائیں گے۔

مفید باتیں سوچئے: نیک لوگوں کی صحبت اپنائیے،با مقصد اور تعمیری ذہن کے لوگوں کا انتخاب کیجئے جو صاحؓ فکر ہوں امت کا درد سینے میں رکھتے ہوں اور اللہ پر بھروسہ کرنے والے ہوں اور ایمان و یقین کی دولت سے مالا مال ہوں۔
صبر و دعا سے کام لیں: ہر مصیبت کے وقت یہ نہ بھولیں کہ ”ان مع العسر یسرا“ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے،ہر تکلیف کے پیچھے کوئی حکمت ہے،ہر مشکل کے پیچھے کوئی نہ کوئی آسانی ہے،مرض کے ساتھ دوا بھی ہے،ہر تکلیف پر صبر چاہئے،بس ضرورت ہے اپنییقین کو بنائے رکھنے کی،لوگوں کے حالات سے عبرت حاصل کریں جنھیں مصائب و آلام کا سامنا ہوا،ان میں سے شاکر لوگوں کی زندگی کو دیکھیں،اور ناشکرے لوگوں کی زندگی کا معائنہ کریں کہ کون زیادہ خوشحال ہے؟بالیقین وہی لوگ جو شاکر و صابر ہوں گے۔اس قبیل میں اللہ کا جامع بیان ہے ”و لقد مکنٰکم فی اارض و جعلنا لکم فیھا معٰیش قلیلاً ما تشکرون“اور بیشک ہم نے تمہیں زمین میں جاؤ(ٹھکانا)دیا اور تمہارے لئے اس میں زندگی کے اسباب بنائے،بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔فضل بن عیاض ؒ اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ ”سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبیٰ الدار“(الرعد:24)کہ اللہ نے صابرین کو جو سلامتی اور بہترین ٹھکانے کی بشارت سنائی وہ اس بنیاد پر سنائی کہ انہوں نے اوامر پر بھی صبر کیا اور نواہی پر بھی صبر کیا۔

صبر کا معنیٰ صرف استسلام نہیں ہے جیسا کہ سمجھ لیا گیا ہے،بلکہ ذات باری پر یقین رکھتے ہوئے دعا کرنا اور اپنی حالت کو بدلنے کی دعا کرنا اور اس کی خاطر جائز اسباب اختیار کرنا مطلوب اور مستحسن ہے۔لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور ان سے بیجا امیدیں قائم کرکے خود کو زخمی کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ انسان تنہائی میں اپنی ساریمصیبتیں،ساری تکلیف گڑ گڑا کر اپنے رب کے سامنے رکھے،جو ہر آن،ہر لمحہ آپ کی مدد کو تیار ہوتا ہے،جو کسی بھی مصیبت زدہ کی مدد سے نہیں تھکتا،اپنا معاملہ اللہ کے سامنے رکھیں اور دعا کی قبولیت پر صبر و استقلال کا مظاہرہ کریں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے پکاریں،آواز دیں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں وہ طریقہ سجھائے،ہدایت و توفیق سے نوازے،جس سے ہم اپنی انمول زندگی کو ضائع ہونے سے بچا سکیں،ذکر و استغفار کے ذریعہ زندگی کو نئی سمت دیں،کیونکہ علماء کرام فرماتے ہیں کہ غم ایک ایسی کیفیت ہوتی ہے جس میں بندہ اللہ کے فیصلے پر راضٰ نہیں ہوتا،اس لئے اس حال میں نبی کریم ﷺ نے کثرت سے اس دعا کے التزام کی ہدایت فرمائی ”اللھم انی اعوذبک من الھم و الحزن،و العجز و الکسل،و البخل و الجبن،وضلع الدین،و غلبۃ الرجال۔آمین (صحیح بخاری:کتاب الدعوات،باب الاستعارۃ من الجبن و الکسل)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button