عید الاضحی کا پیغام امت مسلمہ کے نام,محمد افضل ندوی

اس کائنات رنگ و بو میں محبت و رضا مندی کے بے شمار واقعات رونما ہوئے ہیں اخلاص و محبت اور وفا شعاری کی لاکھوں داستانیں تاریخ کے ماتھے پر ثبت ہیں جو اپنے دامن میں ایسے نقوش رکھتی ہیں کہ ان کو پڑھ کر انسان کے اندر کچھ کر نے کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔
انھیں میں سے ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے جاں نثار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جذبۂ جانثاری، اطاعت و فرماں برداری کا بے مثال و لا زوال اور حیرت انگیز واقعہ ہے۔ شاید ہی اس سینہ گیتی پر تسلیم و رضا، ایثار و قربانی اور خلوص و محبت کا ایسا واقعہ کبھی رونما ہوا ہو، جملہ انبیاء کرام اپنی شان بندگی میں یکتا اور بے مثال تھے لیکن اس میں شک نہیں کہ مقتدر اعلٰی اپنے نیک بندوں کو بعض اعمال کے ذریعہ آزماتا ہے؛ مگر واقعہ یہ ہے ۱۰ ذی الحجہ کی صبح تھی حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کے پاس تشریف لائے اور حکم دیا لخت جگر اسماعیل کو تیار کرو حضرت ہاجرہ علیہاالسلام نے بیٹے کو نہلا دھلا کر خوشبو لگائی اور تیار کر کے اپنے والد حضرت ابراہیم کے حوالے کر دیا حضرت ابراھیم علیہ السلام نے ان کا ہاتھ پکڑا باپ بیٹے چھری رسی لے کر جبل عرفات کی طرف چل پڑے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام ایک پہاڑ کے قریب پہنچے تب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل سے کہا “اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ تم کو میں ذبح کر رہا ہوں اب بتا تیری کیا رائے ہے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا ” اے ابا جان آپ کو جو حکم ملا ہے اس کو پورا کیجئے مجھے آپ ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے.
جب باپ بیٹے حکم الہی پر راضی ہو گئے تو باپ نے بیٹے کے حلقوم پر چھری رکھ دی۔ ماجرا یہ تھا کہ چھری کند ہو گئی۔ اس وقت اللہ کی جانب سے ندا آئی ” اے میرے محبوب پیغمبر (ابراہیم علیہ السلام) تونے خواب سچ کر دکھایا ہم نیک لوگوں یونہی جزا دیتے ہیں بیشک یہ صاف آزمائش ہے ہم نے اس کا فدیہ ذبح عظیم کے ساتھ کر دیا اور اسے بعد والوں میں باقی رکھا” حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے یاد گار کے طور پر قیامت تک باقی رکھااور اس عمل کو عظیم عبادت میں تبدیل کیا اب ہر سال اسی کی یاد کو تازہ کیا جاتا ہے۔
یہ ایک ایسی جاں گسل اور سخت ترین آزمائش تھی، جس نے انس و جن کیا نباتات و جمادات تک کو آنسو بہانے پر مجبور کر دیا، پھر بدلے کے طور پر اللہ رب العزت نےآپ علیہ السلام کو خدا دوستی اور مقام خلیلیت سے سر فراز فرمایا۔
یہاں سوچنے بات یہ ہے کہ در اصل حقیقی مسلمان وہ ہے جو اللہ کی محبت میں اپنی تمام نفسانی خواہشات کو قربان کر دے۔اس لیے ہمیں بھی من مانی زندگی چھوڑ کر رب کریم کی چاہی زندگی گزارنی چاہئے جو کہ انبیاء، صحابہ، تابعین و صالحین نے گزاری ہے؛ کیوں کہ اسی میں نجات ہے ورنہ عذاب الیم راہ دیکھ رہا ہے۔
بہر کیف! حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں آزمائش کا یہی ایک عظیم واقعہ نہیں ہے بلکہ ان کی پوری زندگی ابتلاء وآزمائش سے دوچار رہی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ذی الحجہ کی دس راتوں کی قسم کھائی ہے (و الفجر وليال عشر) جس سے معلوم ہوا کہ ذی الحجہ کا ابتدائی عشرہ اسلام میں خاص اہمیت کا حامل ہے وہ اس لئے کہ حج کا اہم رکن اسی عشرہ میں ادا کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم کو حاصل کرنے کے خاص ایام ہیں۔

الغرض رمضان کے بعد ان ایام میں روزہ رکھیں اور ذکر و اذکار اور قربانی کریں احادیث میں ان ایام عبادت کرنے کے خصوصی فضائل وارد ہوئے ہیں۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں نیک عمل اللہ کے یہاں ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو۔ (بخاری)
مدینہ منورہ میں جب نبی کریم ﷺ کی آمد ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اہل مدینہ دو دن دُف بجاتے ہوئے کھیل کود کرتے ہیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیا ہے انہوں نے جواب دیا کہ یہ زمانہ جاہلیت کی دو عیدیں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان سے بہتر اور افضل عیدیں عید الفطر اور عید الاضحی عطا فرمائی ہیں جو دونوں عیدوں سے بہتر ہیں اور افضل و اعلیٰ ہیں
اللہ کے نزدیک سب سے افضل اور بہترین دن یوم النحر (عید الاضحی) ہے حدیث مبارکہ کی روشنی میں یوم عرفہ، یوم النحر، اور ایام تشریق ہم اہلِ اسلام کے عید کے دن ہیں اور یہ سب کھانے پینے کے دن ہیں
قرآن مقدس میں ارشاد ربانی ہے(فصل لربك والنحر) “تو تم اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو”
اس آیت مبارکہ سے بات بالکل واضح ہیکہ قربانی ایک اہم اور مالی عبادت بھی ہے اور شعار اسلام سے ہے حضور اقدسﷺ نے ہجرت کے بعد دس سال تک مدینہ منورہ میں قیام فرمایا اور ہر سال قربانی کیا کرتے تھے جس سے معلوم ہوا کہ قربانی صرف مدینہ طیبہ یا مکہ معظمہ کے لئے مخصوص نہیں بلکہ ہر اس شخص پر واجب ہے جو صاحب نصاب ہے چاہے وہ کہیں بھی رہتا ہو اس پر قربانی واجب ہے۔
ایک موقعے پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا تمہارے باپ ابراھیم علیہ السلام کی سنت ہیں لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے اس میں کیا ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر بال کے بدلے نیکی ہے۔ (ابن ماجہ)
ایک دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے۔ “اللہ کے یہاں تمہاری قربانیوں کا نہ گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اس تک تمہاری پرہیز گاری پہنچتی ہے اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے تابع اور فرمانبردار بنا دیا اس بات کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت بشخی ہے اس برائی بیان کرو ایے پیغمبر! نیک لوگوں کو خوشخبری سنا دیجئے”
ان آیات کریمہ میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ قربانی کا مقصد کیا ہونا چاہئے اور ایک مسلمان کو قربانی کس نیت سے کرنی چاہئے اگر قربانی اخلاص اور اللہ سے محبت کے ساتھ کی جائے تو اتنا ہی ثواب ملے گا یہ اصول صرف قربانی کے لئے نہیں بلکہ نماز، روزہ، زکوٰۃ، اور حج یعنی ہر عمل کے لئے ہے لہذا ہمیں ریا کاری اور دکھاوے سے بچتے ہوئے خلوص اور اللہ کی رضا مندی کے لئے اعمال صالحہ کرنا چاہئے عید قرباں ہمیں محبت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کے اندر دینی اور ایمانی جذبہ پیدا فرمائے اور اللہ تعالیٰ کا جو بھی حکم ہمارے سامنے آئے اس پر خوشی کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اللہ رب العزت امت مسلمہ کو عید قرباں کے اس پر مسرت موقع پر اخوت و بھائی چارگی اور الفت و محبت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔

عید الاضحی کا پیغام امت مسلمہ کے نام
محمد افضل ندوی،الھدی اردو لائبریری،چک پہاڑ سمستی پور

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں