اتر پردیشاہم خبریںدہلی

گیان واپی مسجد معاملہ : امید ہے ڈسٹرکٹ جج انصاف کریں گے سپریم کورٹ کے حکم پر اسدالدین اویسی کا ردعمل

حیدرآباد : آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین ( اے آئی ایم آئی ایم ) کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے بعد اب انہیں بنارس کے ضلع بج سے اس کیس میں انصاف کی توقع رکھتے ہیں ۔

اس کے ساتھ وہ پورے معاملے کی غیر جانبداری سے سماعت کریں گے ۔ اویسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کو عبادت ایکٹ کو پوری طرح نافذ کرنا چاہئے ۔

حیدرآباد میں صحافیوں کے سوال کے جواب میں اویسی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے وضو کی اجازت دے دی ہے ۔ اس کے ساتھ عدالت کے عبوری حکم کو برقرار رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکم دے کر مثال قائم کی ہے ۔

اویسی نے کہا کہ سول جج نے مسلم فریق کو نہیں سنا تھا اور غلط حکم دیا تھا ۔ اویسی نے کہا کہ عبادت گاہوں کا ایکٹ 1991 مستقبل کے تنازعات کو روکنے کے لیے نافذ کیا گیا تھا ۔ رام مندر پر ساعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یہ قانون آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے ۔ عدالت کو اس نکتے پر عمل کرنا چاہیے۔اے آئی ایم آئی ایم کے سر براہ اویسی نے یہ بھی کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ مقامی ڈی ایم عرضی گزاروں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ۔

گیان واپی مسجد ،اسدالدین اویسی
قومی ترجمان

یہ بھی پڑھ سکتے ہیں

اگر سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مذہبی رسومات کی اجازت دی جانی چاہیے تو اس میں تالاب سے وضو بھی شامل ہے ۔ جب تک وضو نہ کر میں نے نماز نہیں پڑھ سکتے فوارے کی حفاظت کی جاسکتی ہے لیکن تالاب کھلا ہونا چاہیے ۔

قومی ترجمان
قومی ترجمان
Qaumi Tarjuman
قومی ترجمان

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button