اہم خبریںبہارپٹنہحاجی پور، ویشالیکھگڑیامشرقی چمپارنمظفر پورمغربی چمپارن

طلبہ کا بند کامیاب، جگہ جگہ احتجاج، ریلوے بورڈ کی فیصلے میں تبدیلی کی یقین دہانی

  • بہار میں ریلوے بورڈ کے فیصلے کے خلاف طلباء نے طاقت کا مظاہرہ کیا

پٹنہ ،29 جنوری (قومی ترجمان) : ریلوے بھرتی بورڈ ( آرآر بی ) کے حالیہ دو فیصلوں کے خلاف جمعہ کوطلبہ کی جانب سے "بہار بند” کو نہ صرف زبردست حمایت ملی بلکہ یہ بڑی حد تک کامیاب رہا، کیوں کہ بڑی تعداد میں طلبہ اوران کے مطالبات کی حمایت کرنے والے سیاسی لیڈران و کارکنان احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے تھے جس کی وجہ سے پوری ریاست میں کئی شہروں میں چکہ جام جیسی صورتحال تھی ۔ یہاں پٹنہ یونیورسٹی کے آس پاس طلبہ نے مظاہرہ کیا جبکہ وہ مظاہروں کے لیے معروف ڈاک بنگلہ چوراہے پر بھی بڑی تعداد میں جمع ہوئے ۔اسی طرح انکم ٹیکس چوراہا اور ویر چند پٹیل مارگ پر بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔

ویر چند پٹیل مارگ پر حکمراں اتحاد این ڈی اے کی دو اہم جماعتوں بی جے پی اور جے ڈی یو کے ساتھ ہی حزب اختلاف آر جے ڈی اور این سی پی کے ریاستی دفاتر ہیں ۔ طلبہ نے اپنی طاقت اور اتحاد کا مظاہرہ کیا طلبہ کا مظاہرہ اگر چہ کامیاب رہا ، تاہم زیادہ تر جگہوں پر تشدد سے پاک رہا ۔ اس دوران پولیس نے بھی طاقت کا استعمال کرنے سے گریز کیا ۔

پٹنہ کے راجندرنگر میں جہاں منگل کو تشدد پھوٹ پڑا تھا اور گیا میں جہاں ریلوے کی متعدد بوگیوں کو آگ کے حوالے کر دیا گیا تھا ، سے بھی تشدد کی کسی بڑی واردات کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ گیا میں ٹرینوں کی آمدورفت تقریبا معمول پر رہی۔البتہ دربھنگہ میں ٹرینوں کو روکا گیا جس سے ریلوے کی خدمات بڑی حد تک متاثر ہوئیں ۔اسی طرح بھاگلپور میں دانا پور انٹرٹی کو روکنے سے مسافروں کو پریشانی ہوئی ۔ صبح سے لے کر دو پہر تک زیادہ تر مظاہرین ریلوے ٹریک کے بجائے سڑکوں اور چوک چوراہوں پر احتجاج کرتے نظر آئے لیکن جیسے جیسے دن چڑھتا گیا ، کچھ مظاہرین نے ریلوے ٹریک کا بھی رخ کیا ۔ نتیجہ کے طور پر پٹنہ کے باڑھ علاقے میں ریلوے ٹریک کو جام کر دیا گیا ۔ ادھر مشرقی چمپارن ، مغربی چمپارن ، مظفر پور ، سیتامڑھی ، مدھوبنی ، سہرسہ ، مدھے پورہ سپول کھگڑیا ، سیمانچل ، جہان آباد ، سہسرام اور دیگر اضلاع میں بند کا خاصا اثر دیکھنے کوملا ۔

اپوزیشن جماعتوں نے حمایت کی

پہلے سے بے روزگاری اور مہنگائی کے سوال پر ریاستی اور مرکزی حکومت کو گھیر نے کے لئے تیار اپوزیشن جماعتوں نے طلبہ کے بند کی حمایت کر کے مرکز کے لئے کافی مشکل پیدا کردی۔اس کے لیے باضابطہ آرجے ڈی کے ریاستی دفتر میں کانگریس سمیت مہا گٹھ بندھن کی سبھی جماعتوں نے پریس کانفرنس کی۔اس کے علاوہ حکمراں اتحاداین ڈی اے میں شامل ہندوستانی عوام مورچہ بھی طلبہ کے ساتھ ہو گیا ۔

ریلوے بورڈ نے فیصلے میں تبدیلی کی یقین دہانی کروائی

ادھر وزیر اعظم نریندرمودی کی مداخلت کے بعد ریلوے بھرتی بورڈ یعنی آرآر بی نے اپنے فیصلوں میں تبدیلی کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ بتایا گیا کہ این ٹی پی سی امتحان کے نتائج میں مزید ساڑھے تین لاکھ امیدواروں کو کامیاب قرار دیا جاۓ گا ، اس کے علاوہ گروپ ڈی کے لیے جو دو امتحانات لینے کا فرمان جاری ہوا تھا ، اس کو بھی کالعدم کرتے ہوۓ پہلے کی مانند صرف ایک امتحان لیا جائے گا۔آرآر بی اور وزرات ریلوے کی طرف سے ابھی اس سلسلے میں مکتوب جاری نہیں ہوا ہے اس لئے طلبہ کو یقین دہانی پر بھروسہ نہیں ہوا اور انہوں نے بندمنا کر اپنا مطالبہ ایک مرتبہ پھر دہرایا ۔

پولیس اور انتظامیہ کے سخت انتظامات امتحان کے نتائج سے ناراض امیدواروں کی جانب سے جمعہ کوریاست گیر بند کو دیکھتے ہوئے ریاستی پولیس ہیڈ کوارٹرس کی جانب سے سیکور بیٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے تھے ۔ دارالحکومت پٹن سمیت تمام اضلاع کے حساس اور عوامی مقامات کے ساتھ ہی اہم چوک چوراہوں پر جوڈیشل مجسٹریٹ کی قیادت میں اضافی پولیس فورس کو تعینات کیا گیا تھا ۔ متعدد شہروں کے گوشے گوشے پر پولیس کے جوان صبح سے ہی نظر رکھ رہے تھے ۔

ریلوے کو کسی طرح کا نقصان نہ ہو اس کے لئے تمام اسٹیشنوں پر ریلوے سیکورٹی فورس کے ساتھ ہی مقامی پولیس بھی مستعد نظر آرہی تھی ۔اس دوران پٹنہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں امیدواروں کی حمایت میں بند کی اپیل کرتے ہوۓ آر جے ڈی کے کارکنان سڑک پر اترے تھے ۔

پٹنہ کے نوبت پور اور دانا پورسب ڈویژن کے ناصری گنج میں کارکنان نے ٹائر اور ٹیوب جلا کر پٹنہ ، دیگھا داناپورشاہراہ کو پوری طرح سے جام کر دیا ۔ انہوں نے مرکزی حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی ۔ جام کی وجہ سے دانا پور کی سڑکوں پرلوگوں کو آنے جانے میں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

آر جے ڈی لیڈران اور کا کنارن نے دارالحکومت کے ویر چند پٹیل واقع پارٹی دفتر کے باہر سڑک پر ٹائر جلا کر گاڑیوں کی آمد ورفت کو متاثر کر دیا ۔ اس کے بعد مرکزی حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی ۔ بند حامیوں نے ہٹلر شاہی نہیں چلے گی ، مودی شاہی نہیں چلے گی کے نعرے لگائے ۔

آر جے ڈی لیڈران نے کہا کہ روزگار کا مطالبہ کررہے امید واروں پر لاٹھی چارج کیا گیا اور آنسوگیس کے گولے داغے گئے ۔ان کے خلاف فرضی مقدمات دائرے کئے گئے ۔ ان کی پارٹی بے روزگاروں کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے۔اس بند کا مقصد عوام کے روزی اور روزگار کے مسائل کو اٹھانا ہے ۔

ادھر سابق رکن پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پو یادو کی جن ادھیکاری پارٹی کے کارکنان نے دارالحکومت کے اشوک راج پتھ پر زور دار ہنگامہ کیا ۔ ہاتھوں میں بینر ، پوسٹ لیکر پارٹی کارکنان نے سڑکوں کو جام کر دیا۔اشوک راج پتھ جام ہونے سے مشرقی پن اور گاندھی میدان کی جانب سے آنے والی گاڑیوں کی آمد ورفت متاثر رہی ۔ مظاہرین کی جانب سے گھوم گھوم کر بازار اور دکان بند کرانے سے لوگ خائف نظر آئے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button