Uncategorized

عیدی ( افسانہ) 🖊️ظفر امام

نبیل پہلے ہی دن سے گھر میں بیٹی کے وجود کا قائل نہیں تھا،بیٹی کے نام اور اس کے خد و خال سے اسے خدا واسطے کا بیر تھا،بیٹی کے وجود کو وہ اپنے لئے باعثِ عار اور لائقِ ندامت سمجھتا تھا۔

نئی نویلی اور سجی سنوری دلہن لبنیٰ نبیل جب سلمی ستارے سے مزین جارجٹ کی ساڑی میں ملبوس اور سِلک سے بنے دوپٹہ میں محجوب حجلۂ عروسی میں سہمی سمٹی بیٹھی تھی اور دروازے پر ہلکی سی دستک کی آواز پر اس نے آنکھیں اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا تھا، تو اس نے واضح طور پر محسوس کیا تھا کہ نبیل کے چہرے پر مسرت و شادمانی کی لکیروں کے بجائے خفگی اور ناگواری کی لکیریں رقص کناں ہیں،اس کی رفتار و بہوار سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ حجلۂ عروسی نہ آکر ماتم خانہ پہونچ گیا ہو،لبنی کو دیکھ کر نہ تو نبیل نے کسی طرح کی کوئی اپنائیت کا مظاہرہ کیا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی رومان انگیز اور ماحول فزا گفتگو کی، اگر کوئی گفتگو کی تو بس یہی کہ ” میں نے تم سے شادی اس لئے کی ہے کہ تم میرے ایک بیٹے کی ماں بن سکو، اور سنو کبھی بیٹی پیدا کرنے کی غلطی نہ کر بیٹھنا، ورنہ پچھتاوا تمہارا مقدر ہوگا،جاؤ اب چینج کرلو اور سوجاؤ! اور ہاں مجھے نور کے تڑکے جگا دینا،ڈیوٹی پر جانا ہے“ اتنا کہہ کر نبیل شب خوابی کے کپڑے پہن کر دوسری کروٹ سو گیا اور لبنیٰ جس نے زندگی کی حسین تعبیر اس رات کو پانے کے لئے اپنے دل میں برسوں سپنے سنجوئے تھے ایک دم سے بجھ کے رہ گئی۔

وقت کو گزرتے وقت نہیں لگتا، وقت چاہے تلخیوں بھرا ہو یا خوشیوں سے پُر وہ تو بہرحال گزر ہی جاتا ہے،وقت کی سوئی نہ کسی مسافر کا انتظار کرتی ہے اور نہ ہی کسی درد زدہ کے لئے ٹھہرتی ہے،وہ گزرنے والی چیز ہے گزر ہی جاتا ہے،دیکھتے ہی دیکھتے نبیل اور لبنیٰ کو رشتۂ ازدواج سے منسلک ہوئے ایک سال ہوگئے۔

ایک سال کے بعد لبنیٰ دردِ زہ میں گرفتار ہوئی، نبیل اسے اٹھا کر ہسپتال لے گیا،راستے بھر میں اس نے نیم غشی کے عالم میں پڑی لبنی سے سوائے اس کے کہ ” بیٹا ہی ہونا چاہیے “ اور کوئی گفتگو نہ کی، چند نرسیں آئیں اور لبنیٰ کو لیبر روم میں لے گئیں،نبیل بیٹے کی خوشخبری سننے کو بے تاب اپنے خیالوں میں گم ہسپتال کے پورچ میں ٹہلنے لگا،وہ سوچ رہا تھا کہ بیٹے کی پیدائش کے بعد میرا گھر خوشیوں کا چمن بن جائے گا،اس میں خوش رنگ پرندے چہچہائینگے ، فاختائیں نغمے گنگنائینگی ، آبشاریں دلکش ترنم الاپینگے اور یوں میرا سفینۂ حیات غموں کی چٹانوں سے بچتے ہوئے پار لگ جائے گا، ان کا اشہبِ خیال انہی سوچوں کی انہی حسین شاہ راہوں پر دوڑتا چلا جا رہا تھا کہ لیبر روم کا دروازہ کھلا اور ایک نرس کی آواز ” نبیل صاحب مبارک ہو،بیٹی ہوئی ہے،بڑی پیاری سی گڑیا ہے،ایک دم چاند کا مکھڑا ہے،خدائی دستکاری نے جی بھر کر اس میں رنگ حسن بھرا ہے “ نے نبیل کے حسین خیالوں کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا، اسے یوں لگا جیسے وہ ابھی قوس و قزح کی خوبصورت دنیا میں سیر کر رہا تھا اور اسے ابھی کسی نے اٹھا کر متعفن بوچڑ خانے میں پھینک دیا ہو،اسے نرس کی باتوں پر یقین ہی نہیں ہو رہا تھا،اس کا دل ”نہیں نہیں یہ نہیں ہوسکتا“ کے بے ہنگم اور پُرشور الفاظ کے دائرے میں گھومنے لگا۔
تھوڑی دیر بعد ایک اور نرس دروازے سے باہر آئی،اس کے ہاتھوں میں ننھی سی گڑیا یوں مچل رہی تھی جیسے وہ اپنے باپ کی آغوش میں جا چھپنے کو بے قرار ہو،نرس کے ہاتھ آگے بڑھے اور پورچ میں پھر رہے نبیل کی بانہوں میں گڑیا کو تھما کر واپس آگئے،ننھی گڑیا اپنے باپ کی بانہوں میں پہونچ کر یوں مسکرانے لگی جیسے اپنے باپ کو عرصے سے پہچانتی ہو،اس کے نرم و گداز ہاتھ باپ کے چہرے پر رینگنے لگے،گڑیا کے بلاخیز حسن اور سکون انگیز مسکراہٹ کو دیکھ کر ایک لمحے کے لئے نبیل کی آنکھیں اس پر ٹھر سی گئیں، جی نے کہا کہ اسے خدا کا عطیہ سمجھ کر قبول کر لو،لیکن! بیٹی سے نفرت والا نظریہ رفتہ رفتہ ایک باپ کے وجود سے سر ابھارنے لگا، اور دیکھتے ہی دیکھتے نفرت اور حقارت کی شکنیں اس باپ کی پیشانی پر نمودار ہوگئیں،چہرے پر تیوریاں چڑھ آئیں اور خفگی کی لہریں آنکھوں میں موجیں مارنے لگیں، وہ اٹھا اور سیدھا ہوش میں آئی ہوئی لبنیٰ کے پاس لے جاکر اپنی بیٹی کو پٹکنے کے انداز سے بیڈ پر رکھا، اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکل گیا کہ ” لو تم ہی اس کو سنبھالو اور ہاں اسے میری نظروں سے بچائے رکھنا “، بے بسی اور لاچاری کے دو موتی لبنیٰ کے نینوں سے نکلے اور بہتے ہوئے اس کے رخساروں تک جا پہونچے۔

وہ گڑیا کہ جس کا نام ماں نے طیبہ رکھا تھا گلیوں میں ماں کا آنچل تھام کر گھومتی ہوئی اپنی عمر کی دسویں بہاروں میں پہونچ گئی، اس بیچ نبیل کی طرف سے ماں اور بیٹی کو سوائے حقارت کے تیروں اور تشنیع کے نشتروں کے اور کچھ نہیں ملا تھا،اس کا گلشنِ حیات اگرچہ ایک خوبصورت اور جاذبِ دل پھول سے لہلہا اٹھا تھا، لیکن اسے جیسے اس سے کوئی سروکار ہی نہیں تھا، اسے چاہیے تھا تو بس ایک بیٹا چاہیے تھا، جس کو پیدا کرنا لبنیٰ کے بس میں نہیں تھا۔
ان دس سالوں میں لبنیٰ نے علاقے کے کسی ایسے حاذق حکیم،خانقاہوں کے کسی ایسے پہونچے ہوئے درویش،آستانوں کے کسی ایسے ملنگ مجاور اور مقبروں کے کسی ایسے برگزیدہ انسان کو نہیں چھوڑا جن سے مل کر اس نے اپنا مدعا بیان نہ کیا ہو اور نذر و نیاز سے ان کی جھولیاں نہ بھری ہو،لیکن اس کی گود بارِ دگر ہری نہ ہونے کی تھی سو نہ ہوئی، بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی گود تھوہر کا درخت بنتی چلی گئی،جس میں پھل لگنے کی کبھی کوئی امید نہیں ہوتی،اس کی ساری آسیں دم توڑ گئیں،اس کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کرے تو کیا کرے اور جائے تو کہاں جائے،نہ حکیم کی دوائیں کام آرہی تھیں اور نہ ہی خانقاہوں کی دعائیں اس کی مراد پوری کر رہی تھیں،اگر اس کو اپنی اس ننھی سی گڑیا کی فکر نہ ہوتی تو وہ کب کی ہی اس جہنم نما دنیا سے اپنا رشتہ توڑ چکی ہوتی اور اس اذیت بھرے قفس سے خود کو آزاد کرا چکی ہوتی۔

انہی سوچوں اور پریشانیوں میں اس کے شب و روز گزر رہے تھے کہ ایک دن دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں نبیل گھر آگیا،نہ جانے ڈیوٹی میں اس کی کس کے ساتھ ان بن ہوگئی تھی کہ اس دن وہ پورا بھرا ہوا تھا،گھر آتے ہی اس نے بازاری زبان میں اپنی بیوی لبنی کو جی بھر کر کوسا، اسے بانجھ،تھوہر کا درخت، سوکھی نہر جیسے گھناؤنے جملوں کی یلغار سے خوب شرمسار کیا اور ہاتھ میں ڈنڈا اٹھا کر اپنی بیٹی طیبہ کی طرف لپکا۔

طیبہ جو اس وقت آئینے کے سامنے کھڑی اپنے وجود کو کوس رہی تھی، اور من ہی من اپنی ذات سے بیزاری کا اظہار کر رہی تھی کہ درحقیقت اس کی ذات ہی اس کی امی کی زندگی کو اجیرن بنانے کا سبب تھی،اپنے باپ کے تیور کو دیکھ کر سہمنے اور ڈرنے کے بجائے اس کے قدموں میں جاکر لیٹ گئی، اور کہنے لگی ” ابو جان آج آپ میرے اس نحس وجود کا قصہ پاک کرکے روز روز کے جھگڑے کا خاتمہ کردیجیے،مجھے مار کر آپ کی بےچین زندگی کو سکون مل جائے گا اور میری بلا سے میری امی کی بھی شاید جان چھوٹ جائے گی“ نبیل کے تیور اس وقت اتنے برہم تھے کہ اگر لبنی بیچ بچاؤ نہ کرتی تو شاید ایک معصوم کے خون سے نبیل کا ہاتھ اس دن رنگ ہی جاتا۔

نبیل کو ٹھنڈا کرکے لبنی وہاں سے اٹھی اور دھڑام سے بستر پر جا گری،کافی دیر تک اس کی آنکھوں سے بےبسی اور لاچاری کے آنسو بہتے رہے،وہ چیخنا چاہتی تھی،اتنی زور سے چیخنا کہ آسمان لرز اٹھے اور زمین تھرتھرا جائے لیکن اس کی چیخیں سسکیوں میں دب کر رہ گئیں،روتے روتے اس کو اونگھ آگئی، دیکھتی کیا ہے کہ ایک سائیں سڑک پر یہ آواز لگاتا چلا جارہا ہے کہ ” بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور دلی مرادیں پاؤ “ لبنی پلیٹ میں کھانا بھر کر بھاگی بھاگی سائیں کے پاس پہنچتی ہے اور کھانا اس کے سامنے رکھنے ہی والی ہوتی ہے کہ اس کی آنکھ کھل جاتی ہے،آنکھ کھلتے ہی اسے یوں لگتا ہے جیسے دروازے پر کھڑا کوئی سائیں کھانا مانگ رہا ہے، وہ ہڑ بڑا کر اٹھتی ہے اور کھانا لیکر دروازے پر پہنچتی ہے، سائیں اس کے ہاتھ سے کھانے کی پلیٹ لیکر دعائیں دیتا ہے ” بیٹی تم نے آج ایک بھوکے کو کھانا کھلایا ہے، خدا تمہارے من کی مراد ضرور پوری کرے گا “۔

اور اس کے دس ماہ بعد عین عید کے دن لبنی کی کوکھ ایک چاند سے بیٹے کو جنم دیتی ہے،گھر میں خوشی کی شہنائیاں بج اٹھتی ہیں،مسرت کی بانسری راگنیاں گانے لگتی ہیں، بیٹے کی خبر سن کر نبیل بھاگا بھاگا گھر پہونچتا ہے،اس کے لئے مٹھائیوں کے مٹکے کھول دیتا ہے،صدقہ اور خیرات سے غریبوں کی جیبیں بھر دیتا ہے، لبنی کی پلکیں مسرت کے آنسؤوں سے لبریز ہوتی ہیں، طیبہ بھائی کی خبر سن کر خوشی سے پھولی نہیں سماتی ہے،اس کے قدم زمین پر بہکے بہکے پڑنے لگتے ہیں، وہ دیوانہ وار دوڑتے ہوئے زچہ خانہ پہونچتی ہے اور بے اختیار اپنے بھائی کی پیشانی پر بوسوں کی بوچھاڑ کرکے سجدہ ریز ہوجاتی ہے کہ خدا نے عید کے دن بھائی کی شکل میں اسے ایسی ” عیدی“ عطا کر دی تھی جو اس کے لئے کرب کشا بھی تھی اور راحتِ جاں بھی۔
ظفر امام، کھجور باڑی
دارالعلوم بہادرگنج
٢٧/ رمضان ١٤٤١؁

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button