مضامین و مقالات

قابل رشک ہے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے محمدفیروز عالم کا تعلیمی سفر

کٹیہار۔(احمدحسین قاسمی) پی ایچ ڈی ہولڈر ڈاکٹرمحمدفیروزعالم کی کہانی اور ان کا تعلیمی سفر بہت ہی دل پذیر اور طلبہ کے لیے نہایت ہی حوصلہ افزا ہے ان کی یہ تعلیمی کدوکاوش کی داستان بہت ہی پر لطف ہے :آئیے روبرو ہوتے ہیں ڈاکٹر صاحب سے۔ان کانام محمد فیروز عالم قلمی نام فیروز ہارونی ہے۔تعلیمی سفر کچھ مہنہ مدرسہ سراج العلوم حال بیدا روشنا کٹیہار بہار سے شروع ہوابعدہ علوم عالیہ کابا ضابطہ آغاز جامعہ الام البخاری کشن گنج بہار سے ہواادارہ میں رہتے ہوئےموصوف نے فوقانیہ اور مولوی کا امتحان اول نمبر سے پاس کیا جامعہ الامام البخاری سے سنہ 2010 میں فراغت ہوٸی 2011 میں مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونیورسٹی سے اوّل پوزیشن سے گریجویشن کی ڈگری لی گریجویشن میں آنرز پیپر اردو ہی تھا 2012 میں الفلاح یونیورسٹی سے اوّل پوزیشن کے ساتھ بی ایڈ مکمل کی اور 2013 میں گوتم بدھ یونیورسٹی میں ایم اے میں داخلہ لیا جہاں سے 2014 میں فرسٹ کلاس کے ساتھ ماسٹرز کی سند مکمل کی ایم اے میں نمایاں کاگردگی کی وجہ سے یونیورسٹی کے طرف سے گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا۔ایم اے سے فارغ ہونے کے بعد سنہ 2014 میں دہلی یونیورسٹی میں ایم فل میں داخلہ لیا اور “ انشائیے مومن کا تنقیدی تجزیہ “ کے عنوان سے اپنا مقالہ پروفیسر توقیر احمد خان کے نگرانی میں جمع کیا ۔ایم اے میں بھی ممتاز نمبر سے کامیابی ملی ۔


ایم اے کے آخری سال یعنی 2014 میں یو جی سی نیٹ ہو گیا تھا-اسی سال CTET بھی مکمل ہوئی لیکن اصل تلاش یو جی سی جے آر ایف کی تھی جو کہ سنہ 2016 میں ہاتھ لگی 2016 میں دہلی یونیورسٹی ہی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا اور کورس ورک کی پڑھائی پوری کرنے کے بعد “فکشن نگار ناقدین ۔آزادی کے بعد “کے عنوان سے ڈاکٹر ارشاد احمد خان کے نگرانی میں اپنا ریسرچ کا عمل شروع کیاجو سلسلہ 2021 تک چلا اور بلآخر گزشتہ روزانہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کردی گئی ۔


ڈاکٹر محمد فیروز عالم کا تعلق صوبہ بہار کے کٹیہار ضلع سے دس بارہ کیلو میٹر دکھن پورب منشاہی کے پوٹھیا کھاٹ گاوں سے ہے ۔والد محترم محمد مراد علی کھیتی باڑی کرتے ہیں اور والدہ گھریلو عورت کے طورپر اچھی زندگی گزر بسر کررہی ہیں انکاخاندانی تعلق سیمانچل کے مشہور عالم دین مرحوم مولانا ابوبکر ہارونی سے ہے مولانا ابوبکر ہارونیانکے دادا تھےمولانا ابوبکر ہارونی کا انتقال 1969 ، میں ہوا لیکن ابھی بھی علاقے کے تعلیم یافتہ طبقہ ان کو جانتے ہیں بلکہ سترکی دہائی کے کٹیہار اور پورنیہ ہائ اسکول کے اساتذہ حضرات لگ بھگ سبھی لوگ ان کو جانتے ہیں ۔مولانا ابوبکر ہارونی کو اپنے بچوں کو پڑھانے کا بڑا شوق تھا لیکن انہون نے زندہ رہتے ہوئے تو اس مقصد کو پورا نہیں کر پاٸےلیکن ڈاکٹر صاحب نےآج اپنی ڈگری کو خراج عقیدت کے طورپر ان کو پیش کیاہے۔ان کے خاندان کا اصل مسکن 1980 سے پہلے منیہاری کے گواگاچھی مسلم ٹولہ ہوا کرتا تھا مگر گنگا کے کٹاؤ سے جب گھر بار سب کچھ اجڑ گیا تو انکےوالد محترم گواگاچھی سے موجودہ پوٹھیا گھاٹ کو اپنا جائے مسکن بنا لئے اور یہیں پر حتمی طورپر رہنے لگے اسی پوٹھیا گھاٹ میں موصوف کی پیدائش سنہ 1990 میں ہوئی ۔


گنگا میں اپنی ساری زمین جائداد کٹ جانے کی وجہ سےانکے والد محترم کے پاس کچھ بھی نہیں بچا تھا کسی طرح محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کی پرورش کر رہے تھےاس وجہ سے فیروز عالم سے بڑے تین بھاٸی اور چار بہنوں نے کوئ خاطر خواہ تعلیم حاصل نہیں کی۔والدہ محترمہ کا تعلق دینی گھرانے سے ہے اور وہ مکتب کی تعلیم یافتہ ہیں اردو اور عربی اچھے سے پڑھ لیتی ہیں ان کوفیروزکو پڑھانے کا بڑا شوق تھا ۔اس کی وجہ انکی امی بتاتی ہیں کہ ایک بار جب وہ بالکل صغر سنی میں تھے تو فیروز کو نیمونیا ہو گیا تھاانکی حالت اتنی خراب تھی کہ وہ بالکل مرنے کے کگار پر تھا ۔اس وقت انکی اماں نے شام کے وقت قبلہ رو ہوکے اپنے آنچل کو پھیلا کر اللہ سے دعا کی تھی کہ اللہ تو مجھے اس بچہ کو صحیح سالم واپس کر دے تو میں اس کو دینی تعلیم دلاؤں گایہی وجہ ہے کہ گھر میں روپیہ پیسہ نہ ہونے کے باوجود بھی فیروز کی والدہ نے کبھی ہمت نہیں ہاری ۔بلکہ بعض دفعہ تو عید بقرعید کے بعد ادھر ادھر سے فطرہ اور چرم قربانی کا پیسہ بھی جمع کر لیتی تھی تاکہ انکی پڑھائی صحیح سے ہو پائے۔اس وجہ سے پورے علاقے کا فیروز عالم کے اوپر قرضہ بھی ہے ۔خیر دو تین سال تک پیسے کی وجہ سے فیروز کی پڑھائی میں بہت پریشانی ہوئی کیونکہ ان سے جو تین بڑے بھائی ہیں ان لوگوں کا کوئی مستقل ذریعہ معاش نہیں تھا ۔

لیکن بعد میں ان سے بڑے طارق بھائی نے کمانا شروع کردیاتھا اور بعد میں بڑے بھائی مقصود نے بھی انکی پڑھائی کی ذمہ داری لی اور اخیر تک ان لوگون نےفیروزکا خرچ برداشت بھی کیا۔جس وجہ سے فیروز مدرسہ تک کی تعلیم مکمل کر پائے ۔گریجویشن پوری کرنے کے بعد 2011 میں جب وہ دہلی پہنچے تو انکےپاس مسقبل کا کوئی لائحہ عمل نہیں تھا ۔لیکن دہلی میں ان کو دو مخلص دوست ملے جان محمد اور ظفر امام بلکہ جان محمد کے ساتھ تو انہوں نے رہنا ہی شروع کر دیا جو سلسلہ دوہزار اٹھارہ تک چلا۔بس ان باتوں سے یہ کہنا مقصود ہے کہ اگر وہ اس ماحول سے اٹھ کر پڑھائی کر سکتا ہے اور اس طرح کے ماحول سے نکل کر دہلی یونیورسٹی جیسے ادارہ سے ڈاکٹر یٹ کی ڈگری لے سکتا ہے تو یقیناآج کے ڈیٹ میں کوئ بھی انسان اتنے برے حالات میں نہیں ہے ۔اس لے سب لوگ آرام سے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں ۔


آج ان کی کوشش ہےکہ اپنے علاقے کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھاٸےاور دادا محترم مولانا ابوبکر ہارونی صاحب نے جس مشن کا سنگ بنیاد ڈالا تھا اسی مشن کو میں دل و جان سے آگے لے جاٸے۔جب بطور توثیق کہ انکے والد محترم مراد علی اور جناب ڈاکٹر ارشاد احمدخان سے بات کی گٸی تو انہوں نے انکے عزاٸم وخصاٸل کو خوب سراہا اور روشن مستقبل کی دعاٸیں دی اور ان کو ایک کامیاب قابل قدر انسان بتایا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button