اتر پردیشاہم خبریں

قطب مینار کے شمسی ٹاور ہونے کا دعوی

نئی دہلی ، ۱۸ مئی ۔ قطب مینار کو لے کر پہلے سے ہی یہ تنازعہ جاری ہے کہ اس کی تعمیر مندر توڑ کر ہوئی تھی اور یہاں پوجا کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی لگا تار ہورہا ہے ۔ اب اس قطب مینارکولے کر ایک نیا دعوی سامنے آیا ہے ۔

کہاجا رہا ہے کہ قطب مینار دراصل سن ٹاور یعنی شمسی ٹاور ہے جس کی تعمیر قطب الدین ایبک نے نہیں بلکہ راجہ وکرمادتیہ نے کروائی تھی ۔ یہ عوی اے ایس آئی ( آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا کے سابق ریجنل ڈائر یکٹر دھرمویر شرما نے کیا ہے۔

دھر مویر شرما کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی کی طرف سے کئی بار قطب مینار کا سروے کیا گیا ہے۔سورج کی سمت دیکھنے کے ساتھ ہی ماہر آثار قدیمہ 27 نکشتر وں ( ستاروں کا مطالعہ کرسکیں اس لیے شمسی ٹاور کی تعمیر کرائی گئی تھی ۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ثبوت بھی موجود ہیں ۔ دھرمویر شرما کا کہنا ہے کہ ’ قطب مینار قطب الدین ایبک نے نہیں بلکہ پانچو میں صدی میں راجہ وکرمادتیہ نے بنوایا تھا ۔ قطب مینار میں 25 انچ کا جھکاؤ ہے۔ایسا اس لیے ہے کیونکہ میسورج کا جائزہ لینے کے لیے بنائی گئی تھی ۔

قطب مینار

ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے کو دشنو پد پہاڑی کی شکل میں جانا جا تا تھا جہاں اس وقت کے باقیات ہیں جب چوہان ، تومر ، پر تیہارحکمراں تھے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button