اہم خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

مال حرام اور بد نصیب انسانشمشیر عالم مظاہری دربھنگوی

مال حرام اور بد نصیب انسان
شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی
امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار
حرام مال کمانا، حرام غذا کھانا، حرام کا پیسہ جمع کرنا، حرام کے پیسے سے مکان گاڑی، لباس اور دوسری ضروریات خریدنا، یہ چیز آج ہمارے معاشرے میں عام ہوگئی ہے۔ لوگ اپنا اسٹیٹس اور سوسائٹی میں جھوٹی عزت بنانے کے لیے حلال اور حرام میں کوئی امتیاز نہیں کرتے، ہمارے اندر مال کی ہوس اتنی عام ہو گئی ہے کہ ہم نہیں، پیسہ کمانے والی مشینیں بن کر رہ گئے ہیں، ہمیں تو پیسہ چاہیے خواہ وہ پیسہ کسی بھی طریقے سے آئے، اللہ تعالی کے حکم توڑ کر آئے کسی کا حق دبا کر آئے! چوری، ڈاکہ، غصب،ونہب، اور ملاوٹ کرکے آئے رشوت، فراڈ، اور یتیموں، بیواؤں، بھائی، بہنوں کا حق دبا کر آئے ہیروئن، افیون شراب بلکہ اپنی عزت و آبرو بیچ کر آۓ بس پیسہ آنا چاہیے تاکہ ہم شادی غمی کے موقع پر اپنی جھوٹی عزت کا بھرم قائم رکھ سکیں۔ ہم ہر سال نئے ماڈل کی گاڑی خرید سکیں، ہم کسی مالدار علاقہ میں شاندار بنگلہ خرید سکیں، ہمارے بچے مہنگے انگلش اسکولوں میں تعلیم حاصل کر سکیں، مگر ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ ہم نے رشوت کے پیسے، منشیات کی دولت سے، فراڈ اور غصب کے روپے سے معاشرے میں تو اپنی ناک اونچی کرلیں، مگر یہ حرام مال آخرت میں ہماری ناک کٹنے کا ذریعہ بن جائے گا۔ یہ حرام مال ہمیں جہنم میں لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ حرام مال ہمارے تمام نیک اعمال کو تباہ کر سکتا ہے۔
ابو داؤد میں حدیث شریف ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص گناہ سے مال کماتا ہے پھر وہ اس سے عزیزوں کی امداد کرتا ہے یا صدقہ خیرات کرتا ہے یا اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے یہ سب کچھ قیامت کے دن جمع کیا جائے گا اور اس کے ساتھ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
بیہقی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔
لا یدخل ا لجنۃ جسد غذی بالحرام۔ وہ جسم جنت میں نہیں جائے گا جس نے حرام غذا سے پرورش پائی ۔ یوں تو یہ احادیث ہم سب کے لئے اپنے اندر عبرت کا سامان رکھتی ہیں لیکن وہ حضرات جو عبادت بھی کرتے ہیں۔ حرام مال بھی کھاتے ہیں، صدقہ و خیرات بھی کرتے ہیں، اور رشوت بھی کھاتے ہیں، انہیں خاص طور پر یہ سوچنا چاہیے کہیں حرام کمائی ہمیں جہنم میں لے جانے کا ذریعہ نہ بن جائے آخرت میں تو جو کچھ ہو گا۔ سو ہوگا۔ آج دنیا میں بھی ہماری دعاؤں میں جو اثر نہیں رہا تو اس کی بڑی وجہ بھی حرام ذریعہ معاش ہے۔
چیخ چیخ کر، ہاتھ لمبے کر کے، زور زور سے دعائیں کی جاتی ہیں، ہزاروں کا مجمع دعاؤں پر آمین آمین کہتا ہے، مگر ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں، نہ کافر مغلوب ہوتے ہیں، نہ مشرک نیست و نابود ہوتے ہیں، نہ دہشت گرد فنا ہوتے ہیں،نہ ظالموں سے ہم کو نجات ملتی ہے،نہ چوروں اور ڈاکوؤں سے ہم کو چھٹکارا ملتا ہے، نہ مہنگائی ختم ہوتی ہے، نہ بیماریوں سے شفا ملتی ہے، نہ آپس کے جھگڑے اور لڑائیاں ختم ہوتی ہیں، تو اس کی بہت بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ہر طرف حرام کی کثرت ہے، چند خوش قسمت افراد کے سوا پوری کی پوری قوم سر سے پاؤں تک حرام میں ڈوبی ہوئی ہے۔
مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
ومطعمہ حرام و مشربہ حرام و ملبسہ حرام و غذی بالحرام فانی یستجاب لذالک ۔جس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام، اور غذا حرام ہو، تو ایسے شخص کی دعا کیسے قبول ہوگی۔
انفرادی اور اجتماعی مسائل کے بارے میں ہماری دعائیں کیسے قبول ہوں گی جب کہ حرام کو ہم نے اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔
قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں جا بجا حلال مال اختیار کرنے کی تاکید اور حرام سے اجتناب نہ کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں اور قرآن وسنت میں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ آدمی حرام ذرائع سے مال جمع نہ کرے ۔
قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے۔
اور نہ کھاؤ مال ایک دوسرے کا ناحق اور نہ پہنچاؤ ان کو حاکموں تک، کہ کھا جاؤ کوئی حصہ لوگوں کے مال میں سے ظلم کرکے (ناحق) اور تم کو معلوم ہے ۔ (سورۃ البقرۃ)
ایک جگہ یتیموں کا مال ناحق کھانے پر اس طرح نکیر فرمائ گئی:
جو لوگ کہ کھاتے ہیں مال یتیموں کا ناحق وہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب داخل ہوں گے آگ میں (سورۃ النساء)
ایک جگہ ارشاد ہے : اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طور پر نہ کھاؤ مگر یہ کہ تجارت ہو آپس کی خوشی سے (سورۃ النساء)
بد نصیب انسان ! حرام کھانے والا ایسا بد نصیب ہے کہ اس کی نہ تو نماز قبول ہوتی ہے نہ نیک اعمال اور صدقہ و خیرات قبول ہوتا ہے نہ اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں ، یہ تمام وعیدیں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہیں
ارشادات نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم
جو حرام کا ایک لقمہ بھی کھائے گا اس کی چالیس راتوں کی نمازیں قبول نہیں ہوگی (مسند فردوس دیلمی)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے موقع پر یوں فرمایا :
جو شخص دس درہم میں کوئی کپڑا خریدے اور اس میں ایک درہم حرام کا ہو تو اللہ تعالی اس کی کوئی نماز قبول نہ فرمائیں گے جب تک وہ کپڑا اس کے اوپر رہے گا (مسند امام احمد)
جو بندہ حرام لقمہ اپنے پیٹ میں ڈال لیتا ہے تو اس کے چالیس دنوں کا کوئی نیک عمل قبول نہیں ہوتا (طبرانی)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اللہ تعالی پاکیزہ ہے اور وہ پاکیزہ مال کے علاوہ کوئی اور مال ( اپنے دربار میں) قبول نہیں کرتا اور اللہ تعالی نے ( پاکیزہ چیزیں استعمال کرنے کے بارے) میں مومنین کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو دیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا: اے رسولو! کھاؤ عمدہ پاکیزہ چیزوں میں سے اور کام کرو نیک بے شک میں تمہارے کام سے واقف ہوں ۔ اور اے ایمان والو ہماری عطا کردہ پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا ذکر فرمایا جو ( مثلاً ) لمبے سفر کے دوران غبار آلود اور پراگندہ بال ہونے کی حالت میں اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا مانگے کہ اے میرے رب اے میرے رب لیکن اس کا کھانا پینا اور لباس حرام ہو اور اس کی حرام سے پرورش ہوئی ہو تو کہاں اس کی دعا قبول ہو سکتی ہے ؟ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگرچہ انسان کی ظاہری حالت قابل رحم کیوں نہ ہو لیکن حرام مال میں ملوث ہونے کی وجہ سے وہ شخص اللہ کے رحم وکرم اور نظر کرم سے محروم کر دیا جاتا ہے اور اس کی دعا قابل قبول نہیں ہوتی
ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے آدمی اپنے پیٹ میں حرام لقمہ ڈالتا ہے جس کی وجہ سے چالیس روز تک اس کا کوئی عمل اللہ کے یہاں قبول نہیں ہوتا اور جس شخص کا گوشت پوست حرام سے پروان چڑھا ہو تو اس کے لئے تو جہنم ہی مناسب ہے ( التر غیب والترہیب)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایسا بدن جنت میں نہیں جائے گا جس کی پرورش حرام مال سے ہوئی ہو (الترغیب والترہیب)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ وسلم نے متنبہ فرمایا: تم حرام مال جمع کرنے والے پر رشک نہ کرو اس لیے کہ اگر وہ اس مال سے صدقہ کرے گا تو وہ قبول نہ ہوگا اور بقیہ مال بھی اسے جہنم تک لے جانے کا تو شہ بن جائے گا ( الترغیب والترہیب)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی اپنے منہ میں مٹی بھر لے یہ اپنے منہ میں حرام مال داخل کرنے سے بہتر ہے ( شعب الایمان)
ان روایات سے یہ معلوم ہو گیا کہ حرام مال کا استعمال شریعت کی نظر میں سخت ناپسندیدہ ہے اور آخرت میں بدترین عذاب کا موجب ہے ۔
حرام کا چسکا ۔
یہ ساری وعیدیں اپنی جگہ مگر صورتحال یہ ہے کہ جن لوگوں کو حرام کا چسکا لگ جاتا ہے انہیں حلال میں تو مزہ ہی نہیں آتا بلکہ انہیں حرام ہی میں لذت آتی ہے شاید اسی لئے ہمارے بعض بزرگوں کا طریقہ یہ رہا ہے کہ وہ جب مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے مسجد کے باہر جوتے اتارتے ہیں تو انہیں چوروں کے لیے حلال کر جاتے ہیں اور ان کا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ جوتے چوری سے محفوظ رہتے ہیں اور اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ چونکہ چور کے منہ کو تو حرام لگا ہوا ہے اور اسے حرام ہی کی تلاش ہے اگر اسے حلال کی تلاش اور طلب ہوتی تو وہ محنت کرتا، مزدوری کرتا، ٹھیلہ لگاتا، ٹوکری اٹھاتا، ملازمت کرتا، مگر چوری نہیں کرتا لیکن اسے تو حلال کی تلاش ہی نہیں بلکہ صرف حرام کی طلب ہے تو جب آپ نے اپنے جوتے اس کے لیے حلال کر دیئے تو وہ انہیں ہاتھ بھی نہیں لگا ئے گا اس لیے نہیں کہ اسے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ جوتے مالک نے میرے لیے حلال کر دیئے ہیں بلکہ اس لئے کہ اس کا مزاج اور معدہ اس قدر خراب ہو چکا ہے کہ وہ حلال غذا کو قبول ہی نہیں کرتا جیسے بیماری کی وجہ سے بعض لوگوں کا معدہ خراب ہو جاتا ہے تو پھر وہ اچھی غذا کو قبول ہی نہیں کرتا ۔ اسی طرح کا معاملہ ایک بھنگی کا مشہور ہے کہ ہمہ وقت گندگی اور نجاست میں رہنے کی وجہ سے اس کی قوت شامہ ایسی بگڑ گئی تھی کہ اب وہ خوشبو کو برداشت ہی نہیں کر سکتا تھا چنانچہ جب ایک روز وہ عطر فروشوں کے بازار سے گزرا تو بے ہوش کر گر پڑا لوگوں نے اسے ہوش میں لانے کے لئے بڑے جتن کئے مگر کوئی تدبیر بھی کارگر ثابت نہیں ہوئی اتفاق سے اسی وقت اس کے کسی ہم پیشہ شخص کا وہاں سے گزر ہوا اس نے مجمع لگا ہوا دیکھا تو قریب جاکر صورتحال معلوم کی کہ اس کا ایک بھائی بے ہوش پڑا ہے اور کسی صورت ہو ش میں نہیں آ رہا تو وہ خاموشی سے وہاں سے کھسک گیا اور کہیں سے تھوڑی سی نجاست لے آیا جب اس نے وہ نجاست اپنے بے ہوش بھائی کے ناک سے قریب کی اور اس کا اثر اس کی قوت شامہ نے محسوس کیا تو وہ ایک دم ہوش میں آگیا یہی مثال حرام خور کی ہے زندگی بھر حرام خوری میں مبتلا رہنے کی وجہ سے اسے ناجائز مال میں لذت محسوس ہونے لگتی ہے لیکن یہ لذت اسے اس لئے محسوس ہوتی ہے کہ اس نے حلال روزی کی نورانیت اور برکت اور لذت کو پوری طرح محسوس ہی نہیں کیا اگر ایسا ہوجائے اور وہ کچھ وقت کے لئے حرام کو چھوڑ کر حلال پر اکتفا کر لے تو وہ قلب و دماغ میں حلال کی ایسی خوشبو اور نورانیت محسوس کرے گا کہ زبان حال و قال سے پکار اٹھے گا
میں دن رات رہتا ہوں جنت میں گویا ، میرے باغ دل میں وہ گلکاریاں ہیں ۔ لیکن ان بدنصیبوں کو حرام چھوڑنے اور حلال پر اکتفا کرنے اور اس کی روحانی کیفیات سے لطف اندوز ہونے کا کبھی موقع ہی نہیں ملا اس لیے یہ گندگی اور نجاست کے دریا ہی میں خوش ہیں اور اسے اپنی قابلیت اور ذہانت و چالاکی سمجھتے ہیں ۔
حرام غذا
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا غلام محنت مزدوری کر کے کھانے کی چیز آقا لا کردیتا تو تحقیق فرماتے ٹھیک ہوتی تو کھالیتے ورنہ واپس کر دیتے ایک روز حسب معمول کھانا لا کر دیا صدیق اکبر نے بغیر تحقیق کے کھا لیا غلام نے تعجب سے معلوم کیا آج آپ نے تحقیق کیے بغیر ہی کھا لیا فرمایا بھوک بہت لگی تھی اس لیے بھول گیا کہاں سے لائے تھے اور یہ کھانا کیسا تھا؟ غلام نے عرض کیا زمانہ جاہلیت میں جھاڑ پھونک کیا کرتا تھا کسی کو شفا ہوگی اس نے کچھ دینے کا وعدہ کیا تھا آج اتفاق سے ادھر گزر تو اس کے یہاں ولیمہ کی دعوت ہو رہی تھی اس میں سے مجھے بھی دے دیا یہ وہی کھانا تھا اب کیا تھا صدیق اکبر کا رنگ متغیر ہو گیا پریشان ہوگئے کہ آج حرام غذا پیٹ میں چلی گئی اور اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم نے فرمایا اس جسم کے لئے جنت حرام ہے جس کی پرورش حرام غذا سے ہوئی ہو حلق میں بار بار انگی ڈال کر قے فرمائ اور جب تک سارا نہ نکال دیا چین نہ آیا
(زید بن ارقم)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنا جائزہ لے کہ جو پیسے اس کے پاس آ رہے ہیں اور جو کام وہ کر رہا ہے ان میں کہیں حرام مال کی آمیزش تو نہیں ہے نہ جانے کتنے کام ایسے ہیں جن کے ذریعہ نادانستہ طور پر اور غیر شعوری طور پر ہمارے حلال مال میں حرام کی آمیزش ہو جاتی ہے اور بزرگوں کا مقولہ ہے کہ جب کبھی کسی حلال مال کے ساتھ حرام مال لگ جاتا ہے تو حرام حلال کو بھی تباہ کر کے چھوڑتا ہے یعنی اس حرام مال کے شامل ہونے کے نتیجے میں حلال مال کی برکت اس کا سکون اور راحت تباہ ہوجاتا ہے اس لیے ہر شخص اس کی فکر کرے اور ہر شخص اپنے ایک ایک عمل کا جائزہ لے اور اپنی آمدنی کا جائزہ لے کہ ہمارے حلال مال میں کہیں کوئی حرام مال تو شامل نہیں ہو رہا ہے اللہ تعالی ہم سب کو اس فکر کی توفیق عطا فرمائے آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button