کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں


یہ کس کی ہستی رسول بن کر جہاں میں تشریف لا رہی ہے
بڑی مسرت سے ارضِ مکہ تجلیوں میں نہا رہی ہے

اسلامی تاریخ کے حوالے سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام آئے سب سے پہلے نبی حضرت آدمؑ آئے اور سب سے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺآئے۔ ہم سب پیارے نبی احمد مختار، سید الابرار، شافع محشر، پیغمبر آخری الزماں کی امت ہیں۔ کلمہ جو اسلام کا پہلا ستون ہے۔وہ ہے خدا کی وحدانیت یعنی خدائے پاک ذاتِ واحد کو ایک ماننا۔ اور یہ کہ محمد ﷺ اﷲکے بندے اور رسول ہیں۔ کلمہ توحید اور کلمہ شہادت خدا کی وحدانیت کے ساتھ جب نبی کا بھی درس دیتا ہے۔ بقول شاعر ؎
بجز ِ حب محمد کا مل ایماں ہو نہیں سکتا خدا کو ماننے والا مسلماں ہو نہیں سکتا۔

حضورِ اکرم پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے قبل زمانۂ جاہلیت میں بت پرستی عام تھی۔ لڑکیوں کو زندہ در گور کر دیا جاتاتھا۔ لیکن حضور ﷺ سارے عالم کے لیے رحمت بن کر آئے۔ آپ محسن ِ انسانیت ہیں۔ آپ سراپا نورِ مجسم تھے۔ آپ کے آمد سے قبل سارے عالم میں یہ خوشیاں پھیل گئیں کہ ؎


ظہورِ شان حق نورِ مجسم آنے والے ہیں
محمد ؐ سابشر فخر دو عالم آنے والے ہیں


خدائے پاک نے پیارے نبی کو اپنا حبیب مانا ہے۔ اور قرآن میں ہے کہ ہم پیارے رسول کی اتباع کریں۔ سنت کی پیروی کریں۔ دین ِ اسلام پر چلنے کی کوشش کریں۔ صراطِ مستقیم پر چلیں۔ برے شر سے دور رہیں :
بشر کو کیا خود خدا کو شکل بھائی ہے محمد کی
محمد ہیں خداکے اور خدائی ہے محمد کی
زمین سے عرشِ اعظم تک رسائی ہے محمد کی
اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے پیارے رسولﷺ نے بڑی بڑی قربانیاں دیں ۔ شاعر یوں رقمطراز ہے ؎
جب محمد مصطفیٰ نے آکر کے دین پھیلایا
تو ان جسم اطہر کافروں نے خوں میں نہلایا
صحابہ نے کٹا دیں گردنیںاس دین کی خاطر
وطن کو چھوڑ دیتے تھے اس تلقین کی خاطر


اسلام ایک سچا اور نکھرا ہوا مذہب ہے۔ جو علم نافع، عمل صالح اور اخلاق فاضلہ سے عبارت ہے۔ امت مسلمہ کے سینے میں اسلام کا دل دھڑکتا ہے۔ اسلام نے اخوت اور مساوات کے حقوق دئیے ہیں۔ پیارے نبی ﷺ نے لڑکیوں کو برابری کا حقوق دیا ہے۔ شاعریوں کہتا ہے ؎


ہر گھر میں بڑھی ہے گھر کی شان بیٹی سے
ہمارے نبی کا چلا خاندان بیٹی سے


حضور ﷺ کا خاندان بیٹی سے چلا ہے۔ ان کی چہیتی دختر خاتون ِ جنت حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا تھیں جو خاتون ِ جنت کہلائیں۔ جو ہمیشہ عبادت اور ریاضت میں مصروف رہا کرتی تھیں۔ ان کے بیٹے حضرت حسین نے نانا کی دین کو باچانے کے لیے ایسی قربانی دی اور عظیم شہادت پیش کی جسے تا قیامت یاد رکھی جائے گی۔ اور روزِ حشر امت کو ان کی شفاعت نصیب ہوگی۔ زمین ِ کربلا اب تک وہ ہمت یاد کرتی ہے ؎


آتا ہے کون شمع امامت لئے ہوئے
اپنے جلو میں فوجِ صداقت لئے ہوئے
ہاتھوں میں سرخ جام شہادت لئے ہوئے
لب پر دعائے بخشش امت لئے ہوئے
اﷲ رے حسن فاطمہ کے ماہتاب کا
ذرے میں چھپتا پھرتا ہے نور آفتاب کا

آج مسلمانوں میں حسینی لہو رواں ہے۔ حق اور باطل کی لڑائی میں ہمیشہ فتح حق کی ہوئی ہے اور باطل کی شکست۔ جس دین کو قائم رکھنے کے لئے قربانیاں دی گئیں۔ عظیم شہادت پیش کی گئی ، مسلکی تنازع عام ہے اور آئے دن چاروں مسلک یعنی حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی میں تنازع اور نوک جھونک چلتے رہتے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سب ایک خدا کی وحدانیت کو مانتے ہیں۔نماز سبھی پڑھتے ہیں ، زکوٰۃ سبھی دیتے ہیں اور حج سبھی کرتے ہیں۔ آج اتحاد بین المسلمین وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہم حب نبی ہیں۔ عاشقِ رسولؐ ہیں۔ ہمیں سنت کی پیروی پر کاربندہونا ہے۔ اور رسول خدا ﷺ کی اتباع کرنی ہے۔ اور تب ایک صحت مند اسلامی معاشرے کی تشکیل ممکن ہے جس میں ریا کاری نہ ہو۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ آنے والی نسل کو راہ حق پر گامزن کریں۔کچھ بھی غلط کرنے سے بچائیں۔ آج مسلمانوں میں سب سے زیادہ جو کمی ہے وہ ہے ان کے اخلاق، تعلیم اور تہذیب میں گراوٹ نماز سبھی پڑھتے ہیں،زکوٰۃ دیتے ہیں اور استطاعت ہو تو حج بھی کر لیتے ہیں لیکن دولت کی ہوس نے انہیں اس قدر غافل کر دیا ہے کہ دولت کے لئے بھائیوں کی جان لینے پر ،انہیں فحش جملے سے نوازنے کے معیار تک اترتے ہیں۔ سگے بھائی ہیں۔ لیکن دولت کی ہوس نے انہیں بد تہذیبی کی اندھیری کوٹھری میں ڈھکیل دیا ہے۔ اور پیارے رسول ؐ کے اخلاق حسنہ کو بالکل فراموش کر چکے ہیں ۔ حسین جوڑے پہن کر ، خوبصورت زیورات سے مرصع ہو کر اور شاندار محلوں میں رہ کر انسان انسان نہیں ہو سکتا ہے ۔ دولت، عزت، شہرت سے بڑی اگر کوئی چیز ہے تو وہ ہے انسان کا اپنا ضمیر۔ انسان کو اپنے ضمیر کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ ایک دوسرے کے لئے ہمدردی اور جذبۂ ایثار ہی ہمیں خدا سے قریب ہونے کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔


کی محمد سے وفا تو نے کہ ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیزہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

Mobile + Whatsapp : 9088470916/8444821721
E-mail : [email protected]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں