اتر پردیشفکر و نظر / مضامین و مقالات

کرناٹک کی بیٹیوں کو سلام!

مفتی محمد نصر الله ندوی

آزاد ہندوستان میں شاہین باغ کا احتجاج تاریخی اہمیت رکھتا ہے،یہ احتجاج کئی لحاظ سے منفرد تھا،اس کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ،اس کی باگ ڈور ان نازنینوں کے ہاتھ میں تھی،جو عام طور سے شور ہنگامہ سے دور رہتی ہیں،لیکن جب ملت کو ضرورت پڑی،یہ پردہ نشیں خواتین محاذ پر ڈٹ گئیں،ان میں بعض لڑکیاں ایسی تھیں،جن کی جرءات وہمت کا اعتراف پوری ملت نے بجا طور پر کیا،جن کی بیباکی اور شعور وفراست نے ملک کو حیرت زدہ کردیا!

آج دوسال بعد جب کرناٹک کا منظر سامنے آیا تو نگاہوں میں ماضی کی تصویر گردش کرنے لگی،دونوں واقعات میں بہت کچھ یکسانیت ہے،شاہین باغ میں ہماری بیٹیاں ملک کے دستور کی حفاظت کیلئے سینہ سپر تھیں،آج کرناٹک کی غیرت مند بیٹیاں اسلامی تشخص کے تحفظ کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں،اس سے پہلے بھی حجاب کا مسئلہ کئی جگہ پیش آیا،تاہم کرناٹک کی لڑکیوں نے جس جرءات وہمت کا ثبوت دیا،اس کی مثال بہت کم ملتی ہے،سب سے پہلے یہ مسئلہ کرناٹک کے ضلع اڈپی کے ایک کالج میں پیش آیا،پھر اس کا اثر کندا پور پہونچا،اور اب یہ مسئلہ کئی اداروں میں سر اٹھا چکا ہے،بھگوا تنظیمیں اس میں کھل کر کردار ادا کر رہی ہیں اور ماحول کو ہر ممکن زہر آلود کرنے کی کوشش کر رہی ہیں،کل کئی مقامات پر طلبہ وطالبات نے بھگوا پٹہ ڈال کر احتجاج کیا،

بی جے کے وزراء اپنے نفرت آمیز بیانات کے ذریعہ آگ کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں،آئندہ سال کرناٹک میں الیکشن ہے،اس کیلئے ابھی سے ماحول کو ساز گار بنایا جارہا ہے،ایک عجیب وغریب ماحول ہے،جو اس سے پہلے دیکھنے کو نہیں ملا،ایک طرف زعفرانی تنظیمیوں کے بہکاوے میں آنے والے طلبہ وطالبات ہیں،جن کے پاس کوئی ویژن نہیں ہے،دوسری طرف مسلم لڑکیاں ہیں،جو اپنے تشخص کیلئے سڑکوں پر ہیں،اور پوری طاقت کے ساتھ اپنی آواز بلند کر رہی ہیں،یہ طالبات پوری ملت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر رہی ہیں،معاملہ اب ہائی کورٹ کے پالے میں ہے،تاہم حالیہ دنوں میں جس طرح عدالتوں پر زعفرانی بھوت کا اثر نظر آرہا ہے،وہ ملک کے سیکولرازم کیلئے بہت تشویشناک ہے،کیرالہ ہائی کورٹ نے حجاب کے مسئلہ پر جو فیصلہ سنایا،اس سے انصاف پسندوں کو بہت مایوسی ہوئی ہے،امید کہ کرناٹک ہائی کورٹ دستور کی روشنی میں فیصلہ کرے گا،جس میں ہر شہری کو مذہبی تشخص کے ساتھ زندگی گزارنے کی آزادی دی گئی ہے،یہ معاملہ اب جس رخ پر جارہا ہے،اس میں ضرورت اس بات کی ہے کہ،ملت کے سربرآوردہ افراد سامنے آئیں،یہ براہ راست شریعت میں مداخلت ہے،اس لئے ملی تنظیموں کو بھی آگے آنا چاہئے،اگر ہائی کورٹ سے بات نہیں بنتی ہے،تو سپریم کورٹ تک جانا ہوگا،اور پوری مضبوطی کے ساتھ اپنا موقف رکھنا ہوگا،پورے ملک میں حجاب پر مثبت بحث کی ضرورت ہے،ہمیں اس کی افادیت کو ثابت کرنا ہوگا،افسوس کی بات یہ ہے کہ،ہمارے ملک میں زنا بالجبر کے واقعات کثرت سے پیش آرہے ہیں،ناجائز تعلقات کی وجہ سے سماج میں انتشار ہے،فیملی سسٹم تباہ ہورہا ہے،ان سب کے پیچھے عریانیت اور بے حیائی کا اہم رول ہے، اس حقیقت سے کوئی انصاف پسند انکار نہیں کرسکتا، ضرورت تھی کہ ملک میں بڑھتی ہوئی عریانیت اور فحاشی کی روک تھام پر گفتگو ہو،مگر ستم ظریفی کی انتہاء دیکھئے کہ،آج حجاب کو موضوع بنایا جارہا ہے،سچ منھ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے،جب کہ جھوٹ سر چڑھ کر بول رہا ہے،عفت وپاکدامنی پر سوال اٹھایا جارہا ہے،اور فحاشی و بے حیائی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے،یقینا اس ملک کیلئے یہ بہت بڑا المیہ ہے،ایسے ہی موقع کیلئے اکبر الہ آبادی نے کہا تھا

رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جاجا کہ تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانہ میں

یہ مسئلہ ملک کے سیکولرازم سے براہ راست تعلق رکھتا ہے،اس کے باوجود وہ پارٹیاں خاموش ہیں،جو سیکولرازم کا دم بھرتی ہیں،خاص طور سے کانگریس اور اس کی حلیف پارٹیوں کی ذمہ داری بہت اہم ہے،کرناٹک میں کانگریس کی پوزیشن مضبوط ہے،اسی طرح اس کی معاون دیوگوڑا کی پارٹی بھی خاموش ہے،این سی پی جو مہاراشٹر میں کانگریس کے ساتھ ہے،وہ بھی خاموش ہے ،یہ خا موشی منافقت اور مفاد پرستی کی دلیل ہے،اگر یہ پارٹیاں خاموش رہیں گی،تو آئندہ سال اسمبلی انتخابات میں ان کا صفایا طے ہے،اس لئے ان پر لازم ہے کہ،وہ اپنی خاموشی توڑیں اور اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے آگے آئیں۔۔
فقط۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button