ادبیاتتازہ ترین

یہاں کردار نقلی ہیں ہمارے یار نقلی ہیں ؛نظر آتے ہیں جو اصلی……

غزل/ہد ہد

یہاں کردار نقلی ہیں ہمارے یار نقلی ہیں
نظر آتے ہیں جو اصلی پسِ دیوار نقلی ہیں

امانت دیکھ کر رکھوائیے اِس شہرِ باطل میں
عجب بہروپیا پن ہے کہ نیکوکار نقلی ہیں

مکانوں کی حفاظت کے لیے خود جاگنا ہوگا
حفاظت جن کے ذمے ہے وہ پہرے دار نقلی ہیں

عجب دورِفتن میں کھینچ لائی ہے مجھے قسمت
کریں کیا فیصلہءِ حق کہ سب سردار نقلی ہیں

میں اپنے معاشرہِ بد کا قصہ کیسے بتلاؤں
حیا اصلی کہاں سے ہو کہ پردے دار نقلی ہیں

وفاداری کہ دعووں میں وفاداری نہیں ملتی
عَلَم اصلی مگر ہُدہُد علمبردار نقلی ہیں

ہدہد

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button