Featuredاہم خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

ہاں میں مسکان خان ہوں۔۔۔۔! نازش ہما قاسمی

جی ! میں حجاب کی مخالفت کررہے فرقہ پرستوں اور بھگو ا دھاریوں کی بھیڑ میں جے شری رام کے جواب میں’’ اللہ اکبر‘‘ کا پرزُور، بااثر اور دل پذیر نعرہ لگانے والی دختر ہند، فخر عالم اسلام، شیر دل، شاہین صفت، عقابی روح، دلیر، بہادر، باہمت، ثابت قدم، بلند حوصلہ، بلند خیال، جرأت مند، مستقل مزاج، خوش گفتار، بہترین مقرر، دین دار، عفت مآب، باحیا، پارسا، پرہیز گار، عفیفہ، نیک بخت، خدا پرست، اور خدا ترس، باحجاب تہجد گزار، دینی و عصری علوم سے بہرہ ور ، حجاب گرل بی بی مسکان خان ہوں۔ میری پیدائش شیر میسور سلطان ٹیپو علیہ الرحمہ کے دیار کرناٹک میں مانڈیا ضلع کے محلہ سعادت نگر میں والد محترم محمد حسین خاں کے ہاں ۲۰۰۳ میں ہوئی۔بچپن سے ہی ذہین ،فطین، زیرک، خردمند، ہوشیار، اعلیٰ ظرف ،روشن دماغ، ہوشمند، تیز طبع، زود فہم اور عقل مند تھی۔ عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی مَیں نے حاصل کی، قرآن مجید کا ناظرہ عہد طفولیت میں ہی مکمل کرلیا ، عصری تعلیم علاقے کے مڈل اسکول سے حاصل کی، اعلیٰ تعلیم کے لیے مانڈیا کے پی ای سی کالج میں داخلہ لیا اور فی الحال بی کام سکینڈ ایئر کی طالبہ ہوں۔

میں اول کلاس سے ہی ’رینک ہولڈر‘ امتیازی طالبہ رہی ہوں، ہمیشہ ممتاز نمبروں سے پاس ہوتی رہی ہوں، تقریروخطابت کا شوق جنون کی حد تک ہے ، بہترین مقررہ کے ساتھ ساتھ سامعین کے ذہن ودماغ پر الفاظ کے جادو سے انمٹ نقوش چھوڑنے کا ہنر بھی بخوبی جانتی ہوں، تقریر و خطابت کے میدان میں علاقائی سطح پر کئی معزز انعامات بھی مَیں نے حاصل کیے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں

تبدیلی مذہب معاملہ : معروف و مشہور اسلامی اسکالر ڈاکٹر عمر گوتم کی ضمانت منظور

ہاں میں وہی مسکان خان ہوں، جس سے دنیا ۸؍فروری۲۰۲۲سے قبل ناآشناتھی؛ لیکن آٹھ فروری کو جیسے ہی میں کالج میں اسائنمنٹ جمع کرنے کے لیے داخل ہوئی ،مجھے کالج احاطہ میں روکا گیا، پھر بھی میں روک ٹوک کو خاطر میں لائے بغیر اسکول پہنچی ،اسکوٹی سے اتری، اس وقت ماحول اشتعال انگیز تھا، فرقہ پرست بھگوا دھاری طالب علموں کا جھنڈاسکول میں داخل تھا، شکچھا کے مندر میں’’ ودوان ‘‘کی جگہ شرپسند بھگوادھاری مکروہ عناصر ماحول کو زہریلے نعروں سے مکدر کررہے تھے، مجھے گھیرتے ہوئے برقع پر توہین آمیز تبصرہ کرکے اشتعال انگیز اور دل آزار نعرے لگارہے تھے، میں نے اس دوران ان بھگوا دھاری نام نہاد طلبا کے سامنے ڈَٹ کر اللہ اکبر کی صدا بلند کی، اللہ کی شانِ کبریائی بلند کرتے ہی مجھے پوری دنیا میں خدا نے بلند کردیا، حجاب کی حمایت میں میرے نعرہ تکبیر کی صدائے بازگشت پوری دنیا میں سنی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

حجاب تنازعہ : کرناٹک ہائی کورٹ نے طلباء اور عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی، کہا آئین میں اعتماد رکھیں

منٹوں میں ہی کرناٹک کے مانڈیا سے نکل کر امریکہ، آسٹرلیا، افریقہ، ترکی، آذربائجان، ایران، پاکستان ، افغانستان،بلادِ عرب و شام سمیت پوری دنیا میں معروف ہوگئی۔ میرے نام کے قصیدے پڑھے جانے لگے، شعراء میری اِس بہادری کو غزلوں ،نظموں اور اشعار میں ڈھالنے لگے ۔

میری ہمت کی چہار جانب داد دی جانے لگی، میرے آئینی حق اور مذہبی فریضہ کے لیے آئینی جنگ لڑنے کو سراہا جانے لگا اور اب تک میری ستائش کی جارہی ہے ، حجاب اور میری حمایت میں پورے ملک میں صدائے احتجاج بلند کی جارہی ہے۔ ہندو توا کی اشتعال انگیزی کے وقت جہاں میں ایک طرف نعرہ تکبیر بلند کررہی تھی وہیں دوسری جانب میرے روحانی والد اسکول کے پرنسپل اور چند اساتذہ میرے گرد حصار باندھ کر میری حفاظت کررہے تھے۔

دنیا ان کے اس جذبے کی بھی بے انتہا قدر کررہی ہے اور میں بھی ممنون ومشکور ہوں۔ میں ان چھ با حجاب طالبات کی بھی مشکور ہوں جنہوں نے حجاب کی حمایت میں اڈپی کالج سے اپنی اس آئینی اور مذہبی حقوق کے حصول کی تحریک کا آغاز کیا جس کے فروغ میں ، میں معاون بنی۔

یہ بھی پڑھیں

لڑکیوں کے حجاب کے مقابلے لڑکوں کا زعفرانی اسکارف: مسلم طالبات کو کلاس میں جانے سے روکا گیا، تنازعہ پر کالجوں میں دو دن کی چھٹی، ہائی کورٹ میں ہے آج سماعت

ہاں! میں وہی مسکان ہوں جس نے نقاب میں رہ کر انقلاب پیداکیا ہے۔ میرے نام پر اسکول وکالج بنانے کا عہد کیاجارہا ہے، اردو بھون کو میرے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیاجارہا ہے۔ وہیں دوسری طرف سوشل میڈیا پر شرپسندوں کی طرف سے میری اور دیگر طالبات کی کردار کشی کی جارہی ہے۔ ایک جانب میری حجاب والی تصویر اور کسی دوسری لڑکی کی بے حجاب فوٹو شاپ کے ذریعہ ڈیزائن کرکے یہ باور کرانے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے کہ یہ میں ہی ہوں؛ لیکن یہ میں نہیں ہوں ۔معروف ویب سائٹ آلٹ نیوز اور دیگر ویب سائٹس نے بھی اس کی تردید کی ہے، الحمدللہ میری کوئی بے حجاب تصویر نہیں ہے۔ وہیں دوسری طرف فرقہ پرست عناصر ان باحجاب طالبات کو ہراساں کررہے ہیں، ڈرا اور دھمکا رہے ہیں، جو حجاب تحریک کی محرک اول ہیں۔اُڈپی کی چھ طالبات کے نمبرات اور پتے وائرل کردئیے گئے ہیں ، فرقہ پرست، شرپسند انہیں فحش اور آبروباختہ کلمات کہہ رہے ہیں، ان شاء اللہ وہ اِن دھمکیوں سے نہیں ڈریں گی؛ بلکہ ڈٹ کراور دلیرانہ مقابلہ کریں گی۔ اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے فرقہ پرستوں سے اخیر دم تک ہماری جنگ جاری رہے گی ۔

ہاں! میں وہی مسکان خان ہوں ،جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرناچاہتی ہوں، میں اپنی تعلیم پر مکمل توجہ دے رہی ہوں، فی الحال میرا امتحان ہونے والا ہے، مجھے آگے بڑھنا ہے، مزید پڑھنا ہے، مسئلہ حجاب کو ہندوبنام مسلم کرکے نفرت کی خلیج پیدا کرنے کوشش نہ کی جائے، حجاب میرا اور میری جیسی اسلام پسند طالبات کا آئینی حق اور مذہبی فریضہ ہے، اس سے ہم دستبردار نہیں ہوسکتے، ہم پہلے بھی باحجاب تھیں، اور آئندہ بھی باحجاب رہیں گی۔یہ مسئلہ کرناٹک ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۱۴؍فروری۲۰۲۲کو فیصلہ ممکن ہے، مجھے امید ہے کہ عدالت ہمیں ہمارے مذہبی فریضہ اور آئینی حقوق سے محروم نہ کرے گی۔(ان شاء اللہ)

ان خبروں کو بھی پڑھیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button