گریٹ بیریئر ریف خطرے میں، موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ بڑھارہی پریشانی

اگر دنیا بھر میں انفرادی طور گیس کے اخراج کی بات کی جائے تو اعلی سطحی اخراج والے ملکوں میں آسٹریلیا ایک اہم نام ہے، اخراج کی اس سطح کا سیدھا اثر آسٹریلیا کے عالمی شہرت یافتہ تاریخی ورثہ گریٹ بیریئر ریف پر بھی پڑرہا ہے
حالات کی خرابی کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ سائینسدانوں،نوکرشاہوں، سابق صدور اور اداکاروں کے ایک گروپ نے یونیسکو سے آسٹریلیا حکومت کے ذریعے گریٹ بیریئر ریف کی حفاظت کے لئے مطلوبہ کاروائی یقینی بنانے کو کہا ہے، ان عالمی شخصیات نے ایک کھلے خط کے ذریعے یونیسکو سے آسٹریلیا کے گریٹ بیریئر ریف کے موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے خطرے میں ہونے کے چلتے عالمی آثار قدیمہ کی فہرست میں درج کرنے کا مطالبہ کیا


جیساکہ آپ کو معلوم ہے کہ یونیسکو کی عالمی آثار قدیمہ کمیٹی نے گزشتہ ماہ کے آخر میں سفارش کی تھی اور اس ہفتے اس تجویز پر ووٹنگ کے لئے اجلاس ہوگا

دنیا بھر میں گرین ہاؤس گیس کے اخراج کے باعتبار انفرادی سب سے بلند سطح والوں میں سے ایک آسٹریلیا میں ہے اور یہ کوئلے اور لیکویڈ گیس کے سب سے بڑے ایکسپورٹرز میں سے بھی ایک ہے ، یہ سعودی عرب اور بحرین کے ساتھ ایک مجوزہ مسودہ کی لابنگ کے ساتھ ڈرافٹ فیصلے کے خلاف زبردست پیروی کررہا ہے


خط پر دستخط کنندگان میں فلپ کوسٹو (صحافی ، ایکسپلورر و مہاساگر ایڈوکیٹ) ، HSH پرنس البرٹ II موناکو کے خود مختار شہزادہ ، کرسٹیانا فگگیریس ، محمد نشید GCSK (سابق صدر مالدیپ) ، جوانا لملی OBE FRGS (اداکار ، پروڈیوسر ، کارکن) اور جیسن موموا (اداکار ایکومین) شامل ہیں
انہوں نے اس بیان کی حمایت کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا اور دنیا کو اب اس وقت موسمیات پر کام کرنا چاہیے جب ریف کو بچانے کے لئے وقت ہے، بیان میں کہا گیا ہے کہ ریف میں موسمیاتی ایمرجنسی پہلے ہی سے واضح ہے جو صرف پانچ سالوں میں تین سنگین کورل بلیچنگ کے واقعات کی طرف اشارہ کرتی ہے جسکی وجہ سے بڑے پیمانے پر کورل اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے
وہ کہتے ہیں کہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود کرنا ریف کے لئے ایک اہم ہدف ہے اور آسٹریلیا سے ریف کے تحفظ کے طور پر 1.5- کے ساتھ ہم آہنگ قومی منصوبے کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں
عالمی آثار قدیمہ ‌کمیٹی کے ریف کو خطرے کے اعتبار سے عالمی آثار قدیمہ کے مقامات کی فہرست میں شامل کرنے کی یونیسکو کی سفارش کا عالمی شہرت یافتہ اور محترم تائید کنندگان حمایت کرتے ہیں
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم دنیا کے اہم ایمیٹرس سے پیرس معاہدہ کے تحت سب سے اہم موسمیاتی کاروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، گریٹ بیریئر ریف کو بچانے کے لئے ابھی بھی وقت ہے اور آسٹریلیا اور دنیا کو ابھی کاروائی کرنی ہوگی
ہم یونیسکو کی اسکی قیادت کرنے کے لئے تعریف کرتے ہیں اور عالمی آثار قدیمہ کمیٹی سے یونیسکو کی سفارش کی حمایت کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں
یہ بیان آسٹریلیا کی معروف سمندری تحفظ تنظیم، آسٹریلین مرین کنزرویشن سوسائٹی کے ذریعے جاری کیا گیا ہے
اے ایم سی ایس کے سی ای او ڈیرن کنڈلیسائیڈ نے ان معروف شخصیات کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بیان کی حمایت کرنے کے لئے اتفاق ظاہر کیا


اس بیان پر موثر دستخط کنندگان دنیا بھر سے ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے ریف کے لئے الارم صرف آسٹریلوی لوگوں کے لئے فکر کی بات نہیں ہے بلکہ ریف پوری دنیا کا ہے اور اس کے تحفظ کے طور پر آسٹریلیا کو اپنے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لئے موسمیاتی کاروائی پر عالمی قیادت کرنی چاہیے


پانچ عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں، آسٹریلیا کی معروف نان گورنمنٹ ماحولیاتی تنظیموں اور 50 سے زیادہ آسٹریلیا کی با اثر شخصیات کے کھلے خطوط کے بعد یونیسکو کی سفارش قبول کرنے کے لئے عالمی آثار قدیمہ کمیٹی پر ایک تازہ ترین ہائی پروفائل کال ہے


21 رکنی عالمی آثار قدیمہ کمیٹی اس ہفتے کے آخر میں طے کریگی کہ وہ یونیسکو کی ریف کو عالمی ورثہ میں خطرہ کی فہرست میں شامل کرنے کی سائینس پر مبنی سفارش کی تصدیق کی جائے گی یا نہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں