بہارسمستی پورفکر و نظر / مضامین و مقالات

ہم عصر شعری جہات اور میرے ذاتی تأثرات و احساسات

محمدامام الدین ندوی اماموری پاتے پور ویشالی (معلم اے،این،پی،ایس،اردو رمولی)

بدر محمدی افق ادب پر نمودار ہونے والا معروف ومشہور،اوربہت مقبول نام ہے۔بدر محمدی حلقۂ ادب میں ہردلغزیز بھی ہیں۔پچھلے کئ برسوں سے دریائے ادب میں غواصی کرکے قیمتی لعل وگہر نکال نےاور ارباب ادب کی تشنہ لبی درور کرنے میں ہمہ تن مصروف وسرگرم عمل ہیں۔ دریائے ادب کایہ ناخدا آج بھی اپنی منزل طے کرنےمیں کوشاں ہے۔اور اپنی قیمتی گہرپارے یکجاکرنے میں لگاہے۔
بدر محمدی صرف شاعر ہی نہیں، اچھے نثرنگار بھی ہیں۔میدان صحافت کے بھی شہشوار ہیں۔

کہنہ مشق شاعر ہیں۔شاعری کرتے ہیں تو عظیم شاعر معلوم ہوتے ہیں۔گردوپیش کی اشیاء،فضا،مختلف حالات،وحوادثات، بولتی نظرآتی ہے۔” بنت فنون کا رشتہ” اس کی عکاسی و آئینہ دار ہے۔

جب وہ نثر نگاری کی دنیا میں قدم ڈالتے ہیں تو اچھے قلم کار نظر آتے ہیں۔بدر محمدی کا قلم ششتہ وشگفتہ ہے۔الفاظ بر محل اور چنندہ ہوتے ہیں۔کس لفظ کو کہاں ،اورکیسےاستعمال کرنا ہے یہ بدر محمدی کے یہاں نظر آتاہے۔ تحریر میں سلاست،اور چاشنی بہ درجۂ اتم موجودہے۔قاری کو تأمل اور اکتاہٹ کا احساس نہیں ہوتاہے۔پڑھئے تو پڑھتے جائیے۔مضمون میں باہم ارتباط ہے۔لگتا ہے کہ اس جگہ کے لئے یہی جملہ زیادہ موزوں ہے

بدر محمدی کے یہاں تصنع،خونمائی نہیں ہے۔وہ بیجاتعریف کے پل نہیں بانھتےہیں۔ان کے یہاں حق،بہ،حق دار،رسید،کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ترتیب مراتب ان کے یہاں دیکھنے کو ملتی ہے۔بدر محمدی کی تحریر نہایت عمدہ اور جاذب نظرہوا کرتی ہے جوقاری میں وجدانی کیفیت پیدا کرتی ہے۔اور قاری کودلچسپی دلاتی ہے۔

بدر محمدی کے یہاں وسعت ظرفی ہے۔سب کے لئے ان کے دروازے وا ہیں۔

وہ اردو ادب کی پہچان ہیں۔ان کی تحریر اچھوتی ہے۔
ان کی تازہ تصنیف”ہم عصر شعری جہات”تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔اس مجموعے میں ۲۴(چوبیس)قیمتی مضامین ہیں۔ہرمضمون اپنے آپ میں اہمیت کا حامل،اور ممتاز ہے۔یہ مضامین مختلف شعراء،وشاعرات،کے شعری مجموعے پر ناقدانہ،بےباکانہ،جرأت مندانہ،منصفانہ،وعادلانہ، نقدوتبصرہ سے مزین ہیں۔تمام مضامین قاری کومتأثرکرتے ہیں۔اسلوب ادیبانہ ہے۔افراط وتفریط سے مبرا ہے۔اس میں کسی کی بےجاتعریف نہیں کی گئ ہے۔ بلکہ یہ حقائق سے پر ہیں۔
تنقید کوئی آج کی نئی اپج نہیں ہے۔اور ایسا بھی نہیں ہے کہ تنقید سے کوئی مبراہو۔ایسا بھی نہیں ہے کہ تنقید کا سلسلہ مستقبل میں بند ہوجائے گا؟تنقید ماضی میں بھی کی گئی،حال بھی تنقید سے خالی نہ رہا،اور مسقبل بھی اس سے دوچار ہوگا۔تنقید برائے اصلاح ہو،برائے تذلیل نہ ہو۔

تنقیدبرائےتعمیرہوتخریب نہ ہو۔۔

تنقید کرنا آسان سمجھا جاتا ہے۔ہم عصروں پر تنقیدکرنا آسان بات نہیں ہے۔نوک قلم کے باگ ڈورکو بہت محتاط انداز میں پیکر قرطاس بنانا پڑتاہے۔معیارومراتب کا پوراجیال رکھنا پڑتا ہے۔اخلاقی قدروں کی پوری رعایت کرنی پڑتی ہے کہ رفتار تنقید میں قلم حد سے تجاوز نہ کرجائے۔تنقید میں حقیقت کی عکاسی ہونی چاہئے ۔سراہنے کی جگہ کھل کرکشادہ قلبی سے کام لیاجاناچاہئے۔گرفت کے موقع پر غیرجانب دارانہ طور پر گرفت کرناچاہئے۔بدر محمدی کے یہاں اس کا پورا خیال رکھاگیا ہے۔

” ہم عصر شعری جہات” نہایت قیمتی،گراں قدر،معلوم افزا،دیدہ زیب،پرلطف،پرکیف،دل ودماغ کومعطر کرنے والا،پژمردگی کودور کرکے فرحت،وانبساط،اوربشاشت عطاکرکے مشام جان کوراحت بخشنے والا سرمایۂ حیات ہے۔بدر محمدی نے شعراءکےمنتخب اشعار پر تبصرہ کرکے اسے جامۂ وقار عطاکیا ہے۔شاعر اور ان کے اشعار کا منصفانہ تعارف وتجزیہ کیاہے۔اس کے لئے شاعر اور ان کے شعری معیار کو برقرار رکھاہے ۔تنقیدی عبارت مکمل ادبی پیرائے میں ملبوس اس نوعروس کی طرح ردائے حیا میں لپٹی ہوئی نظرآتی ہے جسے ہر کوئی دیکھنے کا مشتاق وبیتاب نظر آتاہے۔

بدر محمدی کے یہاں تصنع،خودنمائی،عبارت کی پیچیدگی، نہیں ہے۔تل کوتار اورتار کو تل نہیں کیاجاتاہے بلکہ حقیقت کی ترجمانی،کی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ” ہم عصر شعری جہات”میں قاری کو اکتاہٹ،وگرانی،نہیں ہوتی ہے۔قاری کو ایک خاص لطف،ایک خاص کیفیت،محسوس ہوتی ہے۔
انہوں نےبکھرےہوئےالفاظ کے موتی کو ادبی ہار میں پروکر سونے کے طشت میں سجاکر صفحۂ قرطاس کیا ہے۔یہ تنافر کلمات سے پاک ہے۔قاری جوں جوں،قدم بڑھاتا ہےاسے نئی چیز ملتی ہے۔نئی سوچ دریچۂ دماغ کاطواف کرتی ہے۔دنیائے دل،پرایک خاص قسم کا دستک محسوس ہوتا ہے۔خواب وخیال کے شیش محل مسمار ہوتےہیں۔ حقیقت کی دنیا آباد ہوتی نظر آتی ہے۔اس کاہر لفظ نگینہ ہے۔ہر سطر آبگینہ ہے۔
"ہم عصر شعری جہات”کے تمام مضامین پرکشش ہیں۔قاری نہ چاہتے ہوئے بھی اس وادی میں سیرکرتا ہے اورمحضوض ہوتاہے۔صاحب کتاب نے بڑی عرق ریزی،لگن،امنگ،سے اسے پرویا ہے۔اور ارباب ادب،و اہل ذوق،اورفرسان شعروسخن،کے نذر کیاہے۔

کتاب کاسرورق،اس کی طباعت،عمدہ ہے۔کاغذ اعلی درجہ کا ہے۔

بدر محمدی صاحب سےمیری پہلی ملاقات چند سال قبل حاجی پور کے ایک سیمینار میں ہوئی تھی۔اسی میں ان کی کتاب "بنت فنون کا رشتہ”کارسم اجرا بھی عمل میں آیا تھا۔۔اسی مجلس میں ان سے علیک سلیک ہوا۔بدر صاحب بہت مخلص،مشفق،اورخلیق، ہیں۔

۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو شرف قبولیت سےنوازے ۔اسےادبی سرمائے میں اعلی مقام اور سنگ میل کی حیثیت عطا فرمائے۔آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button