کتنے اچھے تھے پیارے حافظ صاحب

از : حافظ محمد جنید عالم ندوی قاسمی
اماموری، پاتے پور ویشالی.

استادِ محترم ہر تعزیتی نشست میں “کل نفس ذائقةالموت ” کی صدا پینتیس سال اماموری کے ہر گلی کوچے میں لگاتے لگاتے اور مسجد کے منبر سے “وارکعوا مع الراکعین “کہتے کہتے ۲۰/ نومبر ۲۰۱۲ء بروز منگل رات کو نو بجے سے کچھ پہلے معمولی بیمار ہونے کے بعد چٹ پٹ خود بھی دنیا چھوڑ گئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ یہ بات ناقابل انکار حقیقت ہے کہ موت کا اپنا ایک لمحہ طے ہے۔چھوٹا ہو یا بڑا حادثہ، زلزلہ ہو یا پھر سیلاب موت کا سبب بنتا ہے اور نہ ہی مرض کی شدت ۔پچیس سال پہلے بھی بہت زیادہ بیمار ہوئے تھے لیکن صحت لوٹ آئی ۔گزشتہ ماہ اچانگ بعدِ عشاء معمولی سی طبیعت کیا بگڑی کہ وہ دنیا سے جانے کی وجہ بن گئی ۔
حافظ محمد توحید عالم قادری رحمہ اللہ تعالی نے اپنے گاؤں پیغمبر پور دیگھروا تھانہ تاجپور ضلع سمستی پور میں حفظِ قرآن پاک بچپن ہی میں مکمل کیا ۔مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے مظہر الاسلام بریلی شریف تشریف لے گئے ۔ فراغت کے بعد مختلف علاقوں میں مہ و سال درس دینے کے بعد مدرسہ اسلامیہ اماموری آئے گئے اور پھر ایسے آئے کہ یہیں کے ہو کے رہ گئے ۔ شروع شروع میں مرحوم کی مالی حالت اچھی نہ تھی اور نہ ہی محلہ کی ۔ ہمہ وقتی رات ہو دن گاؤں کے بچے بچیوں کے استاد و اتالیق رہے ۔ مسجد کے متفق علیہ امام بھی رہے ۔معمولی رقم مسجد سے ملتی اور ایسا ہی مدرسہ سے بھی ۔کثیر الاولاد تھے بڑی مشکل سے زندگی کے پہیئے کھینچتے، مگر کبھی بھی زبان پر شکوہ رنج والم نہ لاتے ۔مغرب کے بعد گھر گھر جاکر بچوں کی نگرانی فرماتے ۔ مدرسہ میں ابتداءا بچوں کو اردو،فارسی اور گنتی پہاڑہ پڑھایا سکھایا اور اہم درس حفظ کا رہا ۔ بچوں کے پیچھے صبح سے شام تک لگے رہتے جب تک کہ سب کےسبق، سبق پارہ اور آموختہ سن نہ لیتے ۔ گاؤں کے حفظ کے طلبہ کو صبح میں گھر سے دھواں اٹھنے کے بعد ہی چھٹی دیتے کہ اب گھر کا راستہ لو ناشتہ تیار ہو رہا ہے ۔ سب کو بڑی توجہ، لگن اور محنت سے پڑھاتے ۔کتنے اچھے تھے پیارے حافظ صاحب!!!

زیادہ تر جالی دار دھاگے والی گول ٹوپی پہنتے، کرتا سفید لمبا، پاجامہ علی گڑھی، چہرہ پر کشش نورانی، جسم قدرے موٹا ، قد قدرے لمبا، دل کے سادہ من کے بھولے بھالے جو چائے آسانی سے چونا لگادے، دن خوشی کے ہوں یا غم کے، کسی کے بڑھانے چڑھانے سے بھی زبان گندہ نہ کرتے، یہ کرامت نہیں تو اور کیا تھاکہ مدرسہ کے ماحول میں رہ کر بھی اپنے کو غیبت کرنے اور سننے سے پاک رکھا ۔سدا بری مجلس سے دور بیٹھنے کی کوشش کرتے، حسد، جلن، کینہ، عداوت تو گویا جانتے ہی نہ تھے ۔ہمیشہ سے قیام مدرسہ کے دارالاقامہ میں رہا، چند سال مطبخ کے بھی ذمہ دار رہے، باورچی سے رابطہ خوش گوار رہا، اساتذہ کے کھانے کی فرمائش کا حتی الامکان خیال رکھتے، رات میں دارالاقامہ کے چھوٹے بچوں کو سو جانے کے بعد اٹھا کر کھانا کھلاتے، تعلیم سے زیادہ تربیت پر دھیان دیتے، کیا مجال کہ کسی طالب علم کا کپڑا یا بستر دیر شام مدرسہ کے صحن میں پڑا رہے اور مرحوم کی زبان بند رہے، ایسا نہیں ہو سکتا ۔ مدرسہ کے ہر سامان کی ذاتی ملکیت کی طرح حفاظت کرتے، مدرسہ کی کرسی ٹیبل کو رات میں باہر نہ رہنے دیتے، کسی استاد نے اسے استعمال کرنے کے بعد یوں ہی صحن میں چھوڑ دیتا تو کہتے” ہاں ایک نوکر ہےجو اتھوائے گا ہی” کتنے اچھے تھے پیارے حافظ صاحب !

گھر میں بھی مہمان نوازی خوب اچھے انداز میں کرتے، طرح طرح کے کھانوں سے دسترخوان سجانے کی پوری کوشش کرتے، مجھے مرحوم کے آبائی گاؤں پیغمبر پور دیگھروا میں1996ءماہِ رمضان المبارک میں قرآن کریم سنانے کا موقع ملا ۔ قیام مرحوم کے گھر اور طعام محلہ سے، اوائلِ رمضان میں دعوتوں کی کثرت رہی، لے دعوت دے دعوت، ایک دن میں دو تین دعوتیں آجاتیں تو متولی صاحب انھیں ترتیب لگادیتے ۔اتفاق یہ کہ ایک دن کسی گھر سے دعوت نہ آئی تو بر وقت حافظ صاحب کی اہلیہ (اطال اللہ حیاتھا ) نے اپنے ذمہ دعوت لے لی اور مرحوم کے ذوق کے مطابق آنا فانا وہ انتظام کیا جو محلے کی تمام دعوتوں پر سبقت لے گیا ۔ بیماری کے دنوں میں بھی عیادت کی غرض سے گیا ۔اس کے علاوہ بھی مرحوم کے ایک فرزند مولانا محمد ابصار عالم ندوی جامعہ سید احمد شہید ، کٹولی، ملیح آباد لکھنؤ میں ہم عصر ہونے کی وجہ سے قربت رہی تو آنا جانا لگا رہا، حافظ صاحب میزبانی میں اتنے مصروف ہو جاتے کہ سبکی سی معلوم ہونے لگتی بلا شبہ وہ عربی شاعرکے اِس شعر کے مصداق تھے:
وانی لعبد الضیف مادام نازلا
وماشیمة لی غیرھا تشبہ العبدا
(میں مہمان کا نوکر ہوں جب تک وہ میرے یہاں رہےاس کے علاوہ میرے اندرنوکر کے مشابہ اور کوئی عادت نہیں )
مرحوم کی پھونک میں اللہ پاک نے بڑا اثر دیا تھا۔ بارہا اپنوں کے علاوہ غیروں نے بھی لوہا مانا۔ نظرِ بد کا علاج تو گویا منٹوں میں کر دیا کرتے ۔میرے یہاں بھی تشریف لاتے ۔ پھونک کے بعد مرحوم نے چائے وائے لیا نہیں کہ اتنی دیر میں بیمار سلامِ رخصت کےلئے آجاتا ۔ اللہ اکبر ! ایک مرتبہ ایک سر پھرا نوجوان قرآن وسنت سے ثابت جھاڑ پھونک کا منکر دیر رات مدرسہ کے صدر دروازے پر پڑے تالے کو زور زور سے کھٹکھٹا رہا تھا کہ مرحوم جاگ گئے جاکر دیکھا تو وہی نو مسلم کھڑا ہے ۔ پوچھا کہ کیسے آنا ہوا جناب! جواب ملا کہ میرے گھر ابھی چلیۓ نا حافظ صاحب! میری اہلیہ کے پیٹ بہت درد ہے ۔ مرتا کیا نہ کرتا ۔ منت و سماجت کی حد پار کرنے لگا تو مرحوم نے قدرے غصہ میں ڈانٹا اور کہا کہ تجھے تو جھاڑ پھونک سے نفرت سی ہو گئی ہے یہ تو اب تمھارے نزدیک شرک ہے اور تم تو موحد اعظم ہو گئے ہو ! پھر رہا نہ گیا تو کہا کہ چلیۓ نا حافظ صاحب! زچگی کا وقت ہے ۔ درد کافی ہے ۔ دیر نہ کریں خدارا ! تشریف لے گئے ۔ بڑا فائدہ ہوا ۔ اس کے بعد مذکورہ نوجوان حافظ صاحب کاایسا گرویدہ ہوا کہ دیکھتے ہی دور سے سلام کرتا۔ روحانی علاج کو کبھی ذریعہ معاش نہ بنایا ۔ کتنے اچھے تھے پیارے حافظ صاحب!

کہنہ مشق استاد تھے ۔اماموری، دھنکول اور کواہی کی تین نسلوں کو پڑھایا ۔سلام میں پہل کرتے ۔جواب بلند آواز سے دیتے۔ بلا ناغہ روزانہ بعدِ نمازِ فجر قرآن پاک دیکھ کر بقدر توفیق تلاوت کرتے ۔مدرسہ میں بر وقت انتظامیہ کے ہر سوال کا جواب دیتے ۔مراتب کا بڑا گہرا خیال رکھتے ۔ معاملات کے بڑے پکے ۔لین دین کو لکھ لیا کرتے۔ازراہِ مذاق جب کوئی ماضی بعید کی تنگ دستی یاد دِلاتے ہوئے یہ کہتا کہ اب حافظ صاحب! “آپ کی حالت پہلی والی نہیں رہی” خوش حالی آئی ہے ۔ ذرا برہم ہوتے اور پھر یوں گویا ہوتے کہ ہاں تمھارے گھر کھلّڑ( افلاس) پڑا ہے ۔ سب ہنستے اور خوب ہنستے ۔
وفات سے چند ماہ قبل کچھ خانگی پریشانیوں میں گِھر گئے تھے اورکہتے بھی رہتے کہ دکھ سکھ اپنا ساتھی ہے۔ وہ کون ہے جو خوشی اور غم سے دوچار نہ ہوتا ہو ۔خوشی کے موقع پر شکر موجبِ ثواب ہے تو غم و اندوہ کے وقت صبر کا دامن تھامے رہنا مردِ مومن کا خاص وصف بتا گیا ہے ۔ اپنے دکھوں کا ذکر کسے سے نہ کرتے ۔دل میں چوٹ اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ ایک عادت سی بن گئی تھی ۔ایک مرتبہ کسی نے زیرِ لب مسکراہٹ دیکھ کر کہا کہ ہنسی بڑی پیاری ہے، چہرے کی مسکراہٹ کیا خوب ہے! جواب دیا کہ ارے ظالم ! ذرا ہونٹ کی بناوٹی ہنسی کے ساتھ آنکھ کے آنسوؤں پر بھی ایک نظر ڈال۔ اور درد بھرے انداز میں زبانِ حال سے کہا کہ:
یہ ادا ہے ہمارے جینے کی
چوٹ کھاتے ہیں مسکراتے ہیں۔

تمھیں کیا پتہ اِس تبسم کے پیچھے
غمِ دوجہاں ہم چھپائے ہوئے ہیں۔

ہنستی ہوئی آنکھوں میں بھی غم پلتے ہیں
کون مگر جھانکیں اتنی گہرائی میں

اماموری اور اس کے اطراف میں مرحوم اتنے مقبول تھے کہ اگر اِس سہارے وہ چاہتے تو بڑی خانقاہ بنا کر پیر مغاں بن بیٹھتے سائیکل کی سواری نہیں بلکہ زمانے کی آرام دہ گاڑی استعمال کرتے ۔لیکن کبھی ایسا سوچا تک نہیں ۔مجلسِ میلاد میں قیام وسلام کے بہانے کبھی اپنے مطلب کی روٹی نہ سینکی ۔اعتدال کا دامن مضبوطی سے تھامے رہے ۔اپنے ایک فرزند کو ندوة العلماءلکھنؤ اور پھر مظاہر علوم سہارنپور سے مکمل تعلیم حاصل کرائی ۔ پیٹ بھرو مولوی جیب بھرو پیر کی طرح امام ہونے کے ناطے نکاح خوانی کو اپنا واجبی حق نہ سمجھا ۔تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر سدا مکمل درود وسلام ہی پڑھتے ۔انگوٹھا کبھی نہ چومتے اورنہ ایسا کرنے کو کہتے ۔تعزیہ سازی اور تعزیہ پرستی کے زبردست مخالف رہے ۔کُھل کر خلاف میں بولتے ۔ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ شہیدانِ کربلا کے مناقب بیان کئے۔ان کی شان میں ہونے والی گستاخیوں سے منع کیا تو ایک پُرانے تعزیہ دار نے کہا کہ اب حافظ صاحب بھی بدل گئے ہیں ۔ محلہ کی بہت ساری بُرائیوں کو حکمت سے بھلائیوں میں بدلا ۔ کتنے اچھے تھے پیارے حافظ صاحب!

مرحوم وہ بریلوی حافظ تھے جنھیں اللہ کے فضل و کرم سے مرتے دم تک قرآن کریم یاد رہا ۔تراویح میں پارہ کو سنانے سے پہلے لازما اسے اپنے شاگردوں کو دن میں سنا لیتے ۔راقم الحروف کو بھی سماعت کا شرف حاصل ہے ۔درازیِ عمر اور شدتِ مرض سے مشابہات کی گرفت میں تھوڑی بہت کمی پیدا ہو گئی تھی تو اپنے نابالغ مقتدی حافظ شاگردوں کے لقمے کو قبول کرتے اور بہت سراہتے ۔ قرآن کریم دیکھنے کو معیوب نہ سمجھتے۔ درجنوں مضبوط یاد داشت والے حُفّاظ تیار کئے ۔ شاگردی کا شرف ناچیز کو بھی حاصل ہے ۔کوئی شاگرد اگر حفظ قرآن مکمل کر لیتا تو اسے حافظ صاحب کہتے نام لیکر نہ پکارتے ۔یہ جملہ بھی بارہا سننے میں آتا کہ “باادب بانصیب، بے ادب بے نصیب ”

ادب ہی سے انسان انسان ہے
ادب جو سیکھے وہ حیوان ہے۔

اماموری کی مسجد میں خطبہ جمعہ سے قبل کی تقریر کے چند جملے آج بھی مقتدیوں کے علاوہ درودیوار کو بھی یاد ہیں کہ” آج جمعہ ہے ۔ہفتہ کی عید ہے ۔غسل کرنا، عمدہ لباس پہننا، خوشبو لگانا سنت ہے” ( وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون ۔میں نے انسان اور جنات کو صرف اپنی عبادت کےلئے بنایاہے ) یہ چرند یہ پرند یہ شجر وحجر زمین وآسمان سب ایک اللہ کی عبادت میں لگے ہیں تم بھی اے لوگو! ایک اللہ کی عبادت میں لگ جاؤ ۔
مجھے رات میں نہیں فجر کی نماز کے بعد خبر ملی کہ اب حافظ صاحب اس دنیا میں نہیں رہے ۔کلمہِ ترجیع پڑھتے ہوئے مدرسہ پہونچا تو دیکھا کہ حافظ صاحب کے وہی کج کلاہ زیرِ تربیت طلبہ قرآن خوانی کے بعد آنکھوں میں آنسو لئے دعا کےلئے ہاتھ اٹھائے ہیں ۔میں بھی آنسوؤں کو روک نہ سکا ۔ہوش کے پچیس سال کے وہ حسین لمحے یاد آنے لگے ۔ گاؤں، محلے اور مدرسہ میں سینکڑوں میت کےلئے قرآن پڑھ کر ایصالِ ثواب کرنے والے کےلئے آج وہی کارِ خیر کیا جارہاہے ۔دعا ہو رہی ہے کہ خدایا! قرآن کریم کی پینتیس سالہ خدمات کے بدلے قرآن کو قبر میں مونس بنادے۔امامت کے بدلے قرآن کو قبر میں امام بنادے ۔ سیئات کو حسنات سے بدل دے۔قبر کو نور سے بھر دے ۔رُواں رُوان مغفرت فرما۔جنت میں جگہ دے۔ پسماندگان کو صبرِجمیل عطا فرما۔ آمین یا مجیب الدعوات!
اماموری دھنکول کے علاوہ دیگر گاؤں سے بھی متعلقین، منتسبین اور رشتہ دار وقت سے پہلے ہی نماز جنازہ کےلئے پیغمبر پور دیگھروا پہنچ گئے ۔غسل کے بعد بھی لوگوں کا ایک جمِ غفیر آخری دیدار کے اُمڈ پڑا ۔عشاء کی نماز کے بعد مولانا محمد ابصار عالم ندوی مظاہری نے نماز جنازہ پڑھائی اور آبائی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ۔ اور یہ کہتے سب اپنےاپنے گھر لوٹ آئے کہ” آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے” ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں