جھارکھنڈ

مدرسہ مفید الاسلامملت نگر، باریڈیہہ کوڑو لوہردگا


ملک ہندوستان جو کہ ایک طویل عرصہ تک انگریزوں کی غلامی میں جکڑا ہوا تھا اور ایک جہد مسلسل سے جب اس ملک کو آزادی ملی تو مسلمانان ہند کے لئے سب سے بڑا مسئلہ اپنی دینی و ملی تشخص کو باقی رکھنا اور اسے پروان چڑھانا تھا۔ اور اسکے لئے علماء ہند نے مدارس اسلامیہ کا جال بچھانا شروع کیا۔ اور آج ہندوستان کے کونے کونے میں ہزاروں مدرسے، اسلامی قلعے کی شکل میں قائم ہیں اور اپنی دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

مدرسہ مفید الاسلام، جو صوبہ جھارکھنڈ کے سب سے چھوٹا ضلع لوہردگا کے کوڑو بلاک کی ایک بستی ملت نگر میں قائم ہے، انہیں اسلامی قلعوں کی ایک کڑی ہے جس کےذریعے سے نہ صرف دین اسلام کی ترویج واشاعت ہو رہی ہے بلکہ ایک بہترین نظام تعلیم کے کے ذریعے نونہالان اسلام کو تعلیم کے زیور سے آراستہ و پیراستہ بھی کیا جا رہا ہے۔

صوبہ جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی سے نکلنے والی قومی شاہراہ نمبر 75پر جنگی موڑ سے چار کیلومیٹر کی دوری پر مسلمانوں کی اکثریت والے سات آٹھ گاؤں کے درمیان میں یہ مدرسہ قائم ہے۔ جب اس علاقہ کے ذی شعور مسلمانوں کو دینی تعلیم کی فکر ہوئی تو انہوں نے ایک مدرسہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس علاقے کے ایک نامور اہلِ علم جناب ڈاکٹر عبد الغفور صاحب مرحوم کی قیادت میں ماہ اگست 1980ء میں مدرسہ ہذا کی بنیاد رکھ دی گئی۔ اور تب سے لیکر آج تک غربت و افلاس کے شکار مسلمان اپنی بے انتہا قربانیاں پیش کرتے چلے آئے۔ اور اس طرح ایک چھوٹے سے پودے نے آج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر لی ہے۔

پہلے پہل تو یہ مدرسہ ساتوں گاؤں پر مشتمل ایک کمیٹی کے زیر نگرانی اپنی خدمات انجام دیتا رہا جس کے ذریعے لگ بھگ درجنوں نظماء کی تقرری ہوئی اور انہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں بہتر طریقہ سے مدرسہ کے نظام کو سنبھالا۔ لیکن جب ماہ اکتوبر 2015ء میں موجودہ ناظم حضرت مولانا حسین احمد قاسمی کو نظامت کی ذمہ داری ملی تو انہوں نے مدرسہ کی نظام تعلیم اور دیگر شعبوں میں مزید بہتری کے لئے شورائی نظام قائم کرنے کی کوشش کی اور اس میں انہیں کامیابی بھی ملی۔ اور آج صوبہ جھارکھنڈ کے معزز و نامور علماء کرام و دانشوران قوم پر مشتمل ایک 26 رکنی شوریٰ کمیٹی قائم ہے جسکی زیر نگرانی مدرسہ ہذا احسن طریقہ سے اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔

مدرسہ ہذا کی بنیادی مقصد تو قرآن ہے۔ اور صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو ساری کوششیں اسی پر ہے کہ کیسے طلبہ عزیز کو صحیح مخارج کے ساتھ قرآن پڑھایا جائے۔ اور اسی کا نتیجہ ہے کہ کل ایک سو دس طلبہ داخل ہیں اور حفظ کے دو درجے قائم ہیں۔ اور طلبہ بہترین لب ولہجہ کے ساتھ قرآن پڑھتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کا بھی بہترین نظم ہے۔ اور اگر کوئی طالب علم مدرسہ ہذا میں داخل نصاب ہوتا ہے تو وہ دیگر عصری تعلیم گاہوں کے مساوی، عصری تعلیم بھی حاصل کرتا ہے۔

الله اس مدرسہ کے معاونین کو جزائے خیر دے اور تا قیامت اس مدرسہ کی دینی و ملی خدمات کو قبول فرمائے۔۔۔ آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button